باجوڑ میں پاک فوج کو چیلنج کرنے والا فقیر محمد کون ہے؟

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں ہتھیار ڈالنے سے انکار کرنے والے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کی قیادت مولوی فقیر محمد کر رہے ہیں جنہیں 2021 میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد نئی افغان طالبان حکومت نے رہا کر دیا تھا۔ اب اس رہائی کا خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے چونکہ فقیر محمد اور اس کے ساتھی باجوڑ ایجنسی پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور بار بار کی وارننگ کے باوجود علاقہ چھوڑنے سے انکاری ہیں۔
یاد رہے کہ باجوڑ کے ایک قبائلی جرگے نے طالبان دہشتگردوں کو علاقہ بدر کرنے کا فیصلہ دیا تھا جسے مسترد کرتے ہوئے مولوی فقیر کی زیر قیادت تحریک طالبان نے باجوڑ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے میں پاکستانی فوج نے علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کیلئے ٹارگٹڈ آپریشن کرنے اور طالبان سے مذاکرات نہ کرنے کا دوٹوک فیصلہ کر لیا ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں امن و امان کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
مولوی فقیر کی زیر قیادت تحریک طالبان کا اصرار ہے کہ وہ باجوڑ سے واپس نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز گروپ یا قافلے کی شکل میں نقل و حرکت نہ کریں اور اپنی چوکیوں کو راشن سپلائی کرنے سے پہلے بھی طالبان کو اطلاع دی جائے طالبان کا مزید کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز قافلوں کی شکل میں اسلحہ لے کر نہ چلیں۔ ان شرائط پر عمل درآمد کی صورت میں فورسز پر حملہ نہیں کیا جائے گا، دوسری صورت میں طالبان خون خرابے کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوشش کرنے والے جرگے کے سربراہ صاحبزادہ ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں فوج مخالف شدت پسند کارروائیوں کے نگران مولوی فقیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولوی فقیر تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب امیر ہیں اور باجوڑ ایجنسی کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں۔ فقیر باجوڑ کے اہم طالبان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ فروری 2013 میں پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان چلے گے تھے جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم 8 سال بعد انہیں اپریل 2012 میں طالبان حکومت نے امریکی فوجوں کے انخلا کے فوری بعد کابل جیل سے رہا کر دیا تھا۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ قبائلی رہنما نے بتایا کہ 1970 میں پیدا ہونے والے فقیر محمد کا تعلق افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے ماموند سے ہے اور انہوں نے ابتدائی مذہبی تعلیم علاقے کے مدارس سے ہی حاصل کی۔ 22 سال کی عمر میں مولوی فقیر محمد، مولانا صوفی محمد کی کالعدم تحریک نفاذ شریعت کا حصہ بن گئے تھے۔ یاد رہے کہ صوفی محمد نے ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کے لیے 1993 میں باقاعدہ طور پر احتجاج شروع کیا تھا۔ مولوی فقیر اس تحریک کے تمام تر احتجاجی مراحل کے علاوہ حکومت سے مذاکرات میں بھی پیش پیش تھے۔ اسی دوران میں مولوی فقیر محمد کی سیاسی اور عسکری زندگی کا آغاز ہوا۔
امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد مولانا صوفی محمد نے افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف طالبان حکومت کی حمایت کے لیے لشکر لے جانے کا فیصلہ کیا تو باجوڑ سے لشکر میں شامل افراد کو افغانستان منتقل کرنے کا کام مولوی فقیر محمد نے سر انجام دیا تھا۔ ویسے تو تحریک طالبان کا قیام دسمبر 2007 میں باقاعدہ طور پر عمل میں لایا گیا تھا جس کے پہلے سربراہ ملا بیت اللہ تھے، لیکن ان کے ساتھ مولوی فقیر محمد ڈپٹی لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے۔
