پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں کن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

 

 

 

پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حملے کرتے ہوئے اُس دہشت گرد نیٹ ورک کے ٹھکانے تباہ کیے جو 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملے کا ذمہ دار تھا۔ اس حملے میں کم از کم 40 افراد شہید ہوئے تھے، جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔

 

پاکستان کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات پاک افغان سرحدی علاقے میں قائم 7 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پاکستان مخالف شدت پسند گروہ سرگرم تھے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے خودکش حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ پاک فضائیہ کے فضائی حملوں میں ’80 سے زائد‘ افغان شدت پسند ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان کے مطابق فوج نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ عناصر کے علاوہ داعش خراسان کے ایک ذیلی دھڑے کو بھی نشانہ بنایا۔ افغان حکومت ماضی میں شدت پسندوں کو پناہ دینے کی تردید کرتی رہی ہے۔

 

لیکن حملوں کے بعد پاکستان نے اتوار کو کہا کہ بارہا ہمارے مطالبات کے باوجود طالبان حکام افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرنے والے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہے ہیں۔ اسلام آباد نے یہ حملے دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے اور حالیہ شمال مغربی علاقوں میں دیگر حملوں کے بعد کیے۔ اتوار کی درمیانی شب کی جانے والی اس کارروائی کے بارے میں پاکستانی عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انٹیلیجنس بیسڈ فضائی حملوں میں افغانستان کے تین صوبوں یعنی ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ان حملوں کو افغانستان کی سرحدی حدود اور قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

 

صوبہ ننگرہار کے حکام نے دعویٰ کیا کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں ایک رہائشی گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔ طالبان حکومت کے صوبائی ترجمان عمرو قریشی بدن کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور مرد بھی شامل ہیں۔ اسی طرح صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک مدرسے پر بھی حملے کی اطلاع دی گئی ہے۔ مقامی طالبان ذریعے کے مطابق مدرسہ رمضان کے باعث بند تھا، جس کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم عمارت کے کچھ حصے کو نقصان پہنچا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں مدرسے کی عمارت کے ایک حصے کو تباہ دکھایا گیا ہے اور وہاں موجود کتابوں کو بھی نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

اسلام آباد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی ’ٹھوس شواہد‘ کی بنیاد پر کی گئی۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق حالیہ خودکش دھماکوں، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملے شامل ہیں، کے بعد پاکستان کے پاس ایسے شواہد موجود تھے کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں موجود شدت پسند قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر کی جا رہی تھیں۔

 

ادھر افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا اور ان حملوں کو علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا کہ افغانستان اپنی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے اور ’مناسب وقت‘ پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکام اپنی داخلی سکیورٹی ناکامیوں کا ازالہ افغانستان پر حملوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بمباری میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آصف زرداری نے پنجاب کے دورے میں عمران کا رگڑا کیوں نکالا؟

دوسری جانب پاکستان مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے آصف درانی نے اسے افغان طالبان کے لیے ایک ’واضح وارننگ‘ قرار دیا۔ ان کے بقول یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سرحد پار پناہ گاہوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور طالبان حکام کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

کابل یونیورسٹی کے پروفیسر فیض زالند کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات حالیہ عرصے میں غیر معمولی حد تک کشیدہ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی واقعی افغان طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے تو یہ خود طالبان حکومت کے لیے بھی تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔

 

Back to top button