آئینی ترمیم پر پریشان نہيں ہونا چاہیے: فاروق ستار

 

 

 

سینئر رہنما ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ آئین ایک مقدس دستاویز ضرور ہے لیکن یہ آسمانی صحیفہ نہیں، اس لیے آئینی ترمیم پر حیرت یا پریشانی کا اظہار نہیں ہونا چاہیے، بلدیاتی خود مختاری کو بھی موجودہ ترمیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم،موجودہ سیاسی صورت حال، مسلم لیگ (ن) سے معاہدے اور مجوزہ بلدیاتی آئینی ترمیمی پیکج پر تفصیلی مشاورت کی گئی، جس میں ارکان نے رائے دی کہ بلدیاتی ترمیم کی منظوری کےلیے وفاقی حکومت سے باضابطہ مذاکرات کیے جائیں۔

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار نے کہا کہ آئین مقدس ضرور ہے لیکن آسمانی صحیفہ نہیں، لہٰذا آئینی ترمیم کے عمل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔مقامی حکومتوں کو اختیارات دے کر عوامی مسائل کا حل ممکن ہے،بلدیاتی نظام کے قوانین کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

سینئر رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار کاکہنا تھاکہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت ایک دو جماعتوں کے سوا سب کی حمایت حاصل تھی، 18ویں ترمیم صوبائی خود مختاری کےلیے لائی گئی تھی، اب اگلا مرحلہ بلدیاتی خود مختاری کا ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بلدیاتی خود مختاری کو موجودہ ترمیم میں شامل کیا جانا چاہیے، یہی ایم کیو ایم کا بنیادی مطالبہ ہے۔ 26ویں ترمیم میں بھی بحث تھی کہ آئینی بینچ یا آئینی عدالت بننی چاہیے، بالآخر فیصلہ آئینی بینچ کے حق میں ہوا۔

ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت کی رائے میں آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی۔

 

Back to top button