9مئی کو دھول اڑانےوالےآج دھول بٹھانےکی باتیں کررہےہیں،عطاتارڑ

وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑنےبیرسٹرگوہر کےقومی اسمبلی میں خطاب پر ردعمل میں کہا کہ 9مئی کودھول اڑانےوالےآج دھول بٹھانےکی باتیں کررہےہیں۔
وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ گولی چلی ہےتوثبوت سامنےکیوں نہیں لاتے؟، دوڑ کیوں لگائی؟موقع سےبھاگنےوالےبہانےبنارہےہیں۔تحریک انتشار گولی چلنے ا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ غلیلوں، بنٹوں، پتھروں، اسٹن گنز اور آتشیں اسلحہ سے لیس شرپسندوں نے26 نومبر کو وفاق پرچڑھائی کی، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو شہید اورزخمی کیا، اس نقصان کا مداوا کون کرے گا؟
عطا اللہ تارڑ نے کا کہنا تھا کہ شہید جوانوں کا خون کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں؟ تحریک انصاف کے پاس گولی چلنے کا کوئی ایک ثبوت ہے تو سامنے لائے، پرتشدد سیاست اور پرتشدد احتجاج پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے، پی ٹی آئی اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب دے، الزامات لگا کر ان سے منہ مت پھیریں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سانحہ 9 مئی کے تمام ثبوت موجود ہیں، تحریک انصاف کی پوری قیادت سانحہ 9 مئی میں ملوث ہے۔
واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ 9 مئی کی دھول کو بیٹھنا چاہیے، ایوان سے انصاف لینا چاہتے ہیں، ایوان ہمیں انصاف دے، دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا کہ آپ کہتے ہیں گولی نہیں چلی، بندے مرے ہیں، ہم اپنے خاندان کے خاندان اجاڑ کر رکھ چکے ہیں، ہم پختون کارڈ نہیں کھیلتے لیکن ہر پختون باپ نے اپنے بیٹے کا جنازہ اٹھایا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ پختونوں میں ایک گولی چلتی ہے تو نسلیں اسے یاد رکھتی ہیں، اگر آپ صرف ان لوگوں کا مداوا کردیتے، پہلے بھی تو ایسا ہوا ہے، آفتاب شیرپاؤ کے دور میں نفاذ شریعت کی تحریک میں گولی چلی، 8 بندے مرے، پرچہ درج ہوا، سب کے گھروں میں جاکر معافی مانگی گئی، سب نے کہا ہم نے معاف کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیا، خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت ہے مگر ساری عوام تو تحریک انصاف کی نہیں ہے، ساری اقوام اور ہر مذہب کا بندہ وہاں رہتا ہے، ہر سیاسی جماعت کے لوگ موجود ہیں، کیا وہاں کی حکومت ان لوگوں پر گولیاں چلائے؟ ہم نے تو ایسا نہیں کیا، ہم دو الیکشن ہارے مگر آپ کی طرح دھاندلی نہیں کی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو پشاور سے اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کے شرکا کو 26 نومبر کی شب وفاقی دارالحکومت میں پولیس اور فورسز کے اہلکاروں سے جھڑپ کے بعد شہر اقتدار سے نکال دیا گیا تھا، اس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت پر مظاہرین کے ’قتل عام‘ کا الزام لگایا تھا، تاہم حکومت ان الزامات سے انکار کرتی آئی ہے۔
وفاقی حکومت کے علاوہ آئی جی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی نے پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے 2 پولیس اہلکار شہید اور سیکڑوں اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی تھیں، سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
