تہران میں حملوں کا الزام، کالعدم مجاہدین جماعت کے دو کارکنان کو سزائے موت

ایران میں ایم ای کے کے دو ارکان کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت پر عملدرآمد

ایرانی حکام نے کالعدم اپوزیشن گروپ مجاہدین خلق (ایم ای کے) سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو شہری انفرااسٹرکچر پر دیسی ساختہ راکٹ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پھانسی دے دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے میزان نے اتوار کو اطلاع دی کہ سزائے موت پانے والے افراد کی شناخت مہدی حسنی اور بہروز احسانی-اسلاملو کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں افراد ایم ای کے کے آپریشنل ونگ کے اہم ارکان تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے دارالحکومت تہران میں ایم ای کے قیادت کی ہدایت پر ایک ’ٹیم ہاؤس‘ قائم کیا تھا، جہاں انہوں نے ہینڈ ہیلڈ مارٹر اور راکٹ لانچرز تیار کیے۔ یہ اسلحہ شہری، تعلیمی، فلاحی، سروس اور انتظامی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

یوکرین معاملہ: اقوام متحدہ میں امریکا اور چین کے درمیان شدید لفظی جھڑپ

 

مزید برآں، دونوں افراد پر ایم ای کے کی حمایت میں پروپیگنڈا، معلومات اکٹھا کرنے اور دیگر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی ثابت ہوئے۔ ان کے خلاف ’محاربہ‘ (خدا اور ریاست کے خلاف جنگ)، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور عوامی املاک کی تباہی کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ایرانی سپریم کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی۔

نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، بہروز احسانی-اسلاملو کو 2022 میں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب ایران کی وزارتِ مواصلات و اطلاعات میں ہونے والے ایک دھماکے کی ذمہ داری ایم ای کے نے قبول کی تھی۔

مجاہدین خلق (ایم ای کے)، جسے انگریزی میں People’s Mujahedin Organization of Iran (PMOI) کے نام سے جانا جاتا ہے، 1970 کی دہائی میں ایک انقلابی بائیں بازو اور اسلام پسند گروپ کے طور پر ابھرا، جس نے شاہ ایران اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔ تاہم، 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ حکومت مخالف گروہ بن گیا، اور اس کی قیادت اب پیرس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہے۔ یہ گروپ 2012 تک امریکہ اور یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل تھا۔

Back to top button