غیر قانونی افغانوں کی بے دخلی کے لیے ایک اور بڑا آپریشن تیار

 

وفاقی حکومت نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف وزارت داخلہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام انتظامی و قانونی تیاریاں مکمل کر لی ہیں وہیں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت کو یقینی بنانے کیلئے نادرا، ایف آئی اے، اور پولیس کے مابین ڈیٹا شیئرنگ کا نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان میں چھپے افغانوں کا بچ نکلنا ناممکن ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے، سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور دہشت گردی سے متعلق خطرات پر قابو پانے کیلئے افغان باشندوں کی بے دخلی ناگزیر ہے تاہم مبصرین کے مطابق غیر قانونی افغانون کی ملک بدری پاکستان کی داخلی سلامتی کے تناظر میں اہم فیصلہ سمجھا جا رہا ہے تاہم اس فیصلے سے آنے والے دنوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کےبقول افغان مہاجرین کی موجودگی پاکستان کے لیے دہائیوں سے ایک حساس سیاسی و معاشی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ تاہم اس بار حکومت کا فیصلہ زیادہ سخت اور فیصلہ کن نوعیت کا دکھائی دیتا ہے،ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے کابل کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، ایسے میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کے اقدامات پاکستان-افغان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ سفارتی رابطے اور انسانی بنیادوں پر لچک برقرار رکھے۔ تاہم بعض دیگر دفاعی ماہرین کے مطابق افغان سرحد سے منسلک علاقوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں اور منظم سمگلنگ نیٹ ورکس کے پس منظر میں پاکستان کی جانب سے افغانوں کی ملک بدری کا فیصلہ ناگزیر تھا۔ ریاست اگر اب بھی نرم ہاتھ رکھتی تو داخلی استحکام مزید متاثر ہوتا اور پاکستان دہشتگردوں کی آماجگا بن جاتا۔

ذرائع کے مطابق افغان باشندوں کو دی گئی متعدد ڈیڈ لائنز کے بعدقانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور سمیت صوبہ بھر میں واپس نہ جانے والے افغان مہاجرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ اس حوالے سے پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے حکومتی ہدایات ملتے ہی فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کی شناخت کیلئے جہاں مخبروں کا نیٹ ورک بچھا دیا گیا ہے وہیں شہری علاقوں میں کارروائی کیلئے بلدیاتی نمائندوں سے بھی مدد لی جائے گی۔ذرائع کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران پکڑے جانےوالے غیر قانونی افغانوں کو نہ صرف واپس بھیجا جائے گا بلکہ ان کو بلیک لسٹ بھی کر دیا جائے گا جس کے بعد مستقبل میں انھیں دوبارہ پاکستان آنا نا ممکن ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں افغان مہاجرین کی موجودگی پر سماجی حلقوں کی جانب سے بھی حکومت سے انہیں واپس بجھوانے اور غیر قانونی مقیم افغانوں کے خلاف مربوط آپریشن کرنے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔ جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے افغان باشندوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف شہروں میں کاروبار کرنے والے افغان تاجروں کا ڈیٹا بھی تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ان کے خلاف بھی جلد کارروائی کا امکان ہے۔

ذرائع کے بقول پہلے مرحلے پر پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختکف شہروں میں موجود افغان تاجروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جنہوں نے ابھی تک کاروبار جاری رکھا ہوا ہے اور پاکستان چھوڑ کر اپنے وطن واپس نہیں جارہے۔ حالانکہ ان کو حکومت پاکستان کی جانب سے کئی بار واپس افغانستان جانے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور وہ اس پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔ اسی لئے اب ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

اسی طرح پشاور کے مضافاتی علاقوں میں مقیم افغان باشندوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پشاور کے نواحی علاقوں اور خاص کر ضلع نوشہرہ کی تحصیلوں اور ضلع چارسدہ کے علاقے میں بڑے تعداد میں افغان باشندے مقیم ہیں اور کاروبار بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس میں بیشتر مہاجرین نے جانورپال رکھے ہیں۔ جبکہ متعدد زمینوں پر کاشتکاری کا کام کر رہے ہیں اور مختلف پھلوں کے باغات خریدے ہوئے ہیں، جن کی فروخت میں ان کو مشکلات درپیش ہیں اور وہ باغات کو فروخت کر کے ہی واپس جانا چاہتے ہیں۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افغان مہاجرین جان بوجھ کر بھی جانور اور زمین وغیرہ فروخت نہیں کر رہے۔ حالانکہ ان کو اچھے دام بھی مل رہے ہیں لیکن بہانے بنا کر پاکستان میں ٹھہر ے ہوئے ہیں۔ ایسے افغان مہاجرین کی نشاندہی بھی کی جارہی ہے تاکہ ان کے خلاف بھی کارروائی کر کے انھیں واپس اپنے وطن افغانستان بھیج دیا جائے۔ جس کے لئے دیہاتی علاقوں میں پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ حکومتی احکامات کے بعد ایسے افغانوں کو گرفتار کر کے واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔

 

Back to top button