امریکی ویزا پابندیاں:چین نے پاکستانیوں کیلئےدروازےکھول دیئے

امریکہ کی جانب سے ’ایچ ون بی ویزا‘ کی فیس میں ہوشربا اضافے کے بعد چین نے دنیا بھر کے ہنر مند افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے نیا ’کے ویزا‘ (K-Visa) متعارف کروا دیا ہے۔ چین کی جانب سے متعارف کردہ ’کے ویزے‘ سے نہ صرف آئی ٹی ایکسپرٹس، سائنسدانوں، انجینئرز،ماہرینِ تعلیم اور دیگر پروفیشنلز کو تیز رفتار اور آسان طریقے سے چین آنے کا موقع فراہم کیا جائے گا بلکہ۔ ’کے ویزا‘ کے ذریعے عالمی ٹیلنٹ کے چینی معیشت کے ساتھ جڑنے سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے ہنر مند نوجوانوں کو امریکہ اور یورپ کی نسبت کم اخراجات میں ترقی کے وسیع مواقع بھی میسر آئیں گے۔
خیال رہے کہ ’ایچ ون بی ویزا‘ امریکہ میں داخلے کے لیے دنیا بھر کے ہنر مندوں کے لیے ایک پُرکشش ذریعہ سمجھا جاتاتھا۔ خاص طور پر انڈیا کی آئی ٹی صنعت اور ترقی پذیر ممالک کے انجینیئرز، سائنسدان اور ماہرین کئی دہائیوں سے اس ویزے کے ذریعے امریکی منڈی میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں ٹرمپ انتظامیہ کے ’ایچ ون بی ویزا‘ کی فیس اچانک ایک لاکھ ڈالر کرنے کےفیصلے نے اس راستے کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ’ایچ ون بی ویزا‘ ہنر مند افراد کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت تک رسائی کا آسان ترین ذریعہ تھا تاہم اب ایک لاکھ ڈالر کی نئی شرط نے صورتِ حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ اس قدر بھاری فیس ادا کرکے بیرونِ ملک سے کسی انجینیئر یا آئی ٹی پروفیشنل کو بلائیں۔ بڑی کمپنیاں بھی اب صرف انہی امیدواروں کو ترجیح دیں گی جو اعلٰی سطح کی نوکریوں پر فٹ بیٹھیں اور جنہیں رکھنے سے کمپنی کے منافع میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ ماہرین کے بقول ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر انڈین آئی ٹی انڈسٹری پر پڑ رہا ہے کیونکہ وہاں سے بڑی تعداد میں درمیانی سطح کے انجینیئرز امریکہ جایا کرتے تھے جبکہ امریکی فیصلے سے اب زیادہ تر پاکستانی امیدوار امریکہ یاترا سے محروم ہی رہیں گے۔ تاہم دوسری طرف امریکہ کی جانب سے ’ایچ ون بی ویزا‘ فیس میں اضافے کے بعد چین نے امریکی ویزا سے ملتے جلتا ’کے ویزا‘ پروگرام لانچ کر دیا ہے۔
چینی ’کے ویزا‘ پروگرام کا باقاعدہ آغاز یکم اکتوبر 2025 سے ہوگا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس ویزے کا مقصد ’نوجوان سائنسی اور تکنیکی ہنر مندوں‘ کو چین کی طرف راغب کرنا ہے تاکہ ملک کی معیشت اور تحقیقاتی اداروں کو عالمی ٹیلنٹ سے تقویت ملے۔ چینی حکام کے مطابق تمام غیرملکی شہری جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی کے میدان میں تعلیم یا تحقیق کر رہے ہیں، یا جنہوں نے کسی معتبر ملکی یا غیرملکی ادارے سے ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ ’کے ویزا‘ پروگرام کے تحت درخواست دینے کے اہل ہوں گے جبکہ ابتدائی مرحلے پر ’کے ویزے‘ کے لیے کسی مقامی سپانسر کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘یعنی کسی بھی ملک کے ہنرمند نوجوان سائنسدان یا انجینیئر براہِ راست درخواست دے کر چین جا سکیں گے اور وہاں تحقیق، تعلیم، کاروبار یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔
مبصرین کے مطابق ’کے ویزا‘ پروگرام چین کی اُس طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ دنیا بھر سے ہُنرمند دماغوں کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔چین چاہتا ہے کہ ’کے ویزا‘ کے ذریعے نوجوان ٹیلنٹ یہاں آئے اور اسے اپنا مستقبل بنانے کے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔تاہم ابھی تک اس نئے چینی ویزے کی تفصیلات پوری طرح سامنے نہیں آئیں۔ یعنی یہ ویزا کتنی مدت کے لیے دیا جائے گا، کیا اس ویزے کے تحت چین کی مستقل رہائش یا شہریت کا راستہ نکل سکے گا، اور اس ویزے کے حصول کے لیے کیا دستاویزات درکار ہوں گی؟
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو بڑی عالمی طاقتوں امریکہ اور چین میں ویزا پالیسی سے متعلق جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس میں پاکستانی نوجوان کہاں کھڑے ہیں؟ معاشی ماہرین کے مطابق’پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ صورت حال ملی جلی ہے۔ ایک طرف امریکہ کا دروازہ مزید تنگ ہو گیا ہے اور ابتدائی یا درمیانی سطح کی نوکریاں تقریباً ناممکن ہو گئی ہیں۔‘ ایسے میںچین کا نیا ’کے ویزا‘ ایک بڑی امید کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر واقعی یہ ویزا سپانسر کے بغیر مل سکے اور زیادہ لچکدار شرائط پر دستیاب ہو تو پاکستانی انجینیئرز، محققین اور سٹارٹ اپ بانیوں کے لیے چین کی ابھرتی ہوئی معیشت میں نئی جگہ بنانے کا سنہری موقع ہو گا۔‘ماہرین کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کے لیے اب فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر وہ امریکہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنا ہوگا تاکہ وہ بڑی کمپنیوں میں اعلٰی عہدوں پر فٹ ہو سکیں۔ اور اگر وہ چین کا رخ کرنا چاہتے ہیں تو ’کے ویزا‘ کے ضوابط پر گہری نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ وقت ضائع کیے بغیر نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
