زینب عباس کا بھارتی انتہا پسندوں سے ڈرنے کا اعتراف

ورلڈ کپ میں شریک پاکستانی پریزینٹیٹر زینب عباس نے انکشاف کیا کہ انہیں بھارت سے ڈٰی پورٹ کیا گیا نہ ہی کسی نے بھارت چھوڑنے پر مجبور کیا بلکہ وہ اپنے خلاف چلنے والی آن لائن مہم سے ڈر گئی تھیں جس پر بھارت سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں زینب عباس نے کہا کہ مجھے نہ تو وہاں سے جانے کا کہنا تھا اور نہ ہی مجھے ڈی پورٹ کیا گیا تاہم میں نے خوف محسوس کیا اور آن لائن شروع ہونے والے ردعمل پر ڈر گئی تھی، میری سلامتی کا بھی کوئی خطرہ نہیں تھا جو پوسٹ گردش کر رہی تھی اس سے ہونے والی دل آزاری کو سمجھتی ہوں اور انتہائی معذرت خواہ ہوں، میں وضاحت کرنا چاہتی ہوں کہ وہ بیان میرے اقدار یا جو میں آج ہوں اس کا مظہر نہیں ہے، اس طرح کی زبان کی کوئی گنجائش یا جگہ نہیں ہے اور جس کسی کو برا لگا ہے ان سے دلی معذرت کر رہی ہیں۔زینب عباس کی جانب سے بھارت چھوڑنے کے بعد مقامی میڈیا کے مخصوص حلقوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا جبکہ دوسری رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا ہے تاہم ان دعووں کی اب زینب عباس نے تردید کردی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وکیل نے مطالبہ کیا تھا کہ زینب عباس کو جاری ورلڈ کپ کے پریزنٹرز کی فہرست سے خارج کردیا جائے اور دعویٰ کیا تھا کہ بھارت مخالف لوگوں کا یہاں خیرمقدم نہیں کیا جاتا۔ دو روز بعد 7 اکتوبر کو ونیت نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری جے شاہ کو لکھا گیا خط بھی ٹوئٹ کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھارت مخالف بیان پر پریزینٹر کے خلاف کارروائی کی جائے۔زینب عباس کے مطابق مجھے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن بارڈر کے دونوں اطراف میرا خاندان اور دوست میرے لیے فکرمند تھے، صارفین نے اُن کی انڈیا مخالف اور ہندو مذہب سے متعلق قابلِ اعتراض پرانی ٹویٹس بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دی تھیں۔زینب عباس نے اپنی پُرانی ٹوئٹس کے حوالے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’میں سمجھتی بھی ہوں اور مجھے شدید افسوس بھی ہے اُس تکلیف کا جو میری گردش کرنے والی پوسٹ کی وجہ سے پہنچی، ایسی زبان کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ ہی گنجائش ہے اور میں معافی مانگتی ہوں سب سے جنہیں اس سے تکلیف پہنچی۔