جنرل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ سے اپنے کن خدشات کا اظہار کیا؟

باخبر سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کے دوران پاکستانی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ایران کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ کو بتایا کہ پاکستان کی پریشانی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر ایران میں منتخب حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو بلوچستان کی سرحد پر موجود علیحدگی پسند عناصر پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر کے عدم استحکام کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل عاصم منیر ایران کی جنگ بارے فکر مند تھے کیونکہ وہ ایران کو دیگر لوگوں سے زیادہ سمجھتے ہیں۔
اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر مسلسل حملوں کے دوران اسرائیلی عہدیدار بار بار اشارہ کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد ایرانی حکومت کو گرانا اور سپریم لیڈر خامنہ ای کو ختم کرنا ہے۔ چنانچہ ان خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ ایران میں جاری افراتفری اطراف کے ہمسایہ ملکوں میں بھی پھیل سکتی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس کی بلوچستان کی سرحد ایران کے ساتھ لگتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اسرائیل کی جانب سے کسی دوسرے ملک کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی قائم کی گئی نظیر پر تشویش ہے۔ پاکستان میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں انڈیا اسرائیل کی مدد سے پاکستان پر دوبارہ حملہ اور ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے مئی 2024 میں ہی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور بھارت کے درمیان چار دنوں تک جنگ کا سلسلہ جاری رہا اور بالاخر صدر ٹرمپ کو سیز فائر کروانے کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ اس جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کو پاکستان تو تسلیم کرتا ہے لیکن بھارت ایسا کرنے سے انکاری ہے۔
پاکستانی آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں حالیہ لنچ کے بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیل ایران جنگ پر پاکستان کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "وہ اس صورتحال سے خوش نہیں۔” پاکستانی فوجی ترجمان نے نے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کے تنازع پر بات چیت کی اور اسے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ شاید پاکستان اس ملاقات کے بعد ایران اور اسرائیل کی جنگ رکوانے میں کوئی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے کھل کر ایران پر حملہ آور ہونے والے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے پورے علاقے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایران اور پاکستان مخالف علیحدگی پسند اور عسکریت پسند تنظیمیں 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد پر سرگرم ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر پاک ایران سرحد پر جھڑپیں بھی ہوتی ہیں جس میں عسکریت پسند اور فوجی جوان دونوں مارے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی سرحدیں طالبان کے زیر انتظام افغانستان کے ساتھ ساتھ روایتی حریف بھارت کے ساتھ بھی لگتی ہیں لہٰذا وہ ایران کے ساتھ اپنی سرحدوں پر ایک اور جنگی صورت حال نہیں چاہتا۔ ایران اور پاکستان دونوں کے سرحدی علاقے میں نسلی اقلیتی بلوچ آباد ہیں جنکی دیرینہ شکایت ہے کہ ان کے ساتھ تفریقی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے علیحدگی پسندی کی تحریکیں چلا رکھی ہیں۔ پاکستانی سائڈ پر یہ صوبہ بلوچستان کہلاتا ہے جبکہ ایرانی سائڈ پر سیستان بلوچستان کہلاتا ہے۔
ایران پر اسرائیل کی بمباری تک تہران پاکستان کے حریف بھارت کے قریب تر تھا۔ حتیٰ کہ ایران اور پاکستان نے ایک دوسرے پر بلوچوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے گزشتہ سال فضائی حملے بھی کئے۔ لیکن ایران پر اسرائیل کے حملے نے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ بھارت نے اسرائیل کی بمباری کی مذمت نہیں کی ہے اور وہ ڈٹ کر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور ایران کے مابین سرحد کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہونے اور ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی عدم دستیابی کے باعث بلوچستان میں پیٹرول سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ سمگل شدہ ایرانی ایندھن جو کبھی بلوچستان کو معاشی طاقت دیتا تھا، اب وہاں نہیں پہنچ پا رہا۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں ایران سے ایندھن کی ترسیل اکثر غیر قانونی ذرائع سے کی جاتی ہے۔ لیکن ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد سے بارڈر پر سخت نگرانی اور بندش نے تیل کی تجارت کو یکسر مسدود کر دیا ہے۔ بلوچستان کی معیشت کے ایک بڑے حصے کا انحصار ایران کے ساتھ رسمی اور غیر رسمی تجارتی روابط پر ہے۔ لیکن اب پیٹرولیم مصنوعات کی عدم دستیابی کے باعث صوبے میں ٹرانسپورٹ، زراعت اور مقامی صنعتوں کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
بلوچستان میں 90 فیصد سے زائد پیٹرول پمپوں میں ایران سے اسمگل شدہ ڈیزل اور پیٹرول فروخت ہو رہا تھا۔ ایرانی سرحد بند ہونے کے باعث بلوچستان پیٹرولیم مصنوعات کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اشیاء خور و نوش کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ تجارتی اور زرعی شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ ایرانی ایندھن کی ترسیل کی اچانک بندش کی وجہ سے صوبے میں معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
لیکن سرحد پر سرگرم عسکریت پسند گروپوں نے موجودہ صورت حال کا خیر مقدم کیا ہے۔ نسلی بلوچ اور سنی مسلم اقلیتوں پر مشتمل ایک ایرانی جہادی گروپ، جیش العدل، جو پاکستان سے اپنی سرگرمیاں چلاتا ہے، نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسرائیل کا تنازعہ ان کے لیے بہت شاندار موقع ہے۔
گروپ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "جیش العدل ایران کے تمام لوگوں کے ساتھ بھائی چارے اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ اور تمام لوگ بالخصوص بلوچستان کے عوام اور مسلح افواج بھی مزاحمت کی صفوں میں شامل ہوں۔
ایسے میں پاکستان کو یہ خوف لاحق ہے کہ اس کی اپنی بلوچ اقلیت، جو ایران میں مقیم ہیں، بھی حملوں کو تیز کرنے کے لئے اس موقع کا استعمال کرسکتے ہیں۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو یہ خدشہ ہے کہ بلوچستان میں جن جگہوں پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے وہ دہشت گرد گروپوں کے لیے زرخیز زمین بن سکتے ہیں۔ سرحد کے ایرانی جانب، تہران نے مختلف اوقات میں پاکستان، خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکہ پر ایران مخالف بلوچ گروپوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے۔
کچھ پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مختلف بلوچ گروپ ایک "عظیم تر بلوچستان” میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جو پاکستان اور ایران کے بلوچ علاقوں پر مشتمل ایک نیا ملک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ایسا کوئی موقع آیا تو یہ سب سب مل کر لڑیں گے، لہذا پاکستان کو ایران کے غیر مستحکم ہونے پر تشویش ہے جس کا اظہار جنرل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ سے بھی کیا ہے۔
