پروفیسر کی گرفتاری کا عمرانڈو جج کی جعلی ڈگری سے کیا تعلق تھا ؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جعلی ڈگری کی منسوخی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والے کراچی یونیورسٹی کے ایک یوتھیے پروفیسر ریاض احمد نے پولیس کی جانب سے 8 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ کراچی نے جسٹس طارق کی ڈگری منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی ان 8 گھنٹوں کے دوران ہونے والے اجلاس میں کیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پروفیسر ریاض جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو دو نمبر تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈگری جعلی ہے بھی تو کئی دہائیوں بعد اس کو منسوخ کرنا نہیں بنتا۔ یاد رہے کہ جسٹس طارق جہانگیری جس قانون کی ڈگری کی بنیاد پر جج بنے تھے وہ کراچی یونیورسٹی کے ریکارڈ میں کسی اور شخص کے نام ہے اور اس پر ولدیت بھی کسی اور کی ہے۔

ڈگری منسوخی کے بعد جسٹس طارق جہانگیری کی چھٹی کا امکان

اس حوالے سے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل اور اسلام اباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر ہیں اور ان پر کارروائی جاری ہے۔ لیکن ان کی ڈگری منسوخی کے فیصلے کے بعد اب ان کا بطور جج برقرار رہنا ممکن نظر نہیں آتا۔ یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ نے اپنی "ان فیئر مینز کمیٹی” کی سفارش پر جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری اور انرولمنٹ دونوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر ریاض بھی "ان فیئر مینز کمیٹی” کے رکن تھے جنکا دعوی ہے کہ انہیں اجلاس سے پہلے پولیس نے گرفتار اور بعد میں رہا کر دیا چونکہ وہ ڈگری منسوخ کرنے کے مخالف تھے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ڈگری جعلی ثابت ہو چکی تھی اور ان فئیرز کا اجلاس صرف فیصلہ لینے کے لیے بلایا تھا جس کے ایک رکن کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا لہذا اگر ریاض اجلاس میں شریک ہو بھی جاتے تو فیصلہ وہی ہونا تھا جو کہ ہوا۔  دوسری جانب یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جج کی ڈگری کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے کو ہونے والے سنڈیکیٹ کے اجلاس میں 40 سال بعد جج کی لا ڈگری سے متعلق کیس سے متعلق ایجنڈا آئٹم پر پہلے ہی اعتراض کر چکے تھے۔

ڈاکٹر ریاض نے دعویٰ کیا کہ انہیں دوپہر ایک بجے کے قریب ٹیپو سلطان روڈ سے تب اٹھایا گیا جب وہ "ان فئیر مینز کمیٹی” کی میٹنگ میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔ بعد ازاں جامعہ کا اجلاس ڈاکٹر ریاض کے بغیر ہوا اور ڈگری کی منسوخی کی منظوری دی گئی۔ ادھر کراچی یونیورسٹی کی ایک پریس ریلیز کے مطابق "ان فیئر مینز کمیٹی” کی سفارشات کے مطابق غیر اخلاقی اور نازیبا کاموں میں ملوث پائے جانے والے امیدواروں کی ڈگریاں اور انرولمنٹ کارڈز منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی جس کی منظوری دے دی گئی۔ تاہم پریس ریلیز میں کسی امیدوار کا نام نہیں بتایا گیا۔

یاد رہے کہ جستس طارق محمود جہانگیری ان 6 ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس کے خلاف شکایت کرنے کے علاوہ انٹر سروسز انٹیلی جنس پر عدالتی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا تھا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی قانون کی ڈگری دو نمبر ہے۔

Back to top button