پاکستان کو کس ڈرٹی گیم کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں سے تحفظ اور عدالتوں سے انصاف مانگنے کی بجائے پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کم از کم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نکتے پر متحد ہو جائیں تا کہ دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے ۔ انکا کہنا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی کی شہادت کو اتحاد ملت کا نکتہ آغاز بنایا جائے۔ ملی یکجہتی کونسل کو دوبارہ متحرک کریں یا کوئی نیا پلیٹ فارم بنائیں۔ جس دن پاکستان کے سنی اور شیعہ علماء کرام متحد ہوگئے اس دن ان علماء کو لڑانے کی سازشیں کرنے والے اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سازشیں ناکام ہو جائیں گی۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ اب تو اندھوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کے اردگرد ایک نئی گریٹ گیم شروع ہو چکی ہے اور پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اس ڈرٹی گیم کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان کو اس ڈرٹی گیم سے دور رہنا چاہیے۔ پاکستان کو اس ڈرٹی گیم سے بچانے کا بہترین راستہ تمام مکاتب فکر کے علماء کا اتحاد ہے۔ اگر علما متحد ہو گئے تو سیاسی جماعتیں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہونے پر مجبور ہو جائیں گی۔ یہ علماء اگر اب متحد نہ ہوئے تو ان کیلئے دوبارہ متحد ہونا مشکل ہو جائیگا کیونکہ آنیوالے دنوں میں پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی سازش کرنیوالے اپنی ڈرٹی گیم کو مزید آگے بڑھائیں گے اور مزید شخصیات کو نشانہ بنائیں گے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مجھے باپ کے بعد بیٹے کی شہادت پر بھی تعزیتی کالم لکھنا پڑے گا۔ 2018ء میں مولانا سمیع الحق صاحب کو شہید کیا گیا تو میں نے ان کے صاحبزادوں حامد الحق اور راشد الحق حقانی سے تعزیت کی تھی۔ لیکن اب جب حامد الحق کو مسجد میں شہید کیا گیا ہے تو ا ن کے صاحبزادے عبدالحق حقانی سے تعزیت کرنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ مولانا حامد الحق حقانی کی شہادت اسی سازش کی کڑی ہے جس کےتحت کبھی علامہ احسان الٰہی ظہیر کو لاہور میں بم دھماکے کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی شہادت کے فوراً بعد پشاور میں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کردیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے سے لڑا دیا جائے۔ مولانا سمیع الحق شہید کاشمار ان علماء میں ہوتا تھا جنہوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کی لیکن افسوس کہ ان کے کردار کے اس مثبت پہلو کو قومی میڈیا میں زیادہ اجاگر نہیں کیا گیا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ 1996 میں جب ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے میں نے کالعدم سپاہ صحابہؓ اور کالعدم سپاہ محمدؐ کے درمیان اپنے اخبار کے صفحات پر ڈائیلاگ شروع کرانے کی کوشش کی تو مولانا سمیع الحق نے میری بہت حوصلہ افزائی کی تھی۔ اس ڈائیلاگ کا آغاز علامہ ضیاء الرحمان فاروقی اور علامہ مرید عباس یزدانی کے درمیان شروع ہوا۔ یزدانی صاحب کو اسی سال اسلام آباد میں شہید کردیا گیا اور علامہ ضیاء الرحمان فاروقی صاحب کو 1997ء میں لاہور کی سیشن کورٹ میں بم دھماکے کا نشانہ بنا دیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا سمیع الحق، مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ ساجد نقوی، علامہ ساجد میر، قاضی حسین احمد، مولانا اجمل خان اور کئی دیگر علماء ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے عملی کوششوں کا آغاز کر چکے تھے۔ ملی یکجہتی کونسل نے ہی بعد میں متحدہ مجلس عمل کو جنم دیا اور 2002ء میں حامد الحق حقانی ایم ایم اے کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

سینئیر صحافی بتاتے ہیں کہ حامد الحق حقانی نے پیپلز پارٹی کے میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ بابر کو شکست دی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ نصیر اللہ بابر اور مولانا سمیع الحق دونوں کا افغان طالبان سے بڑا گہرا تعلق تھا۔ طالبان رہنماؤں سے میرا تعارف نصیر اللہ بابر کے ذریعہ ہوا اور بعد میں کئی طالبان رہنماؤں سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونے والے اجتماعات میں بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ یہ وہ مدرسہ ہے جو مولانا سمیع الحق کے والد مولانا عبدالحق صاحب نے قیام پاکستان کے بعد قائم کیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ دارالعلوم دیو بند میں استاد تھے۔ ان کے مدرسے سےصرف جلال الدین حقانی نے نہیں بلکہ برہان الدین ربانی، مولوی نبی محمدی، مولوی یونس خالص اور دیگر افغان رہنماؤں نے بھی تعلیم حاصل کی۔ مولانا فضل الرحمان صاحب بھی اس مدرسے کے طالبعلم رہے اور جب ملی یکجہتی کونسل بنائی گئی تو مولانا سمیع الحق نے ملت جعفریہ کے رہنما علامہ ساجد نقوی صاحب کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دعوت دے کر اپنے دشمنوں کو آگ بگولہ کر دیا۔

حامد الحق حقانی بھی اپنے شہید والد کی طرح فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو دفاع پاکستان کا ایک اہم تقاضا سمجھتے تھے۔ 2002ء میں وہ ایم این اے بنے تو میں نے اکثر دیکھا کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں بہت جاتے تھے۔ ان کے دادا مولانا عبدالحق صاحب 1970ء کے انتخابات میں اجمل خٹک کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔ مولانا عبدالحق نے 1973ء کے آئین کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ایک دفعہ حامد الحق حقانی نے مجھے کچھ ریکارڈ دکھایا اور بتایا کہ مفتی تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے مل کر 1973ء کے مجوزہ آئین کا مسودہ پڑھا اور مولانا عبدالحق کو اس مسودے میں ترامیم کے لئے دو سو سے زیادہ تجاویز دیں۔ حامد الحق حقانی اور ان کے بھائی راشد الحق حقانی نے ایک اہم کام یہ کیا کہ اپنے والد مولاناسمیع الحق کی شہادت کے بعد ان سے وابستہ دستاویزات کو کتابی شکل دے دی جس میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، سے لیکر ملا محمد عمر، اور اسامہ بن لادن سے لیکر بے نظیر بھٹو تک مولانا سمیع کی جانب سے اہم شخصیات کے نام لکھے گے خطوط کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔

مصطفی عامر کا بنگلہ نمبر 35 خفیہ ایجنسی کا دفتر کیوں لگتا ہے؟

حامد میر بتاتے ہیں کہ مولانا سمیع الحق شہید نے اپنی زندگی میں خود کش حملوں کو خلاف اسلام قرار دیا اور پولیو کے قطرے استعمال کرنے کے حق میں فتویٰ دیا۔ ان کے برخور دار حامد الحق حقانی نے عورتوں کی تعلیم پر پابندی لگانے کی مخالفت کی لیکن دوسری طرف وہ افغان طالبان کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے ان کے ساتھ بات چیت کے حامی تھے۔ حامد الحق حقانی کی شہادت پر مولانا فضل الرحمان کا ردعمل بڑا اہم ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دارالعلوم حقانیہ اور مولانا حامد الحق پر حملہ میرے مدرسے اور گھر پر حملہ ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز پر ایک عالم دین پر مسجد میں حملہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

Back to top button