یوکرین معاملہ: اقوام متحدہ میں امریکا اور چین کے درمیان شدید لفظی جھڑپ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کے تنازع پر امریکا اور چین کے مندوبین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
امریکا نے چین پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں روسی جارحیت کو فروغ دینے سے باز رہے۔ اس پر چین کے مندوب گنگ شوانگ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا الزام تراشی اور تنازع کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکا کی قائم مقام مندوب ڈورتھی شیا نے تمام ممالک، خصوصاً چین سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کو ایسی اشیاء کی ترسیل بند کریں جو اس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تقویت دے رہی ہیں۔
چین کے نمائندے نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ چین روس-یوکرین جنگ میں فریق نہیں اور نہ ہی بیجنگ نے کبھی کسی ایک ملک کو ہتھیار فراہم کیے ہیں۔
ٹرمپ نے تھائی لینڈ،کمبوڈیا میں جنگ بندی کی کوشش شروع کردی
چینی مندوب نے امریکا کو مشورہ دیا کہ وہ جھوٹے الزامات، دباؤ اور جھگڑا پیدا کرنے کی روش ترک کرے۔ روس کے تجارتی شراکت داروں کو امریکی دھمکیوں پر بھی چین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
اس سے قبل چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے واضح طور پر کہا تھا کہ بیجنگ غیرقانونی، یکطرفہ پابندیوں اور بیرونی دائرہ اختیار (extraterritorial jurisdiction) کو مسترد کرتا ہے۔
