حکومت مولانا کو ساتھ ملا کر کون سا ٹارگٹ حاصل کرنا چاہتی ہے؟

پارلیمینٹ میں دو تہائی اکثریت چھن جانے کے بعد سے حکومتی اتحاد جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ سے ساتھ ملانے کے لیے کوشاں ہے، دوسری جانب تحریک انصاف اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر مولانا فضل حکومتی اتحاد سے ہاتھ ملا لیتے ہیں تو حکومت دوبارہ سے آئینی ترامیم کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی، ایسا ہو جائے تو حکومت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی معیاد بڑھانے اور جسٹس منصور علی شاہ کی نئے چیف جسٹس کے طور پر تقرری روکنے کی پوزیشن میں بھی آ جائے گی۔ لہذا اس وقت مولانا ڈیزل ہاٹ کیک بنے ہوئے ہیں اور اپوزیشن اور حکومت دونوں ان کے نخرے اٹھانے میں مصروف ہیں۔
کرنل کو اغوا کرنے والوں نے کن طالبان قیدیوں کی رہائی مانگی ہے ؟
اگر نمبرز گیم کی بات کی جائے تو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کیلئے حکومت کو دو تہائی یعنی 224 ارکان کی حمایت درکار ہیں جبکہ حکومتی اتحاد کے پاس 212 اراکین موجود ہیں، اسی لیے جے یو آئی کی 8 نشستوں کی حمایت لینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ جے یو آئی ایف کے 8 اراکین ملنے کے بعد حکومتی اتحاد کے پاس 220 اراکین کی حمایت آ جائے گی، جب کہ باقی مطلوبہ چار ووٹ آزاد اراکین کی مدد سے پورے کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح سینیٹ میں حکومتی اتحاد کے پاس 59 ارکان کی حمایت موجود یے اور دو تہائی اکثریت کیلئے اسے پھر سے جے یو آئی کی جانب دیکھنا پڑ رہا ہے، جے یو آئی کے پانچ اراکین سینیٹ کی حمایت ملنے کی بعد حکومت کے اتحاد اراکین کی تعداد 64 ہو جائے گی، یوں اسے سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔
ایسے میں ایک کائیاں سیاست دان سمجھے جانے والے مولانا اپنا ریٹ بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور دونوں فریقین سے اپنی حمایت کے عوض مختلف مطالبات کر رہے ہیں۔ ایک طرف مولانا نے حکومتی اتحاد سے خیبر پختون خواہ کی گورنرشپ مانگ لی ہے تو دوسری جانب انہوں نے تحریک انصاف سے سینیٹ کی دو نشستیں مانگ لی ہیں۔ مولانا یہ مطالبات بیک چینل مذاکرات میں کر رہے ہیں لیکن جب ان سے آن ریکارڈ اس بارے پوچھا جاتا یے تو وہ کسی سے کوئی بھی مطالبہ کرنے کی تردید کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کی پچھلے کچھ دنوں میں حکومتی قیادت کے علاوہ تحریک انصاف والوں سے ہونے والی ملاقاتیں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ رواں ہفتے صدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف بھی خود ان کے گھر گئے۔ شہباز شریف نے مولانا سے کہا کہ ماری خواہش ہے کہ آپ دوبارہ ہماری سرپرستی کریں۔ اس پر مولانا نے کہا کہ ہم تو وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے، آپ نے ہی راستہ بدل لیا۔ بعد ازاں مولانا فضل نے اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد وزیر اعظم کو جمیعت علماء اسلام کی حمایت سے متعلق جواب دینے کا وعدہ کیا۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے ملک کو درپیش چیلنجز میں مولانا سے حمایت طلب کی۔ صدر اور وزیر اعظم کی ملاقاتوں کا مقصد مولانا کی ناراضی دور کرنا اور انہیں حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے منانا ہے، صدر اور وزیراعظم دونوں نے مولانا کو یقین دلایا ہے کہ انکے تحفظات دور کیے جائیں گے۔
صدر اور وزیر اعظم نے جے یو آئی کے سربراہ سے ایک ایسے وقت پر ملاقاتیں کی ہیں جب ایک جانب پی ٹی آئی اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ہونے جا رہے ہیں۔ اس دوران قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومتی اتحاد عدالتی اصلاحات پر مشتمل آئینی ترامیم پیش کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت کو قانون سازی میں جے یو آئی کی حمایت درکار ہو گی کیونکہ سپریم کورٹ کے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر فیصلے کے بعد حکومت کی دو تہائی اکثریت ختم ہو چکی ہے۔ لہذا مولانا فضل الرحمن کو منانے کے لیے صدر اصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چوٹی کا زور لگا رہے ہیں چونکہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔
پی ٹی آئی کے وکیل رہنما شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمان کی کیا بات چیت ہوئی، انہیں اس سے کوئی مطلب نہیں کیونکہ وہ ہمیں واضح الفاظ بھی بتا چکے ہیں کہ وہ اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہیں۔ شعیب شاہین کے مطابق مولانا نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بغیر کسی آئینی ترمیم میں حکمران اتحاد کا ساتھ نہیں دیں گے۔ یاد رہے کہ شعیب شاہین اس مولانا کی حمایت کا دعوی کر رہے ہیں جنہیں عمران خان نیازی برس ہا برس سے مولانا ڈیزل کے نام سے پکارتے چلے آئے ہیں۔
