عمران کی کون سی خواہش انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گئی؟

معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ عمران خان کو خدا بن کر لوگوں پر حکم چلانے اور اپنے سیاسی مخالفین کو جیل بھجوانے کی خواہش جیل تک لے کر گئی ہے۔ انکے مطابق عمران کے اکثر حامی مانتے ہیں کہ ان میں بہت سی خامیاں ہیں اور وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتے ہیں، لیکن ان کا اصرار ہے کہ وہ دل کے بہت اچھے ہیں اور ایماندار بھی ہیں۔ لیکن چونکہ میں عمران کو بہت پرانا جانتا ہوں اس لیے ان کے حامیوں کے یہ دعوے سن کر اکثر مسکرا دیتا ہوں۔
رؤف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایک صحافی کی حیثیت سے میں نے ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بڑی قریب سے دیکھا ہے۔ لیکن میری خواہش ہی رہی کہ ان میں سے کوئی مجھے اپنے کردار سے متاثر کر سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عمران کے حامی ان کی تمام تر خامیاں تسلیم کرتے ہوئے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں خان ہی بطور وزیراعظم چاہیے۔ لیکن میں شرطیہ کہتا ہوں کہ اگر عمران واپس آ جائیں تو ان کے یہی حامی کچھ عرصے بعد میرے ساتھ لڑ رہے ہوں گے کہ آپ نے خان پر ہاتھ ہولا کیوں رکھا ہوا ہے۔ یہ سب سوشل میڈیا کے کمالات ہیں جس کی وجہ سے خان کی عظمت کے وہ گن گائے گئے کہ جن کا خود خان کو بھی علم نہ تھا۔ جیسے عثمان بزدار کو علم نہ تھا کہ اُن کی اُن خوبیوں کا عمران کو کیسے علم ہو گیا تھا جن کا خود انہیں بھی کوئی علم نہیں تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ آصف زرداری اور شریف برادران سے تنگ تھے‘ اُنہیں ان شخصیات کی اقتدار میں واپسی ہضم نہیں ہوئی۔ عمران خان کی مقبولیت کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ ایک قابل‘ سمجھدار یا ذہین وزیراعظم تھے بلکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو خان کے مخالفین زیادہ برے لگتے ہیں۔ نواز شریف کو بھی شروع میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے مقابلے پروموٹ کیا گیا۔ اب کہا جاتا ہے کہ عمران خان ان سب سے اچھے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ عمران خان بھی نواز شریف والی پوزیشن پر آ جائیں گے‘ اگرچہ فوج کے نزدیک وہ نواز شریف سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ عمران خان ابھی صرف ایک بار وزیراعظم بنے ہیں اور اتنے ”کارنامے‘‘ ان کے کریڈٹ پر ہیں جبکہ نواز شریف تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں‘ لہٰذا لوگ عمران خان کو اُن سے بہتر آپشن سمجھتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بس وقت اور تجربے کا کھیل ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ میرا اُن لوگوں سے اکثر یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا عمران خان میری وجہ سے جیل گئے ہیں اور کیا میں ان کی حمایت کرنا شروع کر دوں تو وہ باہر نکل آئیں گے؟ وہ یہ بات بھی مانتے ہیں کہ نہ وہ میری وجہ سے جیل بیٹھے ہیں اور نہ ہی میری باتیں انہیں باہر نکال سکتی ہیں۔ چند ایک تو یہ بات بھی مانتے ہیں کہ میری باتوں کو اگر پی ٹی آئی یا عمران خان ٹھنڈے دل سے سنیں تو انہیں ادراک ہو گا کہ میں ان کی بھلائی کی باتیں ہی کرتا ہوں۔ لیکن مجھ سے زیادہ صرف اُن وی لاگرز اور صحافیوں کی باتیں عمران خان اور ان کے حامیوں کو سمجھ آتی ہیں جو کہتے ہیں کہ خان جیل میں بہت بڑی گیم ڈال کر بیٹھے ہیں‘ اور ایسی ہوائی باتیں کرنے والے وی لاگرز یہ جھوٹا چورن بیچ کر لاکھوں ویوز لیتے ہیں۔
