پاکستان میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت کس نے قائم کر لی؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں آج جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آئین میں 27 ویں ترمیم کے تحت چند شخصیات کو دیئے جانے والے تا حیات استثنیٰ کو ملک کے جید علماء نے خلاف شریعت قرار دیکر مسترد کر دیا ہے ۔ یہ استثنیٰ تو قائد اعظم نے بھی نہیں مانگا تھا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ جناح کے پاکستان میں منافقت اور مفاد پرستی نے ہمیں وہاں پہنچا دیا ہے جہاں سیاسی اختلاف اور جرات اظہار کو ریاست کے خلاف جرم بنا دیا گیا ہے۔ وہ سسٹم جس نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ایک طالب علم بھگت سنگھ کو دہشت گرد قرار دیا تھا وہ سسٹم پاکستان میں واپس آرہا ہے اور اس سے نجات کیلئے جناح نے جو پاکستان بنایا تھا وہ ہم کھو رہے ہیں۔ ہمیں وہ پاکستان چاہیے جہاں بھگت سنگھ جیسے سیاسی قیدی کے حق میں تقریر کرنے پر کسی سیاسی کارکن کو غدار قرار نہ دیا جائے۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ محمد علی جناح سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ آپ سنی ہیں یا شیعہ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ میں نہ شیعہ ہوں نہ سُنی بلکہ صرف ایک مسلمان ہوں کیونکہ میرے پیارے نبی صرف ایک مسلمان تھے۔ قائد اعظم نے 16 دسمبر 1937 ء کو سینٹرل لیجسلیٹو اسمبلی آف انڈیا سے ایک بل منظور کروایا تھا جسکے تحت جائیداد میں مسلمان خواتین کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا ۔ اس بل پر بحث کے دوران کچھ مسلمان جاگیر داروں نے قائد اعظم کو شیعہ سنی کی بحث میں الجھانے کی کوشش کی اور پوچھا کہ مسلمان خواتین کو جائیداد سے حصہ شیعہ قانون کے تحت ملے گا یا سنی قانون کے تحت ملے گا ؟ قائد اعظم کے دلائل سُن کر اسمبلی کے تمام شیعہ اور سنی ارکان صرف مسلمان بن گئے اور سب کی تائید سے بل منظور ہو گیا۔

 

حامد میر کہتے ہیں کہ 25 دسمبر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یوم قائد تو بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے لیکن ہماری قوم کو آج بھی جناح کے بہت سے کارناموں سے آگاہی نہیں ہے۔ جس قانون کے تحت ایک خصوصی عدالت بنا کر بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی اُس قانون کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے مسترد کر دیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس قانون کے خلاف جاری کئے جانے والے اعلامیے پر دستخط بھی کئے۔

 

معروف بھارتی قانون دان اور محقق اے جی نورانی کی کتاب’دی ٹرائل آف بھگت سنگھ‘میں آپکو صرف علامہ اقبال نہیں بلکہ قائد اعظم کی طرف سے بھگت سنگھ کی حمایت کے بارے میں بہت سی تفصیل مل جائیگی۔ قائد اعظم نے تو اسمبلی میں بھگت سنگھ کو دہشت گرد کی بجائے ایک سیاسی قیدی ثابت کرنے کیلئے بہت طویل تقریر کی تھی۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ایک قائد وہ ہے جس کی تصویر سرکاری دفاتر میں آویزاں ہے اور جس کے سائے میں قائد کی تعلیمات کو روزانہ روندا جاتا ہے۔ دوسرا قائد وہ ہے جو آزادی، جمہوریت، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا حامی تھا لیکن وہ قائد پرانی کتابوں اور فائلوں میں بند ہے۔ اگر یہ غیر سرکاری قائد باہر آ گیا تو نوجوان نسل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پالیسیوں میں سے اس اصلی قائد کو تلاش کرنے لگے گی اور ایسی صورت میں پاکستان کے ارباب اختیار کیلئے بڑی مشکل ہو جائیگی۔

 

آپ سوچئے کہ بھگت سنگھ کو برطانوی سرکار نے دہشت گرد قرار دیکر 23 مارچ 1931 کو لاہور میں پھانسی دیدی تھی لیکن قائد اعظم نے بھگت سنگھ کو جیل میں سیاسی قیدی کے حقوق دینے کی حمایت کی تھی ۔ بھگت سنگھ پر ایک انگریز پولیس افسر کو قتل کرنے اور اسمبلی میں بم دھماکے کا الزام تھا ۔ اتفاق سے جب بھگت سنگھ نے سینٹرل لیجسلیٹیو اسمبلی میں کریکر کا دھماکہ کر کے اپنے پمفلٹ پھینکے تو قائد اعظم اسمبلی کے اجلاس میں موجود تھے ۔ انہوں نے اس واقعے پر کہا کہ میں بھگت سنگھ کے ایکشن کی حمائت نہیں کرتا لیکن جس سسٹم نے اُسے یہ سب کرنے پر مجبور کیا وہ سسٹم بھی ٹھیک نہیں ۔ جب جیل میں بھگت سنگھ کو عام قیدیوں کے ساتھ بند کیا گیا تو انہوں نے کہا ہم تو سیاسی قیدی ہیں لہٰذا ہمیں سیاسی قیدیوں والے حقوق دیئے جائیں۔ اس نے اپنے موقف کے حق میں بھوک ہڑتال کر دی۔

عدالت نے عوام کے خلاف اور مافیا کے حق میں فیصلہ کیوں دیا؟

حامد میر کے بقول محمد علی جناح نے بھگت سنگھ کے اس موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے بھگت کو جیل میں جن مراعات کا حقدار قرار دیا وہ آج کے پاکستان کی جیلوں میں بھی نہیں ملتیں۔ بھگت سنگھ کے ٹرائل کیلئے ایک خصوصی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جس کے تحت ایک عدالت قائم کی گئی جس نے بھگت سنگھ کا سمری ٹرائل کیا۔ جناح اور اقبال اس ٹرائل کو غیر قانونی سمجھتے تھے اور انہوں نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ یہ تفصیل جناح اور اقبال کا سامراج دشمن کردار اُجاگر کرتی ہے اور اُن سب دانشوروں کو جھوٹا ثابت کرتی ہیں جو قیام پاکستان کو انگریزوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ بھگت سنگھ کو لاہور میں 23 مارچ 1931 کو پھانسی دی گئی جبکہ جناح نے مسلمانوں کیلئے ایک نئے وطن کی قرارداد لاہور میں 23 مارچ 1940 کو منظور کرائی۔

Back to top button