سیاستدان ایک دوسرے کو غدار قرار دینا کب بند کریں گے؟

 

 

 

اپنے قیام کے بعد سے پاکستان مسلسل ایسے دائرے میں سفر کر رہا ہے جس میں سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینا ایک معمول بن چکا ہے۔ دائرے میں جاری اس سفر کا نقصان نہ صرف ہماری جمہوریت بلکہ پاکستان کو بھی ہوا ہے۔ لہذا وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی فیصلہ ساز اس گھن چکر سے نکلیں اور جمہوریت کو بچانے کا سوچیں تاکہ پاکستان کا مستقبل بھی محفوظ ہو سکے۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی نے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک تقریباً ہر بڑے عوامی رہنما کو حب الوطنی کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے، اور یہ سلسلہ تاحال رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ عامر خاکوانی ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں پاکستان شدید سیاسی پولرائزیشن کا شکار تھا۔ اس دور میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان سیاسی کشمکش نے پاکستانی عوام کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، ایک طرف کے لوگ پیپلزپارٹی کے حامی تھے تو دوسری طرف دائیں بازو کے حلقے ان کے سخت مخالف تھے اور ضیا دور میں جنم لینے والی مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے تھے۔

 

عامر خاکوانی ایک پرانی صحافتی مثال دیتے ہیں جس میں ایک معروف جریدے نے بے نظیر بھٹو کے خلاف سنسنی خیز الزامات شائع کیے اور ان سمیت ان کے خاندان کو بھی ملعون و مطعون کرنے کی کوشش کی۔ اس دور میں سیاسی مخالفت کی آڑ میں ذاتی حملے اور کردار کشی سیاسی کلچر کا لازم و ملزوم حصہ بن چکی تھی۔ خاکوانی کے مطابق اس ماحول میں نوجوان نسل بھی شدید متاثر ہوئی۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ گھنٹوں سیاسی مباحثوں میں مصروف رہتے اور مختلف اخبارات و جرائد کے زیر اثر اپنے سیاسی نظریات تشکیل دیتے۔

 

خاکوانی خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس دور میں وہ بھی دائیں بازو کے خیالات سے متاثر ہو کر بھٹو خاندان کو غدار سمجھنے لگے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ سوچ محض عوامی سطح پر نہیں بلکہ خود سیاستدانوں کی تقاریر اور بیانیے سے پروان چڑھی۔ مثال کے طور پر وہ ایک جلسے کا حوالہ دیتے ہیں جہاں نواز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک قرار دے دیا، انکا کہنا ہے کہ انہیں اپنے صحافتی تجربے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ماضی میں میڈیا کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ بعض اوقات فرضی کرداروں یا جعلی بیانیوں کے ذریعے مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا، جو دراصل ڈرٹی جرنلزم یا زرد صحافت کی ایک شکل تھی۔ ان کے مطابق شدید سیاسی کشیدگی کے ماحول میں ایسے ہتھکنڈے عام ہو جاتے ہیں۔

 

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں وقت کے ساتھ طریقہ کار تو وہی رہا لیکن سٹیج کے کردار بدلتے گئے۔ کبھی دائیں بازو کے حلقے لبرل یا بائیں بازو کے سیاست دانوں کو مشکوک قرار دیتے ہیں تو کبھی لبرل حلقے مذہبی یا دائیں بازو کے عناصر پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات لگاتے ہیں۔ تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ عالمی سیاست میں سازشوں کا وجود ممکن ہے، لیکن ہر سیاسی اختلاف کو غداری سے جوڑ دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق بڑی سیاسی جماعتوں اور قومی رہنماؤں کی حب الوطنی پر بلاجواز سوال اٹھانا معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔

 

عامر خاکوانی اپنی تجزیے میں بھٹو مخالف بیانیے کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح بعض صحافیوں نے یہ دلیل دی کہ چونکہ بھارت میں بھٹو کو پسند کیا جاتا ہے، اس لیے ان کا کردار مشکوک ہے۔ خاکوانی اس دلیل کو آج کے تناظر میں بچکانہ اور غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی لیڈر کی خارجہ پالیسی یا سوچ کو غداری سے جوڑنا درست نہیں۔ وہ بھارتی رہنماؤں اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مختلف ادوار میں مختلف رہنماؤں کے بارے میں رائے بدلتی رہتی ہے، مگر اس بنیاد پر کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ انکے بقول بے نظیر بھٹو کی پالیسی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی تھی، جبکہ نواز شریف بھی تجارت اور سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے حامی تھے۔ لیکن ان کے مطابق ان پالیسیوں کو سیاسی اختلاف کے بجائے غداری کا نام دینا سراسر ناانصافی ہے۔

 

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ یہ طرز عمل بعد میں بھی جاری رہا، بے نظیر بھٹو کے بعد برسر اقتدار آنے والے نواز شریف کو بھی بھارتی بزنس مین سے تعلقات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ آج اسی نوعیت کے روابط کو بعض حلقے سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ اس تضاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ الزامات اکثر سیاسی مفادات کے تحت لگائے جاتے ہیں۔ عامر خاکوانی موجودہ سیاسی منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ عمران خان کی ناکام طرز حکمرانی اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا درست نہیں۔ وہ اس تاثر کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ کسی سیاسی جماعت کو دشمن عناصر سے جوڑ دیا جائے۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان اب بھی اسی پرانے دائرے میں گھوم رہا ہے، جہاں سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینا ایک معمول بن چکا ہے۔ ان کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ اس رویے کو ترک کر کے جمہوری روایات کو فروغ دیا جائے، جہاں اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے اور سیاسی تنقید کو ذاتی حملوں سے الگ رکھا جائے۔

 

Back to top button