جنرل باجوہ کا کونسا احساس جرم عمران خان کی چھٹی کی وجہ بنا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار روؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ تاریخی دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو برسر اقتدار لانے والے جنرل قمر باجوا کے دور میں ہی تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنرل باجوہ کے اندر ایک غلط شخص کو وزیراعظم بنوانے کے حوالے سے احساسِ جرم پیدا ہو چکا تھا۔ انہیں اس بات کا بھی افسوس تھا کہ جس وزیر اعظم یعنی نواز شریف نے انہیں آرمی چیف لگایا تھا وہ جیل میں بند ہے۔ ویسے بھی جنرل باجوہ نے عمران خان سے جو کام لینا تھا وہ بھی لے چکے تھے، یعنی وہ اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع حاصل کر چکے تھے۔ لہذا اب ان کے نزدیک عمران خان کا کوئی کام نہیں رہ گیا تھا۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ اب عمران خان سے زیادہ آصف زرداری اور نواز شریف کے شکر گزار تھے جنہوں نے پارلیمنٹ میں ووٹ دے کر کر ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کروائی تھی‘ حالانکہ تب دونوں جیل میں تھے۔ یوں اس ووٹ کی وجہ سے جنرل باجوہ اور نواز شریف کے درمیان برف پگھلی اور بات دھیرے دھیرے میاں نواز شریف کی رہائی تک جا پہنچی۔ عمران خان کو جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنا تھی جو وہ اکیلے نہیں کر سکتے تھے۔ اس کیلئے انہیں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کا ووٹ درکار تھا۔ جنرل باجوہ نے ان دونوں کا ووٹ لینا تھا‘ اور زرداری اور نواز شریف‘ دونوں جیلوں میں تھے۔ ایسے مین جب ملک کا آرمی چیف اپنا بندہ ان کے پاس جیل بھیجے گا کہ ہمارے چیف کو ووٹ دو تو قیدی ان سے کیا مانگے گا؟ اگر قیدی ایک آرمی چیف کو تین سال مزید دے رہا تھا تو اسے بھی بدلے میں کچھ چاہیے تھا۔ ایک قیدی نے اس ووٹ کی قیمت جیل سے آزادی مانگی۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اُس وقت دو باتیں ہو سکتی تھیں‘ پہلی یہ کہ عمران خان کبھی نواز شریف اور آصف زرداری سے جنرل باجوہ کو ووٹ نہ لینے دیتے اور ہمت کر کے نیا چیف مقرر کر کے جنرل باجوہ کو گھر بھیج دیتے۔ خان کو اتنی عقل ہونی چاہیے تھی کہ زرداری اور نواز شریف جنرل باجوہ کو ووٹ ڈالیں گے تو بدلے میں انہیں بھی کچھ دینا پڑے گا۔ وہ بڑی قیمت تھی‘ لہٰذا جنرل باجوہ اب گھر جائیں‘ وہ یہ قیمت نہیں دیں گے تاکہ جنرل باجوہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احسان نہ لیں۔ دوسرا کام جنرل باجوہ یہ کر سکتے تھے کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نیا قانون بنائیں اور عمران خان کے پاس اکثریت نہ تھی تو وہ خود توسیع لینے سے انکاری ہو جاتے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کا ووٹ نہیں لیں گے‘ جنہیں وہ کرپٹ سمجھتے تھے اور ان کی فائلیں اپنے پسندیدہ صحافیوں کو دکھا کر اُن سے ٹی وی پروگرام کراتے تھے۔ لیکن جنرل باجوہ نے اس فارمولے پر چلنے کا فیصلہ کیا کہ اس معاملے میں وہ تکلف سے کام نہیں لیں گے۔ جس نے کی شرم‘ اس کے پھوٹے کرم۔ لہذا انہوں نے نواز شریف اور آصف زرداری سے اپنی توثیح کے لیے ووٹ مانگ لیے اور بدلے میں یقین دہانیاں بھی کروا دیں۔ یوں گیم عمران خان کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئی۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ وہ واحد پاکستانی جرنیل تھے جن کو آرمی چیف بنوانے میں ان کے سسر کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس حوالے سے خواجہ محمد آصف کا۔کردار بھی اہم تھا۔ ویسے تو جنرل باجوہ کے سسر جنرل (ر) اعجاز کا نواز شریف خاندان سے پرانا تعلق بھی تھا جس کے تانے بانے 1990ء کی دہائی سے جا کر ملتے تھے‘ جب وہ آرمی میں تھے۔ اس لیے نواز شریف جب وزیراعظم تھے بنے تو جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنانے کا سوچنے لگے۔
