امریکی صدر ٹرمپ نے عمران کے عاشقان کو کیسے ٹھینگا دکھایا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ میرے بار بار سمجھانے کے باوجود کپتان کے عاشقان یہ غیر حقیقی امید لگائے بیٹھے تھے کہ صدر ٹرمپ اقتدار سنبھالتے ہی سارے کام چھوڑ کر پاکستانی حکومت کو عمران خان کی رہائی کا حکم دیں گے۔ لیکن اب صدر ٹرمپ نے بیچارے یوتھیوں کی تمام امیدیں کھلے عام توڑ ڈالی ہیں۔

 اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں عاشقان عمران کو نہایت خلوص اور عاجزی سے سمجھاتا رہا کہ ریاستوں کے دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات طویل المدت مفادات پر مبنی ہوتے ہیں اور پاکستانی ریاست 1950ء کی دہائی سے امریکی ریاست کی اتحادی ہونے کی حد تک ’’دوست‘‘ بن چکی ہے۔ پاکستان میں جمہوری نظام کو مضبوط ومستحکم بنانا ان دو ممالک کے مابین دوستی کا اصل سبب نہیں۔ اسکا کلیدی مقصد صرف اور صرف امریکہ کے دفاعی مفادات ہیں۔

سرد جنگ کے دنوں میں امریکی ترجیح کمیونزم کے فروغ کو روکنا تھا۔ ’’سرد جنگ‘‘ 1980 کی دہائی میں ’’افغان جہاد‘‘ کی صورت ’’گرم‘‘ ہوئی۔ اس گرمی کو فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے امریکہ کے ایما پر یکی کرتے ہوئے بھڑکائے رکھا اور معاملہ سوویت یونین کے ٹوٹنے تک جا پہنچا۔ روس کی افغانستان میں شکست کے بعد وہاں موجود ’’دہشت گرد‘‘ امریکی ریاست کا دردِ سر بن گے۔ ان کے خلاف جنگ کا فیصلہ ہوا تو اس کی قیادت بھی جمہوری طورپر منتخب کسی پاکستانی رہ نما کو نصیب نہ ہوئی۔ فوجی آمر جنرل مشرف ’’روشن خیال‘‘ بن کر اسکے قائد اور امریکہ کے پکے اتحادی بنے ہیں اور اسی وجہ سے دس سال برسر اقتدار بھی رہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ 21 برسوں تک افغانستان پر قابض رہنے کے باوجود بالآخر وہاں سے ذلت آمیز انداز میں رخصت ہوا۔ لیکن اس کی رخصتی کے بعد طالبان فاتحین کی صورت کابل لوٹ آئے۔ بعد ازاں ’’اصل اسلام‘‘ کی پرچارک ہونے کی دعویدار داعش نے ان کے ایمان اور اقتدار پر سوال اٹھانا شروع کر دئے۔ طالبان ان پر قابو پانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ ایسے عالم میں خود کو ’’دہشت گردی‘‘ سے محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ ’’عطار کے اسی لونڈے‘‘ سے حمایت لینے کو مجبور ہے جسے پاکستان کہا جاتا ہے۔

لیکن امریکہ میں مقیم عاشقان عمران خان تاریخ اور ریاستی تقاضوں سے احمقانہ حد تک ناآشنا ہونے کی وجہ سے مصر رہے کہ ٹرمپ روایت شکن ہے۔ عاشقان عمران خان کی جانب سے یہ ڈھول بھی پیٹا گیا کہ چونکہ ٹرمپ فوج اور روایتی ریاستی ایجنسیوں سے نفرت کرتا ہے اس لیے عمران خان اسے اپنے جیسے لگتے ہیں اور وہ اقتدار سنبھالتے ہی ٹیلی فون اٹھا کر پاکستان میں طاقت کے ’’اصل‘‘ مالکوں کو فون کرے گا اور خان اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

