امریکی کانگریس اراکین کادورہ :یوتھیوں کی مایوسی میں اضافہ کیوں؟

امریکی ارکان کانگریس دورہ پاکستان مکمل کرکے واپس روانہ ہوگئے ہیں۔جہاں ایک طرف حکومتی ذمہ داران کانگریس اراکین کے دورے کو شہباز حکومت کی کامیاب سفارتکاری کا غماز قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری جانب کانگریس اراکین کے دورے نے پی ٹی آئی کی مایوسیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے کیونکہ امریکہ سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کرنے والے یوتھیوں کی خواہشات کے برعکس نہ تو کانگریس اراکین نے اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے کوئی ملاقات کی اور نہ ہی پی ٹی آئی رہنماؤں سے کسی علیحدہ میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ٹرمپ کے بعد امریکی کانگریس اراکین نے بھی پی ٹی آئی قیادت کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے یکسر نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی۔
تاہم مبصرین کے مطابق حکومتی دعوؤں کے برعکس کانگریس اراکین کا پاکستان کا دورہ ایک معمول کی کارروائی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے دورے سے جوناتھن جیکسن خوش رہے ، ٹام سوازی غیر مطمئن جبکہ برگ مین نے دوری پاکستان بارے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ وفد کے دورہ اورہمرا ہیوں کی اندرونی کہانی کے مطابق ٹیکساس کی لڑائیاں اور اسلام آباد میں صلح کی کوششوں کا مشن ناکام رہا ذرائع کے مطابق اپنے دورہ پاکستان کے بارے میں تینوں اراکین کانگریس مختلف تاثرات کے ساتھ واپس لوٹے ہیں۔ تاہم دوسری جانب سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اراکین کانگریس کا دورہ پاکستان ایک معمول کا دورہ تھا جس کا دوطرفہ تعلقات سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ امریکی کانگریس مین جو امریکی کانگریس میں مختلف مُلکوں اور مختلف شعبوں سے متعلق کمیٹیوں کی سربراہی کرتے ہیں وہ اِس طرح متعلقہ ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے اراکین کانگریس کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اِسے پاک امریکا تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی کامیاب اور مفید قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم پاکستان کے سابق سفارتکار نجم الثاقب کے مطابق امریکی اراکین کانگریس کا پاکستان کا دورہ دو طرفہ تعلقات کے ضِمن میں نہیں تھا۔ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے سیکرٹری سطح کے لوگ دورہ کرتے ہیں اور اُس طرح کے دوروں کے پیرا میٹرز مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم کانگریس اراکین کے اس دورے سے یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اِس وقت امریکا کے ریڈار پر نہیں ہے اور امریکا نے ابھی تک کوئی ایسا ایگزیکٹو آرڈر جاری نہیں کیا جس کا براہِ راست تعلق پاکستان کے ساتھ ہو۔
نجم الثاقب کے بقول ’پاکستان کی اس وقت سب سے بڑی پریشانی امریکا کی جانب سے عائد کیا جانے والا ٹیرف ہےکیونکہ اُس کے نتیجے میں پاکستان کو ممکنہ طور پر 1.4 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دوسرا امریکا کی طرف سے ایک ہی بات سامنے آ رہی ہے کہ اُسے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کا تعاون چاہیے جو کہ پاکستان عرصے سے کرتا چلا آ رہا ہے۔ حال ہی میں داعش کے دہشتگرد شریف اللہ کی گرفتاری اور حوالگی پر امریکی گانگریس نے ہمیں شاباش بھی دی جو کہ اچھی اور مثبت بات ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ اُنہوں نے ممبی حملوں کے ملزم تہوّر رانا کو بھارت کو حوالے کردیا ہے جو کہ بھارت امریکا تعلقات کی تو کامیابی ہے لیکن جب تہوّر رانا کے حوالے سے چیزیں سامنے آئیں گی تو اُن سے پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ تعلقات درست رکھنے کے لیے امریکی حمایت درکار ہے تاہم اِس کے لیے پاکستان کو پہلے اپنے اندرونی حالات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم پاکستان کے سابق سفارتکار وحید احمد کا کانگریس اراکین کے وفد کے دورہ پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی نظام حکومت اِس طرح سے کام کرتا ہے کہ وہاں اراکین کانگریس کو بعض امور اور بعض ممالک کے بارےمیں پالیسی سازی کرنا ہوتی ہے، وہ اپنے حلقۂ انتخاب یا کانگریس میں کسی کمیٹی کی رکنیت کی وجہ سے مختلف ممالک کے دورے کرتے ہیں۔ اُن کے دورے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں اور جہاں اُن کو مختلف ممالک میں جا کر وہاں کے اہم عہدیداران سے ملاقات کے بعد صورتحال کا اصل اندازہ ہوتا ہے۔پاکستان کا دورہ، امریکی اراکین کانگریس کا ایک طرح سے تعارفی وزٹ تھا جس میں اُنہوں نے پاکستان کے اعلٰی حکام اور چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات بھی کی جس سے پاکستان کے بارے میں اُن کی سوجھ بوجھ میں یقیناً اضافہ ہوا ہو گا۔ ایمبیسیڈر وحید احمد نے مزید کہا امریکی عہدیدار پاکستان کے اندرونی معاملات پر بات چیت نہیں کرتے مگر اُن کے ہاں لابیز ہیں اور بعض سیاستدان کسی ملک کے بارے میں غیر محتاط تبصرے کر بھی دیتے ہیں۔سابق سفارتکار کے مطابق پاک امریکا تعلقات کے بارے میں درست اندازہ تو امریکا کی جانب سے عائد کئے گئے ٹیرف پر مذاکرات کے بعد ہوگا اب دیکھنا یہ ہےکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف کے معاملے کو لے کر مذاکرات کتنے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق اکثر اراکین کانگریس مختلف ممالک کےبدورے کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے امریکی اراکین کانگریس کی پاکستان میں دلچسپی نہیں تھی لیکن اِس دورے سے لگتا ہے کہ اُن کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ دوسرے وہ بہت مطمئن گئے ہیں اور امریکا واپسی پر اُنہوں نے بہت مثبت پیغامات دیئے ہیں جس سے لگتا یہی ہے کہ امریکی اراکین کانگریس کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا ہے۔