رووف کلاسرا بتاتے ہیں کہ جہاں کچھ اور سفارشیں تھیں وہیں اُن کے سسر جنرل (ر) اعجاز کا بھی بڑا تگڑا ریفرنس تھا۔ اس لیے جب جنرل باجوہ آرمی چیف بنے تو اُن کے چھ سالہ دور میں یہ مشہور تھا کہ داماد سے زیادہ طاقتور سسر ہے اور اُن کی زیادہ چلتی ہے۔ جس نے کوئی کام کرانا ہوتا‘ وہ جنرل (ر) اعجاز سے ملتا تو کام ہو جاتا تھا کیونکہ جنرل باجوہ کو علم تھا کہ وہ آرمی چیف نہیں بن سکتے تھے کیونکہ ان سے قابل لوگ سنیارٹی لسٹ میں تھے‘ لیکن نواز شریف نے جب بھی آرمی چیف لگایا ان کے نزدیک قابلیت‘ اہلیت یا پروفیشنلزم سے زیادہ تعلق‘ ذاتی وفاداری اور برادری اہم تھی۔ قابلیت سے انہیں ہمیشہ سے چڑ رہی ہے‘ لہٰذا چیف لگاتے وقت وہ ان کے سفارشی دیکھا کرتے تھے اور ان کی ضمانتیں مانگا کرتے تھے۔ یہ الگ بات کہ ان تمام تر باتوں کے باوجود وہ کوئی ایسا چیف نہ لگا سکے جو اُن کی حکومت برطرف نہ کرتا یا انہیں جیل میں نہ ڈالتا۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف قابلیت اور اہلیت کو ذاتی وفاداری اور برادری‘ تعلق اور ان کے ضامنوں پر اعتبار نہ کرتے تو شاید کبھی برطرف نہ ہوتے اور نہ ہی جیل جاتے۔ جنرل مشرف ہوں‘ راحیل شریف ہوں یا جنرل باجوہ‘ کسی نہ کسی پاور فل ریفرنس‘ برادری لنک یا تگڑے ضامن کے کہنے پر لگائے گئے تھے۔ جنرل مشرف کو انہوں نے کمزور آرمی چیف سمجھ کر لگایا تھا‘ جس کی فوج میں پٹھانوں اور پنجابیوں کی طرح بڑی لابی نہیں تھی‘ ان کے سفارشی چودھری نثار علی خاں تھے‘ جنہوں نے شہباز شریف کو بھی ساتھ ملا کر قائل کر لیا تھا۔ جنرل راحیل کی دفعہ کشمیری لنک نکل آیا جبکہ جنرل باجوہ کی مرتبہ ان کے سسر نے 1990ء کی دہائی میں اس خاندان کو دی گئی ایک پرانی فیور کا بدلہ مانگ لیا۔
اسی لیے عمران خان کے دور حکومت میں جنرل باجوہ تب مشکل میں پڑ گئے جب وزیر اعظم نے خواجہ آصف کی گرفتاری کی فرمائش کر ڈالی۔ جنرل باجوہ چونکہ عمران خان کا سارا گندا دھندا چلاتے تھے لہذا ان کیلئے یہ مشکل فیصلہ تھا کہ وہ خواجہ آصف کو گرفتار ہونے دیں۔
رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ ان دنوں بھی نیب عسکری قیادت سے پوچھ کر ”انصاف‘‘ کیا کرتی تھی۔ چنانچہ عمران نے وزیر اعظم بنتے ہی جن اپوزیشن لیڈروں کو فوراً جیل میں ڈالنے کی فرمائش کی تھی ان میں خواجہ آصف سرفہرست تھے۔ ان کے خلاف تو وہ کابینہ سے باقاعدہ منظوری بھی لے چکے تھے اور مقدمہ بھی وہ آرٹیکل چھ کے تحت چاہتے تھے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ سزا ہو اور گرفتاری کے بعد ضمانت بھی نہ ہو اور ان پر غداری کا لیبل بھی لگے تا کہ ساری عمر وہ اس کا سامنا کرتے رہیں۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ عمران خان کے خواجہ آصف کے اتنے شدید غصے کی وجہ خواجہ آصف کانیہ بیان تھا کہ خان نے چندہ میں جمع کیے ہوئے لاکھوں ڈالرز باہر انویسٹمنٹ کے نام پر ضائع کر ڈالے‘ اور وہ شوکت خانم ہسپتال میں غریبوں پر خرچ ہی نہیں ہوئے‘ جس کیلئے جمع کیے گئے تھے۔ خان صاحب وہ بات نہیں بھول پا رہے تھے۔ لیکن جب عمران خان کو پتہ چلا کہ جنرل باجوہ اور اُن کے سسر اس کام میں رکاوٹ ہیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ خواجہ کو تو جیل میں ڈال کر رہیں گے۔ اب معاملہ انا کا بن گیا تھا۔ یوں انہوں نے وزیراعظم کے طور پر ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا اور جنرل باجوہ اور ان کے سسر بھی اس بار خواجہ آصف کو نہ بچا سکے اور وہ جیل جا پہنچے۔ خواجہ آصف پورے چھ ماہ نیب کی حراست میں رہے‘ پھر کہیں جا کر ان کی ضمانت ہوئی۔ اس دوران (ن) لیگ کے لیڈروں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ لیکن لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ائی ایس ائی چیف تعیناتی کے معاملے پر عمران خان اور جنرل باجوا کے مابین اختلافات کیا پیدا ہوئے، خان کا اقتدار ہی گل ہو گیا۔
