عمران خان 9 مئی 2023 کے حملوں کا اعتراف کب کریں گے؟

بانی تحریک انصاف عمران خان نے 2002 کے الیکشن کے بعد عوام سے برملا معافی مانگی تھی کہ انہوں نے جنرل مشرف کی 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کی حمایت کرنے کے علاوہ 2001 میں ہوئے صدارتی ریفرنڈم میں بھی اسکی حمایت کی تھی۔ اب پی ٹی آئی کے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ملازمت میں توسیع دینے پر قوم سے معافی مانگی ہے اور غلطی کا اعتراف بھی کیا ہے۔
لیکن عمران خان کی جانب سے ایک ایسا ’اعتراف‘ جس کا بہت سارے لوگوں کو بڑی شدت سے انتظار ہے وہ سانحہ 9 مئی کے بارے میں ہے جس کے بعد سے عمران جیل میں قید ییں اور ان کی جماعت تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے، تاہم خان کا موقف ہے کہ جو جرم اس نے کیا ہی نہیں وہ اُس کا اعتراف کیوں کرے۔ دوسری جانب اُسکے مخالفین سمجھتے ہیں کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملے عمران اور جنرل فیض حمید کا مشترکہ منصوبہ تھے جن کا مقصد فوج میں بغاوت کروانا تھا، اسی لیے کور کمانڈرز کے گھروں اور حساس فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس روزنامہ جنگ میں اپنی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ تو کوئی عدالت ہی کر سکتی ہے کہ 9 مئی کو کس نے اور کیا سازش کی گئی، اور اس میں کون کون ملوث تھا۔ لیکن بہتر ہے کہ یہ کیس کھلی عدالت میں چلے تاکہ پتہ چل سکے کہ کیا واقعی کوئی سازش ہوئی تھی؟ ورنہ تو یہاں سب کا اپنا اپنا سچ ہے اور اپنا اپنا بیانیہ۔ یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کو 9 مئی کے حملوں میں ملوث ہونے پر 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ عمران کے کیسز کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران کے ساتھیوں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں تو انہیں بھی بطور منصوبہ ساز سزا ملنا یقینی نظر آتا ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی سیاست میں بعض ایسی سنگین غلطیاں کی ہیں جن کا شاید اب ازالہ بھی ممکن نہیں۔ مثلاً جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار یہ اعتراف کیا کہ جنرل ضیا کے ریفرنڈم اور بھٹو کی پھانسی کی حمایت جماعت اسلامی کی سنگین غلطیاں تھیں جو اس کی سیاست کے لیے انمٹ داغ بن گئیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ بات خود پی پی پی کے تحت منعقدہ سیمینار میں کی۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو شہید ہمیشہ اعتراف کرتی تھیں کہ ایم آرڈی کا 1985 کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ غلط تھا۔ لیکن سب سے تاریخی اعتراف تو بی بی اور نواز شریف کا مشترکہ تھا جب دونوں نے ایک تاریخی ’میثاق جمہوریت‘ پر دستخط کرتے ہوئے ’اعتراف‘ کیا کہ وہ دونوں فوج کے ہاتھوں ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہوئے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایک اعتراف جنرل پرویز مشرف نے بھی کیا تھا، 3 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی لگانے سے پہلے انہوں نے میڈیا پر پابندی لگانے کے فیصلے کو سنگین غلطی مانا تھا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اور ملک کو پہلا متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی اعتراف کرتے تھے کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کو پہچاننے میں ’غلطی‘ ہوئی جسکی انہیں بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ ایک اور اعتراف مجموعی طور پر سانحۂ مشرقی پاکستان پر بھی سامنے آیا مگر انفرادی طور پر کسی نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ ’بنگالیوں‘ سے معافی بھی مانگی گئی۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہماری سیاست غلطیوں سے بھر پور سہی مگر ان غلطیوں پر معذرت بھی کی گئی اور معافی بھی مانگی گئی۔ لیکن اصل مسئلہ اعتراف یا معافی کا نہیں بلکہ اسی غلطی کو دوبارہ دہرانا ہے۔ جیسا عمران کے کیس میں بھی ہمیں نظر آتا ہے، بی بی اور نواز شریف کے کیس میں بھی نظر آتا ہے۔ کاش کوئی فوجی آمر مارشل لا لگانے کی غلطی تسلیم کرتا اور اور اسے جائز قرار دینے والے جج معافی مانگتے، لیکن افسوس کہ ججوں اور جرنیلوں نے اپنے جرائم کو سرے سے غلطی ہی تسلیم نہیں کیا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ان اقدامات کا دفاع کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے نصاب سے یہ ساری غلطیاں، اعتراف اور معافیاں غائب نظر آتی ہیں جبکہ آمروں کے غیر آئینی فیصلوں کی آج بھی تعریف کی جاتی ہے یہی ۔وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان اور بچے اپنی ہی تاریخ سے ناواقف ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس ملک کے بعض چیف جسٹس شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار رہے، جیسا کہ ہمیں بیگم نصرت بھٹو کیس اور ظفر علی شاہ کیس میں نظر آتا ہے۔ عدلیہ نے غیرآئینی اقدامات کو صرف آئینی تحفظ ہی نہیں دیا بلکہ از آمر مطلق کو آئین میں ترامیم کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ لہٰذا آج کی سیاست میں جہاں ایک طرف دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی ’میثاق جمہوریت‘ کے برخلاف غیرسیاسی قوتوں کو سیاسی سپیس دیتی جارہی ہیں وہیں وہ اعلیٰ عدلیہ کو بھی آزاد اور خود مختار بنانےکے بجائے انتظامیہ کے تابع لاتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسے میں عمران خان بھی وہی سیاسی غلطی کررہے ہیں، وہ اب بھی معاملات کے سیاسی حل کیلئے فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اسی سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں آپ فرض کریں کہ اگر ان کی بات بن جاتی ہے تو وہ کیا کریں گے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاست میں ایک مختلف ’سیاسی مزاج‘ لیکر سامنے آئی جسکا لیڈر سیاست میں آنے سے پہلے بھی ’فرنٹ پیج‘ سٹوری تھا۔ خان نے اعلان کیا کہ وہ پارٹی میں کسی ’لوٹے‘ کو نہیں قبول کرے گا اور اس کیلئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جو کہ دوسری جماعتوں سے آنیوالوں کی سکروٹنی کرتی تھی، لیکن بعد میں یہ روایت ختم کر دی گئی۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بانی پی ٹی آئی کی ایسی ہی ایک سیاسی غلطی تھی جو آگے جاکر انکے جنرل باجوہ سے تنازع کا موجب بنی۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ سیاست میں آگے بڑھنے کا راستہ اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اور اعتراف کر کے نکلتا ہے۔ لہذا عمران خان کو بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
