عمران خان کو جیل میں ڈالنے والوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

سینیئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو وہ منہ پر ہاتھ پھیر پھیر کر اپنے سیاسی مخالفین خصوصا نواز شریف اور آصف زرداری کو دھمکیاں دیا کرتے تھے حالانکہ وہ دونوں کو جیلوں میں ڈال چکے تھے۔ لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی لہذا مکافات عمل کے اصول کے تحت آج عمران خان جیل میں ہیں اور ان کے مخالفین برسر اقتدار ہیں، تاہم افسوس کسی نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا اور تاریخ کو دہرایا جا رہا ہے۔
حامد میر روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ یہ سب لوگ ایک شیطانی چکر میں پھنسے ہوئے ہیں، آج شہباز شریف وزیراعظم ہیں تو انہوں نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ حاکم پچھلے تیس سال کی تاریخ کا یہ سبق بھول چکے کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ نومبر 1995ء تھا۔ شہباز شریف کافی دن لندن میں گزار کر واپس لاہور آئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فاروق لغاری صدر اورمحترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں ۔ وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ خان بابر نے ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر رحمان ملک کو شریف خاندان کی بیرون ملک جائیدادیں ڈھونڈنے کی ذمہ داری دے رکھی تھی ۔ شہباز شریف کو گرفتاری کے بعد کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھنے کی بجائے اڈیالہ جیل راولپنڈی لایا گیا ۔ یہاں اُن کی ملاقاتوں کو محدود کر دیا گیا ۔ صرف قریبی رشتہ داروں کو ملاقات کی اجازت تھی ۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ گوجر خان سے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری ریاض کی اڈیالہ جیل میں کافی جان پہچان تھی ۔ اُن کے ذریعہ جیل سے مجھے شہباز شریف کے پیغامات ملتے رہتے تھے۔ ایک روز مجھے پیغام ملا کہ شہباز شریف ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا ملاقات کیسے ہو گی ؟ شہباز کے ایک قابل اعتماد ملازم نے مجھے انکے کزن میاں شاہد شفیع کا شناختی کارڈ دیا اور کہا کہ آپ اُن کے شناختی کارڈ پر ملاقات کر سکتے ہیں۔ میاں شاہد شفیع کو میں زمانہ طالب علمی سے جانتا تھا۔ وہ میرے ساتھ ماڈل ٹاؤن کرکٹ کلب میں کھیلا کرتے تھے۔ شکل صورت میں بھی ہماری کچھ مشابہت تھی۔ اُس زمانے میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز نہیں تھے اور مجھے عام لوگ شکل سے زیادہ نہیں پہچانتے تھے لہٰذا میں شاہد شفیع بن کر اڈیالہ جیل پہنچ گیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ یوں ان کی شہباز شریف سے ملاقات ہو گئی۔ لیکن اسکے بعد میاں شاہد شفیع جب بھی انہیں ملتے تو ازراہ تفنن پوچھا کرتے کہ جناب کو میرا شناختی کارڈ تو نہیں چاہئے ؟ گزشتہ ہفتے اُنکا انتقال ہو گیا۔ یہ افسوسناک خبر ملی تو مجھے گزرا زمانہ یاد آ گیا۔ وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے اور بدل بھی جاتا ہے۔ آج عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور شہباز شریف وزیر اعظم ہیں ۔ میں خود سے پوچھ رہا تھا کہ کیا آج میں کسی عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے جیل میں مل سکتا ہوں ؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ تیس سال پہلے بھی پاکستانی جمہوریت اتنی مضبوط نہیں تھی لیکن اس جمہوریت کا کچھ نہ کچھ بھرم تو قائم تھا ۔ سیاستدان ایک دوسرے پر جھوٹے مقدمات بھی قائم کراتے تھے، خفیہ اداروں کے ہاتھوں استعمال بھی ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو عدالتوں سے سزائیں بھی دلواتے تھے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ رواداری برقرار تھی۔ اب تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کو بھی نااہل قرار دیدیا ہے۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ 9 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں دیکر آئین اور قانون کی بالادستی قائم کی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مراد راس اور فرخ حبیب پر 9 مئی کو کیسز نہیں بنے تھے ؟ دونوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی اور دونوں کو سزا نہیں ہوئی۔ جب عدالتوں کی سزاؤں اور الیکشن کمیشن کی نااہلیوں سے قانون کی بالادستی قائم کرنے کی بجائے قانون کو ایک مذاق بنا دیا جائے تو سمجھ لیجئے کہ حکمران طبقہ انتہائی خوفزدہ ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ میری ناقص رائے میں تحریک انصاف کو 5 اگست کو سیاسی احتجاج کا اعلان نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ اس روز یوم استحصال کشمیر منایا جاتا ہے۔ لیکن اگر تحریک انصاف نے غلط کیا تو کیا الیکشن کمیشن نے 5 اگست کو عمر ایوب خان ، شبلی فراز اور کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیکر کوئی اچھا کام کیا ؟ ایسا لگتا ہے کہ سب کے سب انتقام میں اندھے ہو چکے ہیں۔ جمہوریت کو آئین وقانون کی بے بسی کی داستان بنا دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف والوں کا دعویٰ ہے کہ جو ظلم آج ہو رہا ہے یہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا لیکن جب اُن کو بتایا جائے کہ بھائی یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا ہے تو وہ مانتے ہی نہیں۔ چلیں جو کچھ میں نے کتابوں میں پڑھا اسے چھوڑ دیں۔ لیاقت علی خان نے پروڈا اور جنرل ایوب خان نے ایبڈو کے ذریعہ جن سياسی مخالفین کو سزائیں دلوائیں اور نا اہل قرار دلوایا اُن کا ذکر نہیں کرتے۔ لیکن جن سیاست دانوں کی گرفتاریوں اور نااہلیوں کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اُن کا ذکر تو کرنے دیجئے۔ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم کروں ؟
حامد میر بتاتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری مجموعی طور پر 13 سال سے زیادہ عرصہ جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ آخری مرتبہ انہیں 2020 میں عمران خان کے دور میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اُسوقت کے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو ایک مرتبہ زرداری صاحب نے کہا تھا کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، ایسا نہ ہو کہ تمہیں سزا ملے اور تمہاری معافی کیلئے فائل میرے پاس آ جائے۔ فیض حمید تو دس پندرہ سال تک آرمی چیف کے عہدے پر براجمان رہنے کا منصوبہ بنا چکے تھے لیکن انہیں اسوقت سمجھ نہ آئی ۔ شائد اب تھوڑی سی سمجھ آگئی ہو گی ۔ آج کے وزیر اعظم شہبا ز شریف کی آخری گرفتاری بھی 2020 میں لاہور ہائی کورٹ کے احاطے سے ہوئی۔ ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف ، احسن اقبال ، حنیف عباسی ، علیم خان ، خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال سمیت موجودہ کابینہ کے کئی وزراء جیلوں میں وقت گزار چکے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپریل 1999 میں نواز شریف دور میں پانچ سال قید اور نااہلی کی سزا سنائی گئی۔ کچھ سال بعد اسی نواز شریف کو 2018 میں سات سال قید اور نااہلی کی سزا سنائی گئی۔
ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس بڑی تباہی سے بچ گئی
حامد میر کہتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف جب بھی گرفتار ہوئے تو انکی رہائی کیلئے کوئی احتجاجی تحریک کامیاب نہ ہوئی۔ آج عمران خان گرفتار ہیں۔ انکی رہائی کیلئے ابھی تک کوئی احتجاجی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ ان سب کی گرفتاریوں، نااہلیوں اور کٹے پھٹے اقتدار کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ صاحبان جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف سے زیادہ پاور فل نہیں تھے۔ ڈکٹیٹرز کا انجام برا ہوا۔ انہوں نے جیسا کیا ویسا بھرا ۔ افسوس کسی نے بھی اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ وقت بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ جیسا کرو کے ویسا بھرو گے۔
