فائنل کال ناکام ہونے کے بعد PTI کے پاس کیا آپشنز باقی بچی ہیں؟

اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کی جانب سے احتجاج کی فائنل کال بری طرح ناکام ہو جانے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا یے کہ پارٹی کے پاس عمران خان کو رہائی دلوانے کے لیے اب کونسی آپشنز باقی بچی ہیں؟ یاد رہے کہ پی ٹی آئی ماضی قریب میں تین مرتبہ اسلام آباد، دو مرتبہ لاہور، صوابی، مردان، تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز اور پورے ملک میں تین مرتبہ احتجاج کی کال دے چکی ہے۔ اِن تمام احتجاجوں میں ایک بات قدرے مشترک پائی گئی ہے کہ ماسوائے دو تین چہروں کے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کسی بھی جلسے یا احتجاج میں نظر نہیں آئی جس کے باعث یہ سارے احتجاج ٹھس ہو گے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اسلام اباد کی فائنل کال ناکام ہونے کے بعد اب عمران خان کے پاس بہت کم اپشنز باقی بچی ہیں اور اب ان کی جلد رہائی بھی ممکن نہیں رہی۔ لیکن تحریکِ انصاف کے سینیٹر اور مرکزی رہنما بیرسٹر سیف علی خان سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس اب بھی بہت آپشنز ہیں۔ ان کے بقول، چوں کہ یہ ایک سیاسی تحریک ہے اور سیاسی تحریکیں کسی بھی ایک واقعے سے ختم نہیں ہوتیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے فائنل کال جیسے نعرے کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ حالیہ احتجاج عمران خان کے کہنے پر کیا گیا تھا، یہ تو ہو گیا۔ اُس کے بعد ایک سیاسی جماعت سیاسی اور جمہوری انداز میں ہی اقدامات کر سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبۂ سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کے پاس تمام آپشنز کھلے ہیں لیکن پی ٹی آئی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور آپشنز کو مستقبل میں وقت اور حالات کے مطابق استعمال کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ‘فائنل کال’ کے بعد پی ٹی آئی مسلسل مشاورت کے عمل سے گزر رہی ہے اور تمام قیادت سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو ڈی چوک پر احتجاج کے لیے ‘فائنل کال’ دی تھی۔ اس احتجاج کی قیادت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کر رہے تھے۔ بشریٰ بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ رکاوٹیں عبور کرتا ہوا 26 نومبر تک ڈی چوک پہنچ گیا تھا لیکن پولیس اور رینجرز کے ‘آپریشن’ کے بعد بشری بی بی اور علی مین گنڈاپور سمیت پارٹی قیادت موقع سے فرار ہو گئی تھی لہذا مظاہرین بھی منتشر ہو گئے تھے۔
معروف اینکر پرسن منصور علی خان سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد پہنچ کر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی طرف جانا چاہیے تھا اور ڈی چوک پر دھرنا دینے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انکے بقول حکومت نے مذاکرات پر اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے تین تین ارکان مذاکراتی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ جو تمام مسائل پر بات چیت کریں گے۔ تو ہم جب مظاہرین نے ڈی چوک کے بعد ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کی تو رینجرز کا اپریشن شروع ہو گیا اور پی ٹی ائی کی قیادت فرار ہو گئی۔
پلڈاٹ کے صدر احمد بالا محبوب سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام قیادت کو بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ پوری جماعت صرف ایک آدمی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، جو اپنی مرضی سے فیصلہ کر کے اعلان کر دے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہی بات شاہ محمود قریشی اور چند لوگوں نے مودبانہ انداز میں کہی تھی کہ “یار اُن سے بھی پوچھ لیا کرو”۔ ان کے بقول، عمران خان نے بغیر کسی تیاری کے اپنی طرف سے احتجاج کی تاریخ دی تھی۔
ڈی چوک پہنچنے بارے بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ہر مارچ میں کارکنوں کا اپنا ایک جوش اور ایک مومینٹم ہوتا ہے جب پی ٹی آئی کا احتجاجی جلوس اسلام آباد میں داخل ہوا تو کارکن کہیں اور احتجاج کے لیے نہیں مانے اور وہ ڈی چوک کی طرف بڑھنے لگے۔
بشرٰی بی بی اور علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ جب پشاور سے روانہ ہوا تھا تو حکومتی اراکین خاص طور پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ کی پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور دیگر قیادت سے بات چیت کی باتیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اِس دوران پی ٹی آئی قیادت کو فوری طور پر عمران خان سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی قیادت کے بقول عمران خان نے سنگجانی کے مقام پر احتجاج کرنے کی حامی بھر لی تھی لیکن بشری بی بی نہ مانیں اور پھر وہ ہوا جس کے نتیجے میں احتجاج ناکام ہو گیا۔
فائنل کال کی ناکامی کے سوال پر بیرسٹر سیف کا کہنا یے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج ناکام نہیں ہوا بلکہ وہ لوگ ناکام ہوئے ہیں جنہوں نے ریاستی طاقت کو عام لوگوں کے خلاف استعمال کیا۔ جنہوں نے رینجرز کو پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کر کے گولیاں چلوائیں لیکن اس عمل میں پی ٹی آئی سرخرو ہوئی ہے۔ناُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اُنہیں ریاست نے اپنے جبر سے منتشر کیا۔ کارکنوں نے اپنا خون بہا کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ جابر اور ظالم حکومت ہے۔ بیرسٹر سیف کہتے ہیں کہ پارٹی کے کسی عہدیدار نے کوئی غلطی کی ہے یا کسی ذمہ دار نے کوئی کوتاہی کی ہے تو جماعت کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت اُس کے خلاف کارروائی ہو گی۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے فائنل احتجاج کی قیادت کرنے اور پھر اچانک فرار ہو جانے کے سوال پر بیرسٹر سیف نے کہا کہ بشرٰی ہوں یا کوئی اور، اگر کسی نے کوئی غلطی کی ہے تو جماعت اُس کے خلاف اپنا لائحہ عمل بنائے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ جماعت کے اندر بہت سے لوگ اِس سوال پر بات کر رہے ہیں۔ یہ جماعت کا اندرونی معاملہ ہے۔ جس پر کام کیا جا رہا ہے۔
