عمران کی بہنیں انڈین چینلز کو انٹرویو دینے پر تنقید کی زد میں

 

 

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں بھارتی نیوز چینلز کو انٹرویوز دیتے ہوئے پاکستان مخالف گفتگو کرنے پر شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ علیمہ خان اور نورین خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے تناظر میں بھارتی میڈیا پر ایسا بیانیہ پیش کیا ہے جسے مودی سرکار اب عالمی سطح پر پاکستان مخالف پراپیگنڈے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ عمران خان کی بہنوں کی انٹرویوز کے بعد جہاں سخت عوامی ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان کی جانب سے بھی اس حکمت عملی بارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق، اگر علیمہ خان کو حکومت یا اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنی ہی تھی تو انہیں بی بی سی یا ڈی ڈبلیو جیسے بین الاقوامی اداروں کو انٹرویو دینا چاہیے تھا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں انڈین نیوز چینلز کو انٹرویو دے کر انھوں نے پاکستان سے دشمنی نبھائی ہے۔

 

خیال رہے کہ نورین خان نے انڈین نشریاتی اداروں ٹائمز آف انڈیا، انڈیا ٹو ڈے اور اے این آئی کو انٹرویوز میں عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت و اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ’قید تنہائی‘ میں رکھا گیا ہے۔ عمران خان کے معاملے پر عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اپنے انٹرویوز میں نورین خان کا حکومت و اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کے اہلخانہ کو اُن کی صحت سے متعلق مکمل طور پر بے خبر رکھا جا رہا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ جیل کے اندر کیا ہو رہا ہے۔

 

واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی بہن علیمہ خان کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ حکومت و اسٹیبلشمنٹ کو پاکستانی قوم کے غصے سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔’عمران خان غیر قانونی قید تنہائی میں ہیں۔ تاہم حکمران جان لیں اگر عمران خان کے سر کے ایک بال کو بھی نقصان پہنچایا گیا تو اندرون و بیرون ملک عوام انھیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے ‘کیونکہ عمران خان کم از کم 90 فیصد پاکستان کے رہنما ہیں۔‘ علیمہ خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’نو دن پہلے ہمیں بتایا گیا تھا کہ جب تک عاصم منیر کو ان کی توسیع کی اطلاع نہ ملے، کوئی بھی عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم سمجھ نہیں آتی کہ ہماری عمران خان سے ملاقات کا جنرل عاصم منیر کی توسیع سے کیا تعلق ہے۔ ہمارے خاندان کی بانی پی ٹی آئی تک رسائی سرکاری نوکری کی توسیع سے کیوں منسلک ہے؟‘

 

یاد رہے کہ گذشتہ کئی روز سے عمران خان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے جھوٹی خبریں اور افواہیں سوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا پر عمران خان کے بارے جو افواہیں یا متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں اُن میں زیادہ تر اکاؤنٹس ایسے ہیں جو بظاہر انڈیا یا افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر عمران خان کی جیل میں موت کے بارے میں جھوٹی افواہیں بھی پھیلائی جا رہی ہیں لیکن اسی دوران عمران خان کی بہن نورین خان کی جانب سے مختلف انڈین چینلز کو انٹرویو دینے پر پاکستان میں بحث جاری ہے۔ حکومتی وزرا اور لیگی رہنما اسے پاکستان مخالف ایجنڈا قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس کا دفاع کر رہی ہے تاہم غیر جانبدار صحافی بھی عمران خان کی بہنوں کے انڈین چینلز کو دئیے گئے انٹرویوز بارے سوالات اٹھا رہے ہیں،

 

سینئر صحافی فیضان لاکھانی نے سوال اُٹھایا کہ عمران خان کی بہن نورین خان 24 گھنٹوں کے دوران کئی انڈین چینلز کو انٹرویوز دے چکی ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر انڈین میڈیا عمران خان کے معاملے پر اتنی دلچسپی کیوں لینے لگا ہے۔ یہ عمران خان سے کوئی محبت کا اظہار نہیں ہے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور عمران خان کے اہلخانہ کو ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اُن کے الفاظ آگے چل کر کیسے استعمال ہو سکتے ہیں۔‘ اس حوالے سے سینئر اینکر پرس شہزاد اقبال اور شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ نورین خان نے بھارتی میڈیا کو انٹرویوز دے کر پوری پی ٹی آئی کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر عمران خان کی بہنوں کا انڈین میڈیا کو انٹرویو دینے کا مقصد صرف اسٹیبلشمنٹ یا حکومت پر تنقید کرنا تھا،تو انھیں انٹرویوز کیلئے بی بی سی، الجزیرہ یا ڈی ڈبلیو جیسے  عالمی سطح کے معتبر اور غیر جانبدار اداروں کا انتخاب کرنا چاہیے تھا یا امریکی اخبارات یا ٹی وی چینلز کو انٹرویو دینے چاہیے تھے، پاک بھارت کشیدگی کے دوران انڈین میڈیا کو انٹرویوز دے کر انھوں نے بے جا طور پر تنقید کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔

عمران خان کی بہن نورین خان کے انڈیں ٹی وی چینلز کو انٹرویو دینےبارے سینئر صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہن کے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کو عوامی و سیاسی حلقوں میں ہدف تنقید بنایا جارہاہے ،یہاں تک کہ تحریک انصاف بھی اس کا دفاع کرنے میں ناکام ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق نورین نیازی کو انڈین ٹی وی چینلز کی بجائے بی بی سی پر انٹرویو دینا چاہئے تھا،ان کی اس غلطی کی وجہ سے اب کوئی بھی ان کا دفاع نہیں کررہا ۔عمران خان کی بہن کو بھارتی میڈیا پر انٹرویو نہیں دینا چاہئے تھا، اس انٹرویو سے تحریک انصاف کو بہت نقصان ہوا ہے ۔

عمران خان نے پاکستان کو کس پسوڑی میں مبتلا کر دیا ہے؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاسی اختلافات کو بھارتی میڈیا پر لے جانا ایسا قدم ہے جسے مودی سرکار فوری طور پر اپنے پاکستان مخالف بیانیے کے لیے استعمال کررہی ہے، جس کے بعد عمران خان کی بہنوں کے انٹرویو کے معاملے کی حساسیت دوچند ہوگئی ہے۔ ناقدین کے مطابق نورین خان اور علیمہ خان کے انٹرویوز نے قانونی و سیاسی مسائل سے دوچار پی ٹی آئی کے لیے مزید چیلنجز پیدا کردئیے ہیں، انٹرویز کیلئے بھارتی میڈیا چینلز کے انتخاب نے غیر ضروری طور پر سفارتی و سیاسی حساسیت کو بھڑکادیاہے۔

 

Back to top button