عاشقان عمران خان کو یہ امید بھی تھی کہ اڈیالہ سے رہا ہونے کے بعد وہ عوامی تحریک کے ذریعے قبل از وقت انتخاب یقینی بنائیں گے جس کے نتیجے میں ان کی وزیر اعظم کے دفتر میں کم از کم دوتہائی اکثریت کے ساتھ واپسی یقینی ہوجائے گی۔ لیکن امریکی سیاست اور اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خارجہ امور کی بابت 25 برس تک رپورٹنگ کی بدولت تجربے کی بنیاد پر میں یہ اصرار کرتا رہا کہ ٹرمپ سے عمران کی رہائی کی امیدیں باندھنا خام خیالی ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ تحریک انصاف اپنے قائد کو جیل سے رہا کروانے کے لئے ایک موثر سیاسی و قانونی حکمت عملی کا انتخاب کرے اور امریکہ سے اس تناظر میں کسی مدد کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ربّ کا شکر ہے کہ میں درست ثابت ہوا۔

امریکی صدر نے اپنے ملک کی پارلیمان سے خطاب کے دوران عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے بجائے 60 سیکنڈ پاکستان کا شکریہ ادا کرنے میں صرف کئے۔ پاکستان کا شکریہ اس لئے واجب تھا کہ اس کی ریاست نے محمد شریف اللہ کو (جو جعفر کے نام سے بھی کام کرتا رہا) گرفتار کر لیا ہے۔ اس شخص کا تعلق داعش سے بتایا جارہا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران 26 اگست 2021ء کی سہ پہر کابل ایئرپورٹ کے دروازے کے قریب خود کش حملے کا انتظام کیا جس کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی اور 130 افغان شہری ہلاک ہوئے۔ 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی میڈیا میں بہت تنقید ہوئی۔ بائیڈن کے علاوہ ٹرمپ کو بھی ان کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا کیونکہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا فیصلہ ٹرمپ کے دور اقتدار میں ہوا تھا۔

امریکہ کی جاسوس ایجنسیاں کئی برسوں سے 26 اگست2021ء کے روز ہوئے دھماکہ کے منصوبہ ساز کو ڈھونڈرہی تھیں۔ اس کا سراغ لگالیا تو طالبان حکومت نہیں ریاست پاکستان سے رابطہ ہوا کہ منصوبہ ساز کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔ سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالتے ہی اس ادارے کے ٹرمپ کی جانب سے لگائے سربراہ  نے پاکستانی آئی ایس آئی کے سربراہ سے رابطہ کیا۔ بعدازاں ان دنوں کے مابین میونخ کانفرنس کے دوران بھی ایک ملاقات ہوئی۔ شریف اللہ کی شناخت اور تصدیق کے بعد اس کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا۔ گرفتاری پاکستان کے ہاتھوں ہوئی۔ شریف اللہ کو امریکہ روانہ کر دیا گیا یے۔

پاک امریکہ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی تعاون کیسے بحال ہوا؟

ٹرمپ کی تقریر میں شریف اللہ کی گرفتاری کی خبر سننے کے بعد امریکی پارلیمان میں موجود تمام افراد نے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں۔ گرفتاری کی اطلاع دینے کے بعد ٹرمپ نے کامل ایک منٹ تک پاکستان کا نام لے کر شریف اللہ کی گرفتاری کا شکریہ ادا کیا ہے۔

شریف اللہ کے امریکہ پہنچ جانے کے بعد مزید تفتیش ہوگی۔ اس کے نتیجے میں شاید داعش کے مزید ٹھکانوں پر حملہ کرکے وہاں پناہ گزین ہوئے ممکنہ خودکش بمبار بھی گرفتار ہوں۔ مختصراً امریکہ اور پاکستان کی ریاستیں اپنی تاریخ کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوش تعاون میں مصروف رہیں گی۔ داعش کے دہشت گردوں کا سراغ لگاتے ہوئے ٹرمپ کو عمران خان یاد نہیں آئیں گے۔ لہٰذا امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کو اب نئے صدر کا انتظار کرنا ہوگا۔

Back to top button