فرحت اللہ بابر کی کتاب ‘دی زرداری پریزیڈنسی’ تنقید کی زد میں کیوں ؟

سابق صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کی حال ہی میں شائع کتاب "دی زرداری پریزیڈنسی” حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے الزام کے بعد تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کتاب آصف زرداری کی پہلی مدت صدارت کے دوران پیش آنے والے واقعات پر لکھی گئی ہے۔
ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق فرحت اللہ بابر نے کتاب میں تاریخی حقائق مسخ کرنے کے علاوہ ایسے واقعات پر بھی طبع آزمائی کی ہے جن کے بارے میں انہیں سرے سے علم ہی نہیں تھا۔ ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب میں کئی جگہ تو باقاعدہ لطیفے تحریر کیے ہیں جنہیں پڑھ کر ہنسی نہیں رکتی۔ مثال کے طور پر موصوف ایک جگہ لکھتے ہیں کہ صدر آصف زرداری نے مسلح ہو کر پاکستان سے دبئی کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار ہو گئے، لیکن انہیں دبئی میں لینڈنگ کی اجازت نہ ملی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ صدر کبھی مسلح نہیں ہوتے بلکہ ان کا سیکیورٹی سٹاف مسلح ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد سے دبئی تک کا سفر ممکن ہی نہیں اور ایسے سفر کے لیے ہمیشہ جہاز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب کو متنازعہ بنا کر زیادہ سے زیادہ فروخت کرنے کے لیے ایسے لطیفے تحریر کیے ہیں۔ لیکن اس عمل نے ان کی اور ان کی کتاب کی ساکھ کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔
مصنف نے کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ وہ صدر کے قریبی حلقے میں شامل نہیں تھے، تاہم صدارتی ترجمان کی حیثیت سے انہیں غیر معمولی حد تک باخبر رکھا جاتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں یقین نہیں تھا کہ زرداری اپنی آئینی مدت پوری کر سکیں گے، لیکن انہوں نے حالات کا سامنا نہایت صبر و تحمل سے کیا۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق آصف زرداری کو ان گناہوں کی سزا ملی جو انہوں نے کیے ہی نہیں تھے۔
پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب ’’دی زرداری پریزیڈنسی‘‘ میں لکھا ہے کہ اگرچہ صدر آصف زرداری اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی نہیں تھے، لیکن انہوں نے جرنیلوں کو مطمئن رکھنے کے لیے کافی کوششیں کیں۔ انہوں نے بطور صدر آرمی چیف اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا کی سروس میں توسیع کی تاکہ انہیں اپنے ساتھ رکھا جا سکے۔ لیکن اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے آصف زرداری کی حکومت کو میمو گیٹ سکینڈل میں الجھا دیا۔ فرحت اللہ بابر کی کتاب میں لکھا ہے کہ تب کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پیپلزپارٹی کی حکومت سے منظوری لیے بغیر چند لیفٹیننٹ جنرلز کو عہدوں میں توسیع دیدی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اس سے لاعلم تھے۔ لیکن صدر زرداری نے اس معاملے پر کیانی سے سوال کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔
سابق صدارتی ترجمان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جنرل اشفاق کیانی کو اپنی مدت ملازمت میں توسیع بارے بھی علم نہیں تھا کہ ایسا کس کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ یاد ریے کہ ان کی توسیع کا اعلان تب کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر کیا گیا تھا، اسلئے کئی لوگ یہ سمجھے کہ دونوں واقعات کا آپس میں تعلق ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق اس معاملے پر میری جب بھی صدر زرداری سے گفتگو ہوئی وہ خاموش رہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی کیونکہ زرداری اکثر فیصلے بغیر مشاورت کے کرتے تھے۔ بعض اوقات تو بلاول بھی حیران ہو جاتے تھے۔
فرحت بابر لکھتے ہیں کہ جنرل کیانی ان افواہوں سے پریشان تھے کہ امریکی حکومت کی درخواست پر ان کی مدت ملازمت میں توسیع دی جا رہی ہے۔ عارف نظامی نے فرحت اللہ بابر کو بتایا کہ کیانی نے انہیں ذاتی طور پر فون کرکے درخواست کی کہ ایسی رپورٹس شائع نہ کی جائیں۔ اس کے باوجود یہ معاملہ زیر بحث رہا اور پھر توقعات کے مطابق، کلنٹن کا دورہ ختم ہونے کے فوراً بعد، کیانی کی ملازمت میں توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا۔
فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر زرداری نے ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اسے ایک جرات مندانہ فیصلہ قرار دیا، جبکہ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار اس توسیع کے مخالف تھے۔ لیکن آصف زرداری کے قریبی حلقے فرحت اللہ بابر کے اس دعوے کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ وہ ان دعووں کو جھوٹ کا پلندہ اور تاریخ مسخ کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا نے اپنے عہدوں میں توسیع لینے کے لیے زرداری حکومت کو میمو گیٹ سیکنڈل میں الجھا دیا تھا۔ انہوں نے تب کے اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا جو میمو گیٹ کیس کی سماعت کے دوران خود کالا کوٹ پہن کر فوجی قیادت کے ساتھ سپریم کورٹ میں بطور پٹیشنز پیش ہوا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ اس واقعے سے بہت سال پہلے نواز شریف نے لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت سائن کیا تھا جس کے تحت دونوں رہنماؤں نے کبھی فوجی قیادت کے ہاتھوں کھلونا نہ بننے کا عہد کیا تھا، لیکن میاں نواز شریف یہ عہد بھول گئے۔
فرحت اللہ بابر کے ساتھ میری”جَلن”
فرحت اللہ بابر کی کتاب کے سب سے نمایاں چیپٹرز میں میمو گیٹ سکینڈل شامل ہے، جسے مصنف نے آصف زرداری کی ذات پر خود کش حملہ قرار دیا ہے۔ اس حملے میں تب کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف کا کردار بھی نمایاں کیا گیا ہے جو پہلے کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں بطور پٹیشنر پیش ہوتے رہے اور بعد میں اس پورے قضیے کو ایک غلطی کے طور پر تسلیم کیا۔ فرحت اللہ بابر کے بقول اس غلطی کا خمیازہ صرف آصف زرداری نے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان نے بھگتا۔
فرحت اللہ بابر نے کتاب میں آصف زرداری کی استقامت اور جرات کی تعریف بھی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ صدر زرداری نے خارجہ پالیسی کے کئی اہم محاذوں پر خود قوم کی قیادت کی۔ انہوں نے نہ صرف بھارت کے ساتھ جوہری پالیسی پر واضح موقف اپنایا بلکہ سعودی عرب اور ایران جیسے علاقائی حریفوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس خارجہ پالیسی کے بعض پہلوؤں پر سخت ردعمل سامنے آیا، مگر زرداری نے اپنی پوزیشن پر استقامت کا مظاہرہ کیا۔
