پہلگام میں غیر ملکی سیاحوں کو مارنے والی تنظیم کا سربراہ کون ؟

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 27 سیاحوں کے قتل کی واردات کا الزام حسب روایت پاکستان پر عائد تو کر دیا لیکن اسے تب سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک کشمیری حریت پسند گروپ "دی ریزسٹنس resistance فرنٹ” نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی۔ ٹی آر ایف کہلانے والا یہ حریت پسند گروپ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف گوریلا جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کے مقبول ترین تفریحی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والا حملہ نہ صرف خوفناک ہے بلکہ اس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ضلع آننت ناگ کے حسین مقام پہلگام سے چند کلو میٹر دور وادی میں حملے کے وقت سینکڑوں سیاح جمع تھے، اس دوران اچانک جنگل سے 5 حملہ آور نمودار ہوئے جنہوں نے اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے 26 سیاح ہلاک کر دیے جن میں ایک اسرائیلی اور ایک اطالوی باشندہ بھی شامل تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا عجیب ترین واقعہ ہے جسکی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن بھارت نے اپنی روایتی واردات ڈالتے ہوئے اس حملے کا الزام بھی پاکستان پر عائد کر دیا ہے۔
دوسری جانب 2019 میں تشکیل پانے والی ٹی آر ایف نامی کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہی عباس شیخ نامی ایک کشمیری کے پاس ہے۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹی آر ایف نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر مقامی افراد کو لا کر بسانے اور کشمیری شہریت دینے کی مودی سرکار کی پالیسی کے خلاف مزاحمت تیز تر کی جا رہی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت نے اپنی یہ پالیسی ختم نہ کی تو مقبوضہ کشمیر میں اس نوعیت کے مزید حملوں کے لیے بھی تیار رہے۔
پہلگام حملے کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ حریت پسندوں نے خواتین اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا اور صرف مردوں پر فائرنگ کی۔ انڈین میڈیا کے مطابق حملہ آوروں نے خواتین کو چلا کر کہا کہ ہم تمہیں گولیاں نہیں مار رہے، اپنے وزیر اعظم مودی کو جا کر بتا دو کہ ہم یہاں پر غیر مقامیوں کو آباد نہیں ہونے دیں گے۔ میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ پہلگام حملے کے دوران کسی بھی خاتون کو فائرنگ کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام مرنے والے 26 مرد ہی ہیں۔ بعض بھارتی میڈیا چینلز نے رپورٹ کیا ہے کہ حملہ آوروں نے سیاحوں سے انکا مذہب پوچھ کر صرف غیر مسلموں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ لیکن عینی شاہدین نے اس بات کی تصدیق نہیں کی اور بتایا کہ حملہ آوروں نے اندھادھند فائرنگ کی، اسی وجہ سے مرنے والوں میں ایک مقامی کشمیری مسلمان بھی شامل ہے جبکہ زخمی افراد میں بھی ایک مسلمان شامل ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر پہلگام حملے کا الزام ایک طرف، اس حملے کے پیٹرن کو دیکھا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ سیاحوں کو نشانہ بنانے والے کسی کشمیری جہادی تنظیم سے تعلق رکھتے تھے، اسی لیے انہوں نے ’انسانیت‘ دکھاتے ہوئے خواتین کو نشانہ نہیں بنایا۔ بظاہر حملے کے لیے پہلگام وادی کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ وہاں سڑک کا راستہ نہیں جاتا اور صرف پیدل یا خچر پر سواری کر کے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جہاں حملہ ہوا، وہ جگہ کنٹرول لائن سے 400 کلومیٹر دور ہے، یعنی یہ ممکن نہیں تھا کہ حملہ آور پاکستان سے داخل ہو کر وہاں پہنچے ہوں، کیونکہ راستے میں پاک بھارت ایل او سی پر درجنوں چیک پوسٹس اور فوجی چھاؤنیاں موجود ہیں۔
بھارت پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر اپنے جرائم کو چھپانا چاہتا ہے : صدر آزاد کشمیر
اس حملے کی ذمہ داری لینے والا کشمیری گروپ "دی رزیسٹینس فرنٹ” 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سامنے آیا۔ انڈین حکومت نے 2023 میں ٹی آر ایف کو ایک دہشتگرد گروپ قرار دے دیا تھا جس پر نوجوان بھرتی کرنے، دہشتگردی کے مواد کو آن لائن پھیلانے اور جموں و کشمیر میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اس گروپ پر پابندی لگاتے وقت کہا گیا تھا کہ اس کی سرگرمیاں انڈیا کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنا صریحا ایک سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کو دنیا کی نظروں میں ایک دہشت گرد ریاست ثابت کرنا ہے۔
