امریکا و اسرائیل کی ایران کی تیل تنصیبات پر شدید بمباری

امریکا اور اسرائیل نے ایران کی اہم تیل تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں واقع آئل ڈپوؤں میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس سے آسمان پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران کے شمالی علاقے میں واقع شہران آئل ڈپو سمیت متعدد ایندھن ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر حملے کیے۔ حملوں کے بعد تیل کے ذخائر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور کئی گھنٹوں تک شدید آگ لگی رہی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد آگ کے بلند شعلے کئی کلومیٹر دور سے دیکھے جا سکتے تھے جبکہ دھوئیں کے گہرے بادلوں نے تہران کے آسمان کو ڈھانپ لیا۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق حملوں میں ان ایندھن ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ استعمال تھیں اور فوجی کارروائیوں کے لیے ایندھن فراہم کرتی تھیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے ایران کے فوجی ڈھانچے کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

مشرق وسطیٰ جنگ: سعودیہ کی پہلی بار ایران کو براہ راست جوابی کارروائی کی دھمکی

رپورٹس کے مطابق یہ حملے اس وسیع تر جنگ کا حصہ ہیں جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران میں مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر مشترکہ حملے کیے تھے۔ اس آپریشن کو بعض رپورٹس میں “آپریشن لائنز روئر” بھی کہا جا رہا ہے۔

اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے جس سے پورا مشرقِ وسطیٰ اس تنازع میں گھِر گیا۔

Back to top button