پیپلز پارٹی 27 ویں ترمیم کی کس شق کی مخالفت کرے گی؟

 

 

 

پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اور وسائل کم کرنے اور وفاق کا حصہ اور دائرہ اختیار بڑھانے کی ممکنہ کوشش کی سخت مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق ایسی کوئی بھی ترمیم پاکستان کے وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خود مختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی تصور کی جائے گی۔

 

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت حکومت کی ایسی کسی بھی ترمیم کی ڈٹ کر مخالفت کرے گی جس سے اختیارات کی اس تقسیم کو چھیڑا جائے گا جو کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے طے پائی تھی۔ یاد رہے کہ آصف زرداری نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اور وسائل میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جب کہ وفاق کے مالی اختیارات کم کر دیے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت 18ویں آئینی ترمیم کو اپنا ایک کارنامہ قرار دیتی ہے چونکہ اس کے ذریعے آصف زرداری نے مشرف دور میں ترامیم کے ذریعے چھینے گے پارلیمنٹ کے اختیارات بھی اس کو واپس لوٹا دیے تھے۔

 

تاہم پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ نون لیگی حکومت کا موقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت قومی وسائل کا تقریباً 60 فیصد حصہ منتقل ہو جاتا ہے، جب کہ وفاق کے لیے صرف 40 فیصد بچتا ہے، جو کہ دفاعی اخراجات، فوجی اور سویلین پنشن اور دیگر قومی اخراجات کے لیے ناکافی ہے۔ ان کے مطابق، وفاق کو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

 

ادھر 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کے مطابق، تعلیم، آبادیاتی منصوبہ بندی اور مالی وسائل کی تقسیم جیسے اہم شعبے، جو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ گئے تھے، دوبارہ وفاق کے کنٹرول میں لانے کی تجویز ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد قومی سطح پر پالیسی سازی میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور ریاستی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

 

تاہم پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نوید قمر کے مطابق، "ہم کسی ایسی ترمیم کی حمایت نہیں کر سکتے جو صوبوں کے اختیارات واپس لے۔ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے پر حملہ تصور ہو گا، جسے پیپلز پارٹی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک سنگِ میل ہے جس میں کوئی تبدیلی دراصل صوبائی خودمختاری کی نفی ہوگی۔

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے ایسی کوئی ترمیم پارلیمان میں پیش کی تو پیپلز پارٹی ایوان کے اندر اور باہر بھرپور سیاسی مزاحمت کرے گی۔ ان کے مطابق، ایسی کسی بھی ترمیم سے نہ صرف سیاسی توازن متاثر ہوگا بلکہ معاشی عدم مساوات بھی بڑھ سکتی ہے، کیونکہ وسائل کا بڑا حصہ دوبارہ وفاق کے پاس چلا جائے گا۔

آئینی ترمیم پر پریشان نہيں ہونا چاہیے: فاروق ستار

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کو طویل عرصے سے شکایت ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ تر مالی وسائل صوبوں کو منتقل ہو گئے، جس سے وفاق کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے رقم کی شدید کمی رہ جاتی ہے۔ حکومت کے مطابق، پاک افواج، پنشن یافتہ سرکاری ملازمین اور دیگر قومی ذمہ داریوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وفاق کو زیادہ مالی وسائل درکار ہیں، جو موجودہ تقسیم کے نظام میں ممکن نہیں۔ اس پس منظر میں حکومت این ایف سی کے تحت صوبوں کو ملنے والے فنڈز کے فارمولے پر نظرِ ثانی کرنا چاہتی ہے تاکہ وفاق کے مالی اختیارات میں اضافہ ہو۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا منفی اثر صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر پڑے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صوبوں کے فنڈز میں کمی کی گئی تو صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سست روی کا شکار ہو جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا۔ چنانچہ پیپلز پارٹی ہر اس ترمیم کی سخت مخالفت کرے گی جو صوبوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچائے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ "یہ صرف آئینی مسئلہ نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کے تعلق کا امتحان ہے۔ پیپلز پارٹی کہ ذرائع نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس کی حمایت کے بغیر نون لیگی حکومت کسی آئینی ترمیم کو منظور کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

 

Back to top button