بمباری کےباوجودایران سےبات چیت تیار ہیں،امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نےکہا ہے کہ امریکا بمباری کے چند گھنٹے بعد بھی تہران سے ’ بات چیت کے لیے تیار’ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا جواب دینا ’ اس کی سب سے بڑی غلطی’ ہوگی۔ یرانی حکومت کی تبدیلی یقینی طور پر ہمارا مقصد نہیں ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ شب امریکا نے، ایران اسرائیل جنگ میں شامل ہوتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر ’انتہائی کامیاب حملہ‘ مکمل کر لیا ہے۔تمام امریکی طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر نکل چکے ہیں۔
امریکی صدر نے لکھا کہ فردو نیوکلیئر سائٹ ہمارا مرکزی ہدف تھا اور اس پر مکمل بمباری کی گئی ہے اور یہ پلانٹ ختم کردیا ہے۔
امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آج میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ہم نے ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا ہے۔کارروائی کا مقصد ایران میں رجیم چینج نہیں تھا، فردو تنصیبات بنیادی ہدف تھیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے ہیں۔
امریکی وزیردفاع نےخبردار کیا کہ اگر ایران نے جواب دیا تو گزشتہ رات سے زیادہ سخت جواب دیاجائےگا۔
