نئی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور ججز کون ہوں گے ؟

وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل ہی اعلیٰ عدلیہ کی ازسرِ نو تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے شہباز حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے لیے 7 جج صاحبان کے نام شارٹ لسٹ کر لیے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں ایک الگ ’وفاقی آئینی عدالت‘ کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ الگ عدالت آئینی تنازعات، وفاق اور صوبوں کے اختلافات، بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات اور آئین کی تشریح جیسے معاملات کی سماعت کرے گی۔ مجوزہ ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اختیارات میں سب سے بڑی تبدیلی آئین کے آرٹیکل 184 کی منسوخی ہے، جس کے ذریعے سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ اس اختیار کو وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو بنیادی حقوق یا آئینی نوعیت کے مقدمات میں ازخود کارروائی کر سکے گی۔ اسی طرح آرٹیکل 185 میں بھی ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار کو اپیلوں تک محدود کیا گیا ہے۔ ترمیم میں عدالتی تقرریوں اور ضابطہ اخلاق کے نظام میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز شامل ہوں گے، جو چیف جسٹس سینیارٹی میں برتر ہوں گے وہ کمیشن یا کونسل کے چیئرمین کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔
مجوزہ مسودے کے مطابق آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر سپریم کورٹ کے ججز کے مقابلے میں 65 سال کی بجائے 68 سال ہوگی، تاکہ تجربہ کار جج زیادہ مدت تک خدمات انجام دے سکیں۔ آئینی عدالت کو اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں قائم کیا جائے گا، جبکہ وفاقی شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں منتقل کیا جائے گا، یہ انتظام علامتی طور پر آئینی عدالت کو دیگر عدالتوں سے الگ کرے گا۔ وفاقی آئینی عدالت کو آئین کی تشریح، وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات، اور آئینی دفعات سے متعلق معاملات میں اختصاصی دائرہ اختیار حاصل ہوگا، آئینی عدالت کو صدارتی احکامات، آئینی ترامیم اور پارلیمان یا صدر کی جانب سے بھیجے گئے سوالات پر بھی فیصلہ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ 27ویں ترمیم کے تحت ججز کے تبادلے کا اختیار سپریم جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا ہے جبکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا۔ ٹرانسفر ہونے والا جج دوسری عدالت کے چیف جسٹس سے سینیئر نہیں ہو گا، ٹرانسفر سے انکار پر جج کو ریٹائر کر دیا جائے گا، ریٹائرمنٹ کی صورت میں مقررہ مدت تک کی پنشن اور مراعات دی جائیں گی۔ ترمیم کے مجوزہ مسودے میں میں یہ بھی درج ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری صدرِ مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے، تاہم یہ شق صرف ابتدائی تقرریوں تک محدود ہو گی۔
مسودے میں موجود اسی ترمیمی شق کے تحت وفاقی حکومت نے نئی آئینی عدالت کی تشکیل کے حوالے سے مشاورتی عمل کو حتمی شکل دے دی ہے اور جسٹس امین الدین خان، جو اس وقت سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ ہیں، انہیں وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی کے ناموں کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بریچ کے نام بھی وفاقی آئینی عدالت کے ابتدائی ارکان کے طور پر زیرِ غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے اراکین کی ابتدائی تعداد ایک صدارتی حکم کے ذریعے متعین کی جائے گی، جب کہ ججوں کی تعداد میں آئندہ کوئی اضافہ پارلیمان کی منظوری سے قانون سازی کے ذریعے کیا جا سکے گا۔ دوسرئ جانب وزارتِ قانون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدرِ مملکت، وزیرِاعظم کی سفارش پر، مجوزہ ترمیم کے تحت عدالت کے ججوں کی تقرری کریں گے۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس تعینات کئے جانے والے جسٹس امین الدین خان 1960 میں ملتان میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق وکلا کے گھرانے سے ہے، انھوں نے 1984 میں یونیورسٹی لا کالج ملتان سے ایل ایل بی کیا۔ وہ 1987 میں لاہور ہائی کورٹ اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے، 2011 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج اور 2019 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے، وہ آئینی و دیوانی مقدمات میں کئی اہم فیصلے تحریر کر چکے ہیں۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی 1962 میں کراچی میں پیدا ہوئے، 1988 میں وکالت کا آغاز کیا اور 2023 میں سپریم کورٹ کے جج بنے، آئینی و انتظامی قانون میں مہارت اور دیانتداری کے حوالے سے معروف ہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں،انھیں 2023 میں سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا، وہ صوبائی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور خواتین کے خلاف ہراسانی سے تحفظ کی فیڈرل محتسب بھی رہ چکی ہیں۔
جسٹس عامر فاروق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ رہ چکے ہیں، وہ فروری 2025 میں سپریم کورٹ میں تعینات ہوئے تھے،جسٹس عامر فاروق لنکنز اِن کے رکن۔ آئینی و تجارتی قانون میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
جسٹس علی باقر نجفی لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج ہیں، دیوانی، فوجداری اور آئینی مقدمات میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ 37 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے لکھ چکے ہیں، 2014 کے ماڈل ٹاؤن واقعے کی انکوائری کی قیادت بھی کرچکے ہیں۔
جسٹس روزی خان بریچ اس وقت چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ ہیں،انھوں نے 1998 میں عدلیہ میں شمولیت اختیار کی، 2019 میں ہائی کورٹ کے جج بنے اور جولائی 2025 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔
جسٹس کے کے آغا سندھ ہائی کورٹ کے جج ہیں، بین الاقوامی قانونی تجربے کے حامل ہیں، سابق یوگوسلاویہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے ٹریبونل میں پراسیکیوٹر اور سیرالیون کی خصوصی عدالت میں سینئر وکیل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستانی آئین کب تک اقتدار کے پجاریوں کا فٹبال بنا رہے گا؟
خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز کو دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منظم کیا جا سکے اور آئینی مقدمات کے فیصلوں میں تیزی اور شفافیت لائی جا سکے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام سے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہوگا، آئینی فیصلوں میں تیزی آئے گی اور عدلیہ کی خودمختاری و وقار میں اضافہ ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ایک علیحدہ آئینی عدالت کا تصور سب سے پہلے 2006 کے چارٹر آف ڈیموکریسی یعنی میثاقِ جمہوریت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے پیش کیا تھا، اس میں تجویز دی گئی تھی کہ آئینی معاملات کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے تاکہ سپریم کورٹ اپیلوں پر توجہ دے سکے۔ یہ تجویز بعد میں 26ویں ترمیم کے مسودے میں بھی شامل کی گئی تھی مگر جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتوں کی مخالفت کے باعث اسے واپس لے لیا گیا۔
