چیف آف ڈیفنس سٹاف کے نوٹیفیکیشن میں تاخیر کی اصل وجہ

تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے کے لیے یہ شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ جنرل عاصم منیر کو تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی قانونی رکاوٹ آ گئی ہے جسکے باعث حکومت اب تک نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکی۔ البتہ حکومتی ذرائع نے اس پروپیگنڈے کو بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تقرری کا نوٹیفکیشن بہت جلد جاری کر دیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی لیول پر کوئی پیچیدگی درپیش نہیں ہے۔
اسلام آباد میں باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق چونکہ جنرل عاصم منیر پہلے ہی آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کے منصب پر تعینات ہیں، اس لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں چند روز کی تاخیر سے نہ تو کوئی ادارہ جاتی خلا پیدا ہو رہا ہے اور نہ ہی عسکری کمانڈ پر کوئی اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق تمام انتظامی معاملات طے شدہ ہیں اور نوٹیفکیشن کا اجرا صرف ایک رسمی مرحلہ ہے جسے مناسب وقت پر پورا کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے یہ شور مچا رکھا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت تخلیق کردہ نئے عہدے، یعنی چیف آف ڈیفنس فورسز، کے نوٹیفکیشن کا 29 نومبر 2025 تک جاری نہ ہونا سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم اور تینوں مسلح افواج کے ایکٹس میں ترامیم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر تعینات ہونے والا شخص وہی ذمہ داریاں سنبھالے گا جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے پاس تھیں، یہ عہدہ 27 نومبر 2025 کو جنرل ساحر شمشاد کی ریٹائرمنٹ کے بعد باضابطہ طور پر ختم ہو گیا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ فوجی ڈھانچے کی اس نئی تشکیل کے مطابق اسی تاریخ کے آس پاس چیف آف ڈیفنس فورسز کا تقرری نامہ بھی جاری کر دیا جائے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
29 نومبر 2025 اس وجہ سے بھی اہم دن تصور کیا جا رہا تھا کہ یہ آرمی چیف عاصم منیر کی ابتدائی تین سالہ مدت ملازمت کے خاتمے کا دن تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے یہ واضح مؤقف پیش کیا جا چکا ہے کہ 2024 میں ہونےبوالی آئینی ترمیم کے بعد تینوں سروسز چیفس کی مدت پانچ سال مقرر ہو چکی ہے اور اب کسی بھی سروسز چیف کی مدت بڑھانے کے لیے کسی نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت باقی نہیں رہی، مختصر یہ کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپگینڈے کے برعکس 29 نومبر کی تاریخ کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی۔
سیکیورٹی ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ چونکہ چیف آف ڈیفنس فورسز ایک نیا آئینی منصب ہے، اس لیے کسی مرحلہ وار یا خاموش توسیع کے بجائے ایک واضح عوامی نوٹیفکیشن ہی اسے فعال بنا سکے گا۔ اس کے برعکس حال ہی میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو دی گئی توسیع ایسی نوعیت کی تھیں جس کے لیے عوامی نوٹیفکیشن ضروری نہیں تھا۔ ذرائع چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کو حکومتی سطح پر ہونے والی مشاورت کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
اس وقت بنیادی سوال یہ زیرِ غور ہے کہ آرمی چیف کی پانچ سالہ مدت کا آغاز نومبر 2022 سے شمار کیا جائے یا نومبر 2025 سے، کیونکہ نئی قانون سازی کے بعد عمومی تاثر یہی پایا جاتا رہا ہے کہ نئی مدت کا نفاذ 2025 سے شروع ہو گا۔ اس صورتحال کے ساتھ کئی حساس نوعیت کے معاملات بھی زیر بحث آ چکے ہیں۔ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز کی فضائیہ اور بحریہ پر عملی اختیار کی حد اور دائرہ کار ابھی تک طے نہیں ہو سکا۔ اسی طرح نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کی تقرری بھی اسی نوٹیفکیشن کے بعد ممکن ہو گی، کیونکہ یہ نیا فور سٹار عہدہ وہ ذمہ داریاں سنبھالے گا جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس کے پاس تھیں۔ مزید یہ کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں مزید ترامیم بھی درکار ہیں تاکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدے کے خاتمے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے قیام کے علاوہ نئی سٹریٹجک کمانڈ کے ڈھانچے کو آئین کے آرٹیکل 243 کے مطابق مکمل طور پر شامل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے کہ جب فضائیہ اور بحریہ کی سٹریٹجک کمانڈز ایک نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے ماتحت کر دی جائے گی تو نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں ان کی نمائندگی اور ادارہ جاتی کردار مستقبل میں کس شکل میں برقرار رہے گا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب کے قیام کا پس منظر بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں گزشتہ برسوں کے دوران یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی تھی کہ تینوں مسلح افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی، مشترکہ منصوبہ بندی اور دفاعی حکمت عملی کے معاملات کو ایک متحدہ سربراہی کے تحت منظم کیا جائے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا کردار وقت کے ساتھ زیادہ تر مشاورتی نوعیت کا رہ گیا تھا جبکہ عملی کمانڈ آرمی چیف کے ہاتھ میں ہی باقی رہتی تھی۔ علاقائی دفاعی ضروریات، عالمی عسکری ساختوں اور جدید جنگی تقاضوں کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ایسا متحدہ عہدہ قائم کیا جائے جو تینوں سروسز کی کمانڈ، پالیسی سازی، بجٹ، ہتھیاروں کی خریداری اور مشترکہ منصوبہ بندی کو براہ راست ایک ہی اتھارٹی کے تحت یکجا کر سکے۔ چنانچہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب تخلیق کیا گیا، جس کے تحت اب پاکستان آرمی، پاکستان نیوی اور پاکستان ایئر فورس کا مشترکہ سربراہ ایک ہی فوت سٹار شخص ہو گا۔ اس فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ ملک کے دفاعی ڈھانچے میں مرکزی فیصلہ سازی زیادہ مربوط، جدید