سینیٹ نے زیرِ حراست افراد کے حقوق کا تاریخی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا

سینیٹ نے گرفتار اور زیرِ حراست افراد کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے پیش کیا گیا بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔
رپورٹس کے مطابق سینیٹ نے پیر کے روز ایک اہم اور تاریخی قانون سازی کی، جس کا مقصد گرفتاری، حراست یا تفتیش کے دوران موجود افراد کے حقوق کو مؤثر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک نے یہ بل پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون انسانی حقوق کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 14 انسانی وقار کو ناقابلِ تنسیخ قرار دیتا ہے۔ فاروق ایچ نائیک کے مطابق بل میں متعدد بنیادی حقوق اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں، جن میں گرفتاری کی وجوہات تحریری طور پر بتانا، قانونی معاونت تک فوری رسائی، اہلِ خانہ سے ملاقاتیں، مناسب خوراک و ادویات کی فراہمی اور کسی آزاد ڈاکٹر سے طبی معائنہ شامل ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے کئی ممالک میں زیرِ سماعت قیدیوں کو یہ حقوق حاصل ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں شہریوں کو ان حقوق کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو، ہر فرد بے گناہ تصور ہوتا ہے، لہٰذا اسے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ زیرِ سماعت افراد اور سزا یافتہ مجرموں کے حقوق میں فرق رکھا گیا ہے۔
بل میں یہ حق بھی شامل ہے کہ زیرِ حراست شخص وکیل کی عدم موجودگی میں پولیس کے سامنے بیان دینے سے انکار کر سکے، اور اس حق کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ گرفتار شخص کو 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا، جبکہ تشدد یا غیر انسانی سلوک سے مکمل تحفظ بھی قانون کا حصہ ہے۔
قانون کا مقصد زیرِ حراست افراد کے ساتھ انسانی بنیادوں پر برتاؤ کو یقینی بنانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ممکنہ اختیارات کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
بل کے تحت متعلقہ افسر پر لازم ہوگا کہ وہ زیرِ حراست فرد کے تمام حقوق کی ضمانت دے۔
قانون میں درج ہے کہ اگر کوئی افسر گرفتار یا زیرِ تفتیش شخص کو اس کے خاموش رہنے کے حق اور آزاد و قابل وکیل کی سہولت سے آگاہ نہ کرے تو اسے 6 ہزار روپے جرمانہ یا کم از کم ایک ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ایک اور شق میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی افسر ایسے شخص کے لیے سرکاری قانونی معاونت فراہم نہ کرے جو وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے بھی یہی سزائیں دی جائیں گی۔
بل کا ایک حصہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی افسر یا اس کے حکم پر عمل کرنے والا اہلکار کسی وکیل، قریبی رشتہ دار، ڈاکٹر یا مذہبی پیشوا کو زیرِ حراست شخص سے نجی ملاقات، طبی معائنہ یا مذہبی رہنمائی فراہم کرنے سے روکے تو اسے ایک ماہ سے ایک سال تک قید اور 4 ہزار روپے جرمانہ ہو سکے گا۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران زیرِ حراست افراد کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا متعلقہ افسر کی ذمہ داری ہوگی۔
قانون کے مقاصد و وجوہات کے مطابق اس کا مقصد گرفتار، زیرِ حراست اور تفتیش کے دوران موجود افراد کے حقوق اور ذمہ دار افسران کی ذمہ داریوں کا واضح تعین ہے۔ اس میں سرکاری معاونت یافتہ وکلا کی فراہمی اور ادائیگی کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔ یہ قانون عالمی معیار اور آرٹیکل 14 کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور اسے انسانی حقوق میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ بل پر کچھ اعتراضات تھے، تاہم انہوں نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
سینیٹ نے متفقہ طور پر فیٹل ایکسیڈنٹس ایکٹ 1855 میں ترمیم کا بل—فیٹل ایکسیڈنٹس (ترمیمی) بل 2024—بھی منظور کر لیا، جسے سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا تھا اور متعلقہ قائمہ کمیٹی پہلے ہی منظور کر چکی تھی۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سیکشن 3 کی ترمیم کے بعد مہلک حادثے کے متاثرہ خاندان کو عدالت سے ایک مخصوص عبوری رقم کے حصول کا حق حاصل ہوگا۔ ان کا لمیٹڈ لائیبیلٹی پارٹنرشپ (ترمیمی) بل 2023 بھی ایوان سے منظور ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس ترمیم کے تحت اگر کوئی پارٹنرشپ فرم ایس ای سی پی میں سالانہ اکاؤنٹس جمع کرانے میں تاخیر کرے تو نوٹس ملنے کے بعد 30 دن کے اندر کاغذات جمع کرائے جا سکیں گے، اور اس پر 10 سے 20 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے لاگو نہیں ہوں گے۔
