امریکہ کی پاکستان میں انڈین دہشت گردنیٹ ورک کی تصدیق

امریکہ نے پاکستان میں دہشتگردوں کی بھارتی سرپرستی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے خودکش ونگ "مجید بریگیڈ” کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرکے پاکستان کے طویل عرصے سے اٹھائے گئے تحفظات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والی بی ایل اے جیسی تنظیمیں نہ صرف دہشتگردی کو ہوا دے رہی ہیں بلکہ پاکستان کے امن، ترقیاتی منصوبوں بالخصوص سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔ امریکہ نے صرف بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندی نہیں لگائی بلکہ اس دہشتگرد تنظیم کی سرکوبی کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر مربوط کارروائیاں کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ امریکی اعلانات کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اقدام صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہیں گے یا واقعی اس سے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کی فنڈنگ کے ذرائع پر کاری ضرب لگے گی؟ کیا امریکی پابندیوں کے بعد بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری سے باز آ جائے گا؟
واضح رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کو متعدد دہشتگرد حملوں کے بعد سنہ 2019 میں خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم 2019 کے بعد بھی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے مزید حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ مجید بریگیڈ بی ایل اے کا خودکش ونگ ہے، کراچی میں چینی شہریوں پر حملے ہوں یا گوادر ایئر پورٹ پرتخریب کاری جعفر ایکسپریس پر حملہ ہو یا مسافر بسوں میں ٹارگٹ کلنگ۔ مجید بریگیڈ متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے تاہم اب امریکہ نے بی ایل اور مجید بریگیڈ پر پابندی لگا دی ہے۔۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے بیان کے مطابق بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ مجید بریگیڈ کو بی ایل اے کی ذیلی تنظیم کے طور پر عالمی دہشتگردوں کی خصوصی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ سابق سفارتکار عبدالباسط کے مطابق امریکہ کا یہ فیصلہ واضح اشارہ ہے کہ امریکا کو پاکستان کے خدشات کا ادراک ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب بھارت بلوچ دہشتگرد گروہوں کی مدد میں زیادہ محتاط ہو جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان میں امریکا کے بارے میں پائے جانے والے اس تاثر کو بھی کم کرے گا کہ امریکا بلوچستان کو غیر مستحکم کرکے سی پیک کو ختم کرانا چاہتا ہے۔
امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان بلکہ امریکا کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو تقویت ملے گی۔انہوں نے کہاکہ مجید بریگیڈ بی ایل اے کا فوجی دستہ ہے جس کے ذریعے بھارت پورے پاکستان میں کراچی گوادر سے لے کر شمالی علاقہ جات تک دہشتگرد کارروائیاں کررہا تھا اور اِس لحاظ سے یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی سفارتی فتح ہے۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے امریکا پاکستان کی صرف سفارتی حمایت تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا آپریشنل آرم بھی اِس ضِمن میں حرکت میں آئے گا۔مسعود خان کے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ اس کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی ان تنظیموں کو ممنوعہ قرار دلوانے کی کوشش کرے اور بھارت کے کردار کو بے نقاب کرے۔ دوسری جانب سابق سفیر مسعود خالد کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ان تنظیموں کے لیڈرز پر سفری پابندیاں اور مالی لین دین پر قدغن لگانا ممکن ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ منی لانڈرنگ کے راستوں پر بھی مزید نگرانی بڑھے گی، جو ان گروہوں کی فنڈنگ کو کمزور کردے گی۔
مبصرین کے مطابق بی ایل اور مجید بریگیڈ پا پابندی بارے امریکی فیصلہ بھارت کے لیے ایک کھلا پیغام ہیں کہ بھارت کی جانب سے اب پراکسی نیٹ ورکس کی کھلی مدد کا دور ختم ہونے جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارت جس راستے سے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں دہشتگردی کی آگ بھڑکاتا رہا ہے، وہ راستہ یا تو بند ہو گا یا اس قدر تنگ کر دیا جائے گا کہ اس پر قدم رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ امریکی پابندی کے بعد اب دہشتگرد گروہوں کی فنڈنگ، اسلحے کی ترسیل اور نقل و حرکت پر ایسا عالمی شکنجہ کسا جائے گا جو ان کے خفیہ نیٹ ورکس کا گلا گھونٹ دے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ اقدام پاکستان کے عالمی مؤقف کو نہ صرف تقویت دے گا بلکہ دنیا کو یہ واضح پیغام بھی دے گا کہ پاکستان اپنے دشمنوں کی چالوں کو بے نقاب کرنے اور ان کے ہاتھ کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس موقع کو کس طرح بھارت کے خلاف ایک مکمل سفارتی اور سیاسی حملے میں بدلتا ہے
دفاعی ماہرین کے مطابق بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندی بارے امریکی فیصلہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے، بھارت کے خلاف مضبوط مقدمہ عالمی فورمز پر لے کر جائے، اور خطے میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر عالمی تعاون کو فروغ دے۔ اب یہ پاکستان کی سفارتی مہارت اور سیاسی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس سنگ میل کو کس طرح ایک پائیدار کامیابی میں بدلتی ہے۔
