پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن کب ہونے والا ہے؟

راولپنڈی اور اسلام آباد میں باخبر سرکاری اور عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے سلسلے میں کسی سطح پر کوئی ابہام یا قانونی رکاوٹ موجود نہیں، اور اس معاملے پر سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا پراپیگینڈا بے بنیاد ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے نوٹیفکیشن میں تاخیر نے گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دے رکھا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تخلیق کیے گئے اس نئے عہدے پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تقرری متوقع ہے، تاہم 27 نومبر کو سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے باوجود تاحال جنرل عاصم منیر کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، جس کے بعد مختلف خدشات اور قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں۔
لیکن سرکاری اور عسکری ذرائع اس بحث کو ’’غیر ضروری‘‘ قرار دیتے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاملے پر خیال کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر نوٹیفکیشن سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کے حوالے سے عمل شروع ہو چکا ہے اور مناسب وقت پر اعلان کر دیا جائے گا، اس لیے اس ضمن میں قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تاہم خواجہ آصف کی وضاحت سے بھی بحث کا سلسلہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔
سوشل میڈیا پر صحافی سلمان مسعود نے کہا کہ وزیر دفاع کی وضاحت دیر سے سامنے آئی، کیونکہ حکومتی خاموشی نے طرح طرح کے اندازوں اور سازشی نظریات کو جنم دیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت ابتدا ہی میں مؤقف واضح کر دیتی تو یہ صورتحال نہ بنتی۔ صحافی فہد حسین نے بھی حکومتی طرزِ عمل پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاملے کو بری طرح ہینڈل کیا ہے اور نوٹیفکیشن میں تاخیر دو صورتوں میں ممکن ہے: یا تو پس پردہ کوئی مسئلہ موجود ہے، یا یہ صرف طریقہ کار کی تاخیر ہے، دونوں صورتیں حکومت کے لیے نرم گوشہ پیدا نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق معاملہ اب جس بھی زاویے سے دیکھا جائے، یہ صورتحال حکومت کے لیے بہتر نہیں رہی۔
تجزیہ کار سیرئیل المائدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن نہ ہونا خود اس بات کی علامت ہے کہ ’’کہیں نہ کہیں کوئی مسئلہ ضرور ہے۔‘‘ ان کی رائے پر ردِعمل دیتے ہوئے صحافی باقر سجاد نے کہا کہ اگر محض تکنیکی پیچیدگیاں ہوتیں تو وہ خاموشی سے حل ہو جاتیں، مگر یہ تاخیر اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ کوئی نہ کوئی اپنے حق کے لیے کھڑا ضرور ہے۔ اس بحث میں تحریک انصاف کے سابق رہنما اسد عمر نے بھی حصہ لیا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ ملک میں سب سے بڑا موضوع ایک سرکاری عہدے کے نوٹیفکیشن کا بن جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
تاہم آئینی اور پارلیمانی اُمور کے ماہر احمد بلال محبوب اس سارے منظرنامے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے تحت آرمی چیف کی مدتِ ملازمت پہلے ہی 2027 تک بڑھا دی گئی تھی، جبکہ 27ویں ترمیم یہ واضح کرتی ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کے ساتھ ہی بیک وقت چلے گا اور دونوں کی مدت 2030 تک ہو گی، اس لیے کسی آئینی خلا کا تصور بھی درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن صرف اس لیے ضروری ہے کہ مدتِ ملازمت کی نئی تاریخ طے ہو سکے، تاہم اس کے بغیر بھی کوئی قانونی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں کی جانے والی تبدیلیاں واضح کرتی ہیں کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے لیے کسی قسم کی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ اس لیے تاخیر سے نہ کوئی آئینی اور نہ ہی انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنی پوری کمان اور اختیارات کے ساتھ بدستور ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، اور نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد ان کی نئی پانچ سالہ مدت اسی تاریخ سے شروع ہو گی۔
گزشتہ ماہ سینیٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی وضاحت کی تھی کہ فیلڈ مارشل کا رینک ایک اعزازی خطاب ہے، کوئی تعیناتی نہیں، جبکہ آئینی ترمیم کے مطابق آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ ان کے مطابق نئے عسکری ڈھانچے کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا منصب قائم کیا گیا ہے، جو چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت ہوگا۔
مجموعی طور پر آئینی ماہرین اور حکومتی ذرائع یکسو ہیں کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کسی قانونی پیچیدگی یا اختیارات کے خلا کی وجہ سے نہیں، بلکہ انتظامی عمل کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق پرانی کمان برقرار ہے، قانون واضح ہے اور وقت آنے پر نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا، جبکہ اس وقت سوشل میڈیا پر اٹھنے والا شور غیر ضروری اور سیاسی تاثر پر مبنی ہے، جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
