ٹرمپ کی خواہش ادھوری، امن کا نوبیل ایوارڈ وینزویلا کی رہنما کے نام

اس سال کا نوبیل امن انعام 2025 وینزویلا کی ممتاز اپوزیشن لیڈر اور جمہوریت کی علمبردار ماریہ کورینا مچاڈو کو دے دیا گیا ہے۔
سوئیڈن کی رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ ماریہ کورینا کو ان کی "جمہوریت، انسانی حقوق، اور پرامن سیاسی انتقال اقتدار” کے لیے کی گئی جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔
نارویجن نوبیل کمیٹی کے مطابق، ماریا کورینا مچاڈو کو وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ، آمریت کے خلاف پرامن مزاحمت، اور آئینی عمل کے ذریعے جمہوریت کے فروغ میں کلیدی کردار پر یہ انعام دیا گیا۔
نوبیل پیس پرائز ہر سال اس شخصیت یا ادارے کو دیا جاتا ہے جس نے عالمی سطح پر امن، ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے، اور جنگوں کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔
نوبیل انعامات، سویڈن کے سائنسدان اور صنعتکار الفریڈ نوبیل کی وصیت کی روشنی میں دیے جاتے ہیں، جنہوں نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا تھا اور اپنی تمام دولت ایک ٹرسٹ کے سپرد کر دی تھی تاکہ ان انعامات کا سلسلہ جاری رہے۔ نوبیل انعامات کا آغاز 1901 میں ہوا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سات جنگوں کے خاتمے میں کردار ادا کیا ہے، اور وہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے سرگرم ہیں، اس لیے وہ اس انعام کے مستحق ہیں۔
ان کے اس مؤقف کی حمایت میں پاکستان نے پہل کرتے ہوئے 20 جون کو اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ نے پاک-بھارت کشیدگی کم کرنے میں جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ تحسین ہے اور اس بنیاد پر وہ نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں۔
بعد ازاں اسرائیل، کمبوڈیا، آرمینیا، اور آذربائیجان نے بھی ٹرمپ کی نامزدگی کی حمایت کی، مگر اس سب کے باوجود صدر ٹرمپ کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
