چلغوزوں کے جنگلات جلنے سے ہزاروں افراد بے روزگار

خیبر پختونخوا کے علاقے شیرانی میں چلغوزوں کے جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے درختوں کو تباہ کرنے کے علاوہ ہزاروں مقامی افراد کا روزگار بھی چھین لیا ہے۔ گزشتہ برس چلغوزوں کی فروخت سے مقامی تاجروں نے ساڑھے تین ارب روپے کمائے تھے لیکن اس برس جنگلات میں مچنے والی تباہی نے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق جنگلات میں لگنے والی آگ نے علاقے میں رہنے والے ہزاروں افراد کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ چھین لیا ہے، ایف اے او گزشتہ 4 سال سےعالمی ماحولیاتی سہولت پر کام کر رہا ہے تاکہ چلغوزے کے جنگلات کا تحفظ کیا جائے اور مقامی افراد کیلئے نٹ پروسیسنگ متعارف کروا کر اس میوے کی قدر میں اضافہ کیا جائے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق 31 کلومیٹر رقبے پر پھیلے چلغوزے کے قیمتی جنگلات بُری طرح جل گئے ہیں، ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی محکمہ جنگلات آگ لگنے کے بعد سے ان قیمتی اور منفرد جنگلات کو بچانے کیلئے انتھک محنت کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی آگ کو بجھانے کے لیے کوئی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے تھے۔ شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ جیسے ہی بے قابو ہوئی تو فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے اس حوالے سے تکنیکی مشورہ دینے کیساتھ جنگلات کو آلات اور سامان فراہم کرنے کی بھی کوشش کی جس کے بعد ٹپوگرافی، ہوا کی سمت، رفتار اور موسمیاتی پیشن گوئی کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو تجویز دی گئی کہ خندقیں کھودنے کے روایتی طریقے استعمال کیے جائیں۔
ایف اے او کا کہنا ہے کہ یہ جنگلات منفرد ہیں کیونکہ یہ نایاب جنگلی جانوروں کا گھر بھی ہیں اسکے علاوہ یہ جنگلات 90 فیصد مقامی کمیونٹی کے لیے ذریعہ معاش بھی ہیں اور مقامی نباتات اور حیوانات کی پرورش بھی کرتے ہیں، اب چونکہ جنگل کی آگ تقریباً ختم ہو چکی ہے، اگلا فوری قدم نقصان کا تخمینہ لگانا اور بحالی کا منصوبہ تیار کرنا ہے جو فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔
سپیکر کی حکم عدولی پر سپریم کورٹ کیا کر سکتی ہے؟
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق یہ بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جنگلات کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے شراکت داروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے اس ہفتے کے شروع میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر اجلاس منعقد کیا، دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کی وزارت بھی جائزہ لینے کے کام کا آغاز کر چکی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حکام چلغوزوں کے جنگلات کو بحال کرنے میں کتنی پھرتی دکھاتے ہیں تاکہ مقامی افراد کے روزگار کا جلد از جلد بندوبست ہو سکے۔
