انڈیا کا ایس 400 دفاعی نظام تباہ کرنے والے پائلٹس کون ہیں؟

حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیا کا جدید ترین روسی ساختہ ایس 400 فضائی دفاعی نظام تباہ کرنے والے ایئر فورس پائلٹس کو ریاست پاکستان کی جانب سے ستارہ جرات سے نوازنے کے بعد ان بہادر جانبازوں کے نام سامنے آ گئے ہیں۔ ستارہ جرات پاکستان کا تیسرا بڑا اعزاز ہے جو عموما بریگیڈیئر یا میجر جنرل رینک کے افسران کو نمایاں خدمات سر انجام دینے پر دیا جاتا ہے۔

14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پاک فضائیہ کے ونگ کمانڈر ملک رضوان الحق افتخار کو تمغہ بسالت کا اعزاز دینے کے بعد حاضرین کے سامنے اُن کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ: ایس 400 انھوں نے تباہ کیا ہے۔‘

ریاست پاکستان نے یوم آزادی پر جن پائلٹس کو ستارہ جرات سے نوازا ان میں ونگ کمانڈرز بلال رضا اور حماد ابن مسعود شامل ہیں جبکہ سکوارڈن لیڈرز یوسف خان، اسامہ اشفاق، حسن انیس، طلال حسن، فدا محمد خان اور محمد اشہد کو یہ اعزاز صدر آصف علی زرداری کی طرف سے دیا گیا۔ پاکستانی فضائیہ کے 15 سکواڈرن کے 6 پائلٹس کو ستارہ جرات دیا گیا جبکہ 14 سکواڈرن کے 2 پائلٹس کے نام ستارہ جرات حاصل کرنے کی لسٹ میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جب انڈیا نے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر حملے کیے تو پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چھ اور سات مئی کی درمیانی رات انڈیا کے رافیل سمیت پانچ طیارے مار گرائے تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس طرح فوجی افسران اور پائلٹس کو اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ فروری 2019 میں بھی انڈیا نے آزاد کشمیر کے علاقے بالا کوٹ میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویِ کیا تھا۔ اس کارروائی کے 24 گھنٹے کے اندر ہی پاکستان نے ایک انڈین مگ-21 جنگی طیارہ مار گرایا گیا تھا اور انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کو تحویل میں لے کر چند روز بعد رہا کر دیا تھا۔ 2019 میں بھی یوم آزادی کے موقع پر انڈین طیارہ مار گرانے والے دو پاکستانی پائلٹس کو اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ تب صدر نے جن دو افسروں کو اعزازات سے نوازا تھس ان میں وِنگ کمانڈر نعمان علی خان اور سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی شامل تھے۔ ان دونوں افسران کو بالترتیب ستارہ جرات اور تمغۂ شجاعت کے اعزازات دیے گئے تھے۔

14 اگست کو ایوان صدر میں اعزازات سے نوازنے کی تقریب کے دوران حکومت کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کس پائلٹ نے کونسا بھارتی طیارہ گرایا، تاہم سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہی وہ پائلٹس ہیں جنھوں نے 6 اور 7 مئی کی رات انڈین طیارے گرانے کے علاوہ اسکا ایس 400 فضائی دفاعی نظام بھی تباہ کر دیا تھا۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ چھ اور سات مئی 2025 کی رات پاکستانی فضائیہ کے نمبر 15 سکواڈرن کے پائلٹس نے جے-10 سی لڑاکا طیاروں سے انڈین فضائیہ کے پانچ طیاروں کو مار گرایا تھا۔

اُن کے مطابق 14 سکواڈرن کا تعلق جے ایف-17 طیاروں سے ہے۔ ان پائلٹس کے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ انھوں نے انڈیا کے روسی ساختہ دفاعی نظام ایس-400 کو تباہ کیا تھا۔

15 سکواڈرن کے پائلٹس کے نام چھ میڈل رہے جبکہ 14 سکواڈرن کو دو میڈلز سے نوازا گیا۔ ائیر فورس میں سکواڈرن ایسی اصطلاح ہے جیسے بری فوج میں یونٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بتایا کہ پاک بھارت جانگ کے دوران نمایاں کردار ادا کرنے والے ائیر فورس افسران کو ترقی دینے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں۔

 کیا انڈیا کی ہار کے بعد پاکستان میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے؟

فضائیہ کے ایک سینیئر افسر کے مطابق یہ تمغے، ایوارڈ اور اعزازات ترقی میں معاون تو ثابت ہوتے ہیں مگر ان سے کوئی مالی فائدہ یا دیگر مراعات حاصل نہیں ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک اعزاز ہوتا ہے جیسے سکول میں کوئی طالبعلم اچھی پوزیشن حاصل کرتا ہے تو اسے ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ یہ کسی کے کارنامے یا خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہمارے افسران کی اس طرح حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور پھر ان میں وطن کے لیے مزید کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

ادھر انڈیا یوم آزادی یعنی 15 اگست کو دلی کے لال قلعہ میں ہونے والی سرکاری تقریب کے دوران وزیر اعظم مودی نے ان فوجی افسران کو  اعزازات سے نوازا جن کی وجہ سے چار روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیا کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

Back to top button