افغانستان میں چھوڑے امریکی ہتھیار پاکستان کے لیے عذاب

پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کہ وہ 2021 میں افغانستان سے فوجی انخلا کے وقت پیچھے چھوڑے گے ہتھیار واپس لے جانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے کیونکہ اب وہی ہتھیار طالبان اور بلوچ دہشت گرد پاکستانی فوج کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جس نے سکیورٹی اداروں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستانی حکومت حالیہ برسوں میں کئی مرتبہ خبردار کر چکی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد جو اسلحہ پڑوسی ملک میں رہ گیا تھا وہ خطے میں موجود مسلح گروہ استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا 2021 میں ہوا تھا اور 2022 امریکی محکمہ دفاع نے اپنی ایک رپورٹ میں اقرار کیا تھا کہ امریکہ سات ارب ڈالرز کا قیمتی عسکری اسلحہ افغانستان میں چھوڑ آیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ امریکی فوج افغانستان میں تقریباً 40 ہزار گاڑیاں اور تین لاکھ سے زیادہ اسلحہ افغانستان میں چھوڑ آئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد کہہ چکے ہیں کہ وہ افغانستان سے امریکی اسلحہ واپس لیں گے۔ تاہم پاکستان سے بہترین تعلقات ہونے کے باوجود ابھی تک امریکہ نے عملی طور پر اس بارے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
برطانوی جریدے اکانومسٹ کے مطابق پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا دوبارہ امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار واپس لے جانے کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ یہ خطے کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ہتھیار نہ صرف تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو استعمال کر رہے ہیں بلکہ یہ اب بلوچ لبریشن آرمی والوں کے ہاتھ بھی لگ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہتھیار بلیک مارکیٹ کے ذریعے خطے کی دیگر دہشت گرد تنظیموں کو بھی بیچے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ان ہتھیاروں کو بلیک مارکیٹ سے واپس خریدے تاکہ ان کا غلط استعمال رک سکے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے امریکہ حکام کو تین امریکی رائفلز کے سیریئل نمبر فراہم کیے ہیں جو کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کرنے والے بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کے استعمال میں تھیں۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے ٹرین میں سوار 26 سکیورٹی اہلکاروں کو شناخت کرنے کے بعد شہید کر دیا تھا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس افسوسناک واقعے کے بعد کہا تھا کہ افغانستان سے انخلا کے وقت جو اسلحہ امریکی اتحادی افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں وہ صرف افغان حکومت کے پاس ہی نہیں بلکہ بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان کے پاس بھی موجود ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق ان کے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق ان میں سے رائفلز ان امریکی ہتھیاروں میں شامل تھیں جو کہ امریکہ نے ماضی میں افغانستان کی سکیورٹی فورسز کو دی تھیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والوں کے پاس ایک ایم فور اے ون رائفل بھی تھی جو کہ امریکی اسلحہ ساز کمپنی کولٹ نے بنائی تھی۔ 14 مارچ 2025 کو پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا تھا کہ جعفر ایکسپریس کے مسافروں کے قتل عام کی کڑیاں افغانستان سے جڑتی ہیں۔ انھوں نے دہشتگردوں سے برآمد ہونے والے امریکی ساختہ ہتھیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں یہ ہتھیار ’افغانستان سے مل رہے ہیں۔
پاکستانی عسکری حکام کے مطابق امریکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے پاس امریکی ساختہ اسلحہ تین طریقوں سے پہنچ سکتا ہے اور تینوں افغانستان پر طالبان کے قبضے سے منسلک ہیں۔ پہلا یہ کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران افراتفری کے سبب افغان سکیورٹی اہلکار اپنے ہتھیار اور اسلحہ ڈپو جلدبازی میں پیچھے چھوڑ گئے ہوں یا پھر انھوں نے جان بوجھ کر عسکریت پسندوں کو ان ہتھیاروں تک رسائی دے دی ہو۔ دوسرا یہ کہ طالبان قیادت اور ان کے کمانڈرز نے خود یہ ہتھیار عسکریت پسند گروہوں کے حوالے کر دیے ہوں کیونکہ ان کے سرحد پار ٹی ٹی پی سے تعلقات ہیں، نظریہ اور سیاسی مقاصد ایک ہیں۔تیسرا یہ کہ امریکی ہتھیار طالبان کی کمزوری کے سبب یا پھر کچھ طالبان دھڑوں نے پیسہ کمانے کی خواہش کے سبب بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے ہوں۔
پاکستانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحے سے لیس عسکریت پسند پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو روزانہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اسلحے کے سبب حملوں کی شدت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن افغانستان اور پاکستان پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ خطے میں موجود بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے امریکی اسلحے کا استعمال کوئی حیران کُن بات نہیں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس عسکری ساز و سامان کی بہتات ہے جو کہ امریکی فوج پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ افغانستان ایسا ملک ہے جہاں مختلف عسکری تنظیموں اور منظم جرائم پیشہ عناصر کام کر رہے ہیں۔ اس کیے امکان یہی ہے کہ بلوچ باغیوں کے پاس یہ اسلحہ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی ملی بھگت سے آ رہاہے۔