شاہ محمود اسٹیبلشمنٹ کی گیم کھیلیں گے یا عمران کا ساتھ دیں گے؟
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ میں عمران سے اُسی روز مایوس ہو گیا تھا جب انہوں نے الیکشن جیتنے کے بعد اسلام آباد ایئر پورٹ سے علیم خان کے جہاز پر عمرہ کیلئے جاتے وقت زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکلوایا تھا۔ ایئر پورٹ سے ہی وزارتِ داخلہ کو کہا گیا کہ زلفی کا نام ای سی ایل سے نکالو۔ اس سلسلے میں فوراً وزارت داخلہ میں اجلاس ہوا‘ آدھے گھنٹے کے نوٹس پر سمری تیار ہوئی‘ اور ایئر پورٹ پر موجود زلفی بخاری کو بیرون ملک سفر کرنے کا اجازت نامہ بھیجا گیا۔ یعنی وہ قانونی عمل جو دو ہفتوں کا تھا وہ عمران نے ایئر پورٹ سے ایک فون پر چند گھنٹوں میں مکمل کروایا۔ دوسرا واقعہ جس نے مجھے عمران خان سے بد دل کیا تھا وہ ان کی بطور وزیراعظم صحافیوں اور اینکرز سے پہلی ملاقات تھی۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں وہ مسلسل پاکپتن کے خاور مانیکا کا دل و جان سے دفاع اور پاکپتن پولیس کی مذمت کرتے رہے کہ ان کی جرأت کیسے ہوئی کہ انہوں نے خاور مانیکا اور ان کے مسلح گارڈز کو رات گئے ایک ناکے پر روکا‘ جس پر بعد میں آر پی او شارق کمال اور ڈی پی او رضوان گوندل کی وزیر اعلیٰ ہاوس میں فرح گوگی کے شوہر احسن جمیل گجر نے بذات خود انکوائری کی تھی۔ ان دونوں افسران پر خوب پریشر ڈالا گیا کہ وہ خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگیں۔
اُس ڈی پی او کو تین سال تک اس جرم پر پوسٹنگ تک نہ دی گئی کہ اس نے خاور مانیکا کی شان میں گستاخی کی تھی۔ اسی طرح عمران خان اس قوم اور اس کی سیاسی دانش کے ساتھ بارہ کروڑ آبادی کا صوبہ عثمان بزدار کے حوالے کرنے سے بڑا مذاق اور کیا کر سکتے تھے۔ چہیتے افراد کا گینگ جس طرح پنجاب میں لٹ مچا رہا تھا اس پر عمران خان کا دفاع بھی حیران کن تھا۔ پہلی دفعہ پنجاب میں ڈپٹی کمشنر عہدے کی سرعام بولی لگ رہی تھی‘ قیمتی تحائف دھڑا دھڑ گھر میں اکٹھے ہو رہے تھے‘ اور قیمتی گھڑیاں دبئی میں بیچی جا رہی تھیں۔ چھ چھ‘ سات سات آئی جی اور چیف سیکرٹری تبدیل ہوئے۔ اس پر اکثر مجھے خان کے حامی کہتے ہیں کہ یہ کام تو زرداری اور شریف بھی کرتے تھے‘ خان نے کون سا نیا کام کر لیا یا پھر یہ کہ انہوں نے قانون کے تحت ہی تحائف لیے اور دبئی میں بیچے۔ اس میں غلط کیا ہے؟
سینیئر صحافی کے بقول میرا یہ مؤقف ہے کہ غلط یہ ہے کہ خان نے تو شریفوں اور زرداریوں کی غیر قانونی وارداتوں کا سلسلہ ختم کرنا تھا‘ نہ کہ خود ہی کروڑوں کے تحائف سے اپنے گھر بھرنے تھے۔ اگر عمران خان نے خود شریفوں اور زرداریوں جیسے کام کرنے تھے تو اُن دونوں میں کیا برائی تھی۔
