مئی 2025 کے بھارتی حملے نے پاکستان کو کون سا بڑا فائدہ پہنچایا؟

 

 

 

بھارت کی جانب سے پچھلے برس شروع کی گئی جنگ پاکستان کو راس آ گئی ہے کیونکہ اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کو خریدنے کے لیے دنیا بھر سے مختلف ممالک کی لائنیں لگ گئی ہیں۔ یاد رہے کہ اس محدود مگر شدید عسکری تصادم میں پاک فضائیہ کی فیصلہ کن اور پیشہ ورانہ کارکردگی نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کی دھاک بھی بٹھا دی۔

 

اس جنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کو اپنے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کی تباہی کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جسکے بعد پاکستانی لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر عالمی دفاعی منڈی میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق اب جے ایف 17 کی خریداری کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں، جب کہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر اس طیارے کی پیداوار کئی گنا بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ نے جس مہارت، ہم آہنگی اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی عسکری ماہرین کو حیران کر دیا۔ اس دوران بھارتی فضائیہ کے جدید طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، فضائی دفاعی نظام کو مؤثر طور پر ناکارہ بنایا گیا اور فوجی اہداف کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا۔

 

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار بھارت کے مقابلے میں پاکستانی دفاعی صلاحیت کے اعتراف کے بعد جے ایف 17 تھنڈر کو ایک ’جنگ آزمودہ‘ لڑاکا طیارے کے طور پر عالمی سطح پر پہچان مل گئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کا عملی مظاہرہ بین الاقوامی ایئر شوز، بالخصوص دبئی ایئر شو میں بھی دیکھنے میں آیا، جہاں مختلف ممالک کے عسکری وفود نے پاکستانی طیارے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ جے ایف 17 تھنڈر دراصل پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا ایک جدید ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چینی دفاعی اداروں نے مشترکہ طور پر ڈیزائن اور تیار کیا۔ جے ایف 17 کا جدید ترین بلاک تھری ورژن 4.5 جنریشن فائٹر طیارہ تصور کیا جاتا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی، بہتر ہتھیاروں اور جدید ایویونکس سے لیس ہے۔

 

جے ایف 17 بلاک تھری فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں طرح کے اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں نصب جدید اے ای ایس اے ریڈار ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو ٹریک کرنے اور ان پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طیارے میں جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور بیونڈ وژوئل رینج میزائل فائر کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، جو اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کے مطابق بناتی ہے۔ عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف 17 کی سب سے بڑی خوبی اس کی کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی کا امتزاج ہے۔ مغربی ساختہ مہنگے لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں جے ایف 17 نہ صرف قیمت میں کہیں کم ہے بلکہ اس کی آپریشنل اور مینٹیننس لاگت بھی نسبتاً کم ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان طیارے کی فروخت کے ساتھ تربیت، تکنیکی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ کا مکمل پیکج بھی فراہم کر رہا ہے، جو ان ممالک کے لیے خاص طور پر پرکشش ہے جو محدود دفاعی بجٹ کے باوجود اپنی فضائی صلاحیتوں کو جدید بنانا چاہتے ہیں۔

 

جے ایف 17 کی فروخت کے حوالے سے پاکستان پہلے ہی کئی اہم معاہدے طے کر چکا ہے۔ آذربائیجان نے ابتدا میں 16 جے ایف 17 بلاک تھری طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا، جسے بڑھا کر 40 طیاروں تک کر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی مجموعی مالیت 4.6 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی برآمدی ڈیل سمجھی جا رہی ہے۔ میانمار جے ایف 17 خریدنے والا پہلا ملک تھا جس نے 2015 میں ان طیاروں کو اپنی فضائیہ میں شامل کیا، جب کہ نائجیریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جے ایف 17 کو عملی طور پر استعمال میں لے لیا ہے اور مستقبل میں مزید طیاروں کی خریداری کے امکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ممالک اس وقت جے ایف 17 کی خریداری کے لیے مذاکرات یا دلچسپی کے مرحلے میں ہیں۔ بنگلہ دیش اپنے پرانے فضائی بیڑے کو تبدیل کرنے کے لیے جے ایف 17 اور پاکستانی تربیتی طیاروں میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس کے آرمی چیف نے پچھلے دنوں مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کیا ہے۔ انڈونیشیا اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے جے ایف 17 طیاروں اور پاکستانی ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول پر غور کر رہا ہے۔ عراق نے بھی مئی 2025 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جے ایف 17 طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسی طرح ایران اور لیبیا کی جانب سے بھی دلچسپی کے اشارے ملے ہیں، تاہم بین الاقوامی پابندیوں اور سیاسی عوامل کے باعث ان معاملات پر محتاط انداز میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

انڈین آرمی چیف کا پاک بھارت جنگ میں شکست کا اعتراف

دفاعی ذرائع کے مطابق جے ایف 17 کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کے پیش نظر پاکستان اور چین نے اس طیارے کی پیداوار کو نمایاں طور پر بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں پیداواری صلاحیت میں توسیع کی جا رہی ہے تاکہ نئے آرڈرز اور بروقت ڈیلیوری کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جاری مذاکرات میں سے چند بھی حتمی معاہدوں میں تبدیل ہو گئے تو جے ایف 17 تھنڈر پاکستان کے لیے صرف ایک لڑاکا طیارہ نہیں رہے گا بلکہ ایک مضبوط سٹریٹجک برآمدی اثاثہ بن کر ابھرے گا، جو نہ صرف پاکستان کی دفاعی صنعت بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button