ایران اور امریکہ کے مذاکرات کن مطالبات کی وجہ سے ناکام ہوئے؟

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی ان کی ناکامی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان پانچ بڑے نکات پر اختلاف موجود تھا، لیکن مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ امریکہ کا یہ مطالبہ بنا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی کمٹمنٹ دے اور یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کہ خاتمے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک دونوں ممالک کے مابین سیز فائر برقرار ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی امید ختم نہیں ہوئے۔ اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بہت سارے معاملات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی تاہم چند اہم معاملات پر دونوں فریقوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا، جسکے باعث کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق سب سے بڑا اور پرانا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کا رہا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد سے روانگی سے قبل واضح کیا کہ امریکہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی نیوکلئیر ہتھیار نہیں بنائے گا اور اس مقصد کے لیے درکار ٹیکنالوجی بھی حاصل نہیں کرے گا۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایران کی یورینیم افزودگی کی موجودہ صلاحیت پہلے ہی محدود یا تباہ کی جا چکی ہے، تاہم واشنگٹن کو اس بات پر اطمینان نہیں کہ تہران مستقبل میں اس پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے برعکس ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق رکھتا ہے۔
یہی نکتہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تعطل کا سبب بنا رہا۔
ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز میں اس کے یورینیم افزودگی کے حق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کا مطالبہ شامل تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے میں ایران سے اپنی سرزمین پر ہر قسم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کرنے کا تقاضا کیا گیا تھا۔ دونوں فریقین کے مابین دوسرا بڑا اختلاف خطے میں جاری فوجی کشیدگی، خصوصاً لبنان اور غزہ سے متعلق تھا۔ ایران نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری کارروائیاں مذاکراتی عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے۔ مذاکرات کے دوران اور بعد میں بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے ایران کے خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔
اگرچہ امریکہ نے عندیہ دیا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں کی شدت میں کمی لائی جائے گی، تاہم یہ اقدامات ایران کو مطمئن کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔ تیسرا اہم تنازع آبنائے ہرمز کی بندش کا رہا، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور غیر قانونی فیس وصول کر رہا ہے، جبکہ ایران اس آبی راستے پر اپنے کنٹرول کو خودمختاری کا حصہ قرار دیتا رہا۔ رپورٹس کے مطابق خلیج میں سینکڑوں بحری جہاز پھنسے رہے اور چند جہازوں کو گزرنے کے لیے بھاری فیس ادا کرنا پڑی۔ ایران نے نئے بحری راستوں کے قیام کا اعلان بھی کیا، جسے امریکہ نے یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
چوتھا بڑا اختلاف ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور اس کے اتحادی گروہوں سے متعلق تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے حزب اللہ، حوثی، حماس اور دیگر گروہوں کے ساتھ تعلقات کو خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ایران ان گروہوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے، جسے وہ ’فارورڈ ڈیفنس‘ کہتا ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل اس پورے نیٹ ورک کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جس پر ایران کسی قسم کی پسپائی کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ پانچواں اور نہایت اہم اختلاف اقتصادی پابندیوں کا رہا۔ ایران نے مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی مطالبہ کیا تھا کہ اس کے منجمد شدہ اربوں ڈالرز اثاثے بحال کیے جائیں اور اس ہر عائد عالمی بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جائیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے تقریباً 120 ارب ڈالرز کے اثاثے بحال کرنا معاہدے کی بنیادی شرط تھی۔ تاہم اس معاملے پر امریکی مؤقف کافی سخت رہا اور ایسے آثار نہیں ملے کہ واشنگٹن اتنی بڑی اقتصادی رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی میں بھی اس مطالبے کا کوئی واضح ذکر نہیں تھا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس نکتے پر بھی پیش رفت نہ ہو سکی۔ یوں اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات بظاہر پیش رفت کے باوجود بنیادی اختلافات کے باعث کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جب تک جوہری پروگرام، علاقائی سکیورٹی، اقتصادی پابندیوں اور سٹریٹیجک اثر و رسوخ جیسے بنیادی مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان واضح ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی، مذاکرات کی کامیابی کا امکان محدود ہی رہے گا۔
