غزہ میں جنگ بندی کیلئےحماس یرغمالیوں کورہاکرے،ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کاکہناہے کہ غزہ میں جنگ بندی کیلئے کام کررہے ہیں مگر پہلےحماس یرغمالیوں کوفوری رہاکرے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے وجود کا مقصد کیا ہے، یہ ادارہ اپنی استعداد کام کے مطابق کام نہیں کررہا، سات ماہ میں سات جنگیں رکوائیں، غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں، روس یوکرین جنگ نہیں روکتا تو ٹیرف عائد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل، گذشتہ انتظامیہ کے تحت امریکا شدید مشکلات کا شکار تھا، میرے عہدہ صدارت سنبھالنے کے صرف آٹھ ماہ بعد حالات تبدیل ہوگئے، اور اب امریکا دنیا کا پسندیدہ ترین ملک ہے۔

امریکی صدرنے کہا کہ بائیڈن انتطامیہ سے ہمیں معاشی بربادی ورثے میں ملی، مگر آج امریکی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشت اور ہماری فوج دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے، اور یہ درحقیقت امریکا کا سنہرا دور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میری لیڈرشپ میں امریکا میں مہنگائی کم ہوئی ہے اور افراط زر کو شکست دی جاچکی ہے، اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلندیوں پر ہے اور کارکنان کی تنخواہیں 60 سال میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکامیں غیرقانونی طور پر آنے والوں کے راستے بند ہوچکے ہیں اور ان کی آمد صفر ہوگئی ہے جبکہ بائیڈن کی پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں لاکھوں لوگ غیرقانونی طور پر امریکا آرہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ  نے مزید کہا کہ سات ماہ کے عرصے میں میں نے نہ ختم ہونے والی سات جنگیں ختم کروائیں، ان میں سے دو جنگیں 31 سال سے چلی آرہی تھیں، افسوس ہوا کہ اقوام متحدہ کے بجائے مجھےجنگیں بند کروانی پڑیں، میں نے پاک بھارت جنگ بند کروائی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگیں ختم کرانے پر اقوام متحدہ سے ایک فون کال بھی نہیں آئی، اقوام متحدہ کھوکھلے الفاظ سے جنگیں نہیں رکواسکتی۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے وجود کا کیا مقصد ہے، یہ ادارہ اپنے مقصد اور اپنی استعداد کار کے مطابق کام نہیں کررہا۔

ایران کے حوالے سےامریکی صدر نے کہا کہ بی ٹو طیاروں کے ذریعے ایرانی جوہری صلاحیت مکمل تباہ کردی تھی، ایران دہشتگردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے، اور ایٹم بم جیسا مہلک ترین ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ہم کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

 

Back to top button