14 اگست کے اشتہار سے جناح کی تصویر کس نے غائب کی؟

یوم آزادی 14 اگست کے موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے اخبارات میں شائع کروائے گئے سرکاری اشتہارات میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کے علاوہ باقی سب کی تصاویر موجود تھیں جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں اور حکومت تنقید کی زد میں ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ اخباروں میں دیے گئے سرکاری اشتہارات میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر نہیں مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری کے چہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔

سرکاری اشتہاروں سے جناح کی تصویر غائب ہونے کا معاملہ سینیٹ میں بھی زیرِ بحث آیا ہے جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کے بعض ارکان نے اجلاس کے دوران جناح کی تصاویر بھی تھام رکھی تھیں اور وہ سرکاری اشتہاروں میں محمد علی جناح کی تصویر نہ ہونے پر سراپا احتجاج تھے۔

15 اگست کو سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ وفاقی حکومت کے اکابرین نے یوم ازادی پر خود کو تو یاد رکھا لیکن پاکستان بنانے والے محمد علی جناح اور علامہ اقبال کو بھول گئے۔

سینیٹ اجلاس میں تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید اپنے ہاتھوں میں جناح کی ایک تصویر تھامے نظر آئے۔ فیصل جاوید نے کہا کہ ‘یہ اشتہار ان حکمرانوں کے ذاتی پیسوں سے نہیں لگا۔ یہ ٹیکس میں وصول کردہ عوام کے پیسے سے لگا ہے۔ مگر اس میں اس ملک کو بنانے والے کی ہی تصویر غائب کر دی گئی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘ہم سب اپنے ساتھ قائد اعظم کی تصویر اس لیے لائے ہیں کہ ہم انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ 14 اگست پر پاکستان بنانے والے محمد علی جناح کو یاد کرنے کا کوئی چھوٹا سا بہانہ بھی تلاش نہیں کیا گیا۔ لہذا ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران اپنی ذات کے گنبدوں میں بند ہیں اور انہیں اپنے سوا کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔

سینیٹر علی ظفر نے اعتراض اٹھایا کہ روایت کے برعکس 14 اگست 1947 کی قرارداد کے دستاویزات بھی ایوان میں شیئر نہیں کی گئیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اشتہار میں جناح کی تصویر نہ لگانے پر ‘انکوائری ہو گی اور اس بارے ہاؤس کو جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جشن آزادی کے موقع پر مختلف محکمے سرکاری و غیر سرکاری اشتہارات دیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہوئی ہے اور قائد اعظم کی تصویر نہیں لگائی گئی تو ہم سب کی دل آزاری ہوئی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘ہم قائد اعظم کی تصویر کے نیچے بیٹھ کر ایوان بالا کی کارروائی چلاتے ہیں۔ ہم تو وہ گناہگار ہیں جو ان کی سیاسی میراث کو بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ آج نسل در نسل پاکستان مسلم لیگ ن سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔’ وزیر قانون نے کہا کہ ‘تقریبات کا آغاز جناح سٹیڈیم سے ہوا، ہم سب وہاں اکٹھے تھے۔۔۔ میں معذرت خواہ ہوں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی۔ لیکن ہم سب بانی پاکستان کے پیروکار ہیں۔ پاکستان انھی کا دیا ہوا تحفہ ہے۔’

اس کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اسی رٹی رٹائی تقریر کی جانب آ گئے جو پچھلے دو برسوں سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم قائد اعظم سے منسوب جگہوں پر حملے کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ان کا اشارہ دراصل 9 مئی 2023 کی طرف تھا جب تحریک انصاف کے کارکنان نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور یعنی جناح ہاؤس پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا تھا۔ر

سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے ہی اس معاملے پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین نے اسے تضحیک قرار دیا اور کہا کہ 14 اگست کے اشتہار میں صرف ’ان لوگوں کی تصاویر ہیں جنھوں نے عارضی طور پر عہدے سنبھال رکھے ہیں۔‘

سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ‘قائدِاعظم اور علامہ کے افکار کی آج کے پاکستان میں اُتنی ہی جگہ ہے جتنی اِس حکومتی اشتہارا میں۔’  زبیر نامی صارف نے کہا کہ ‘قائد اعظم او علامہ اقبال کی تصویر لگانے کی بجائے زرداری اور شہباز شریف کی تصویریں نے جگہ لے لی۔ ‘ہمیں کتابوں میں علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تعلیمات سے سیکھنے کا درس سکھایا جاتا یے لیکن ہمیں تصاویر شہباز شریف کی دکھائی جسٹی ہیں، اب بھلا کوئی ایسے شخص سے کیا سیکھے گا، یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔

Back to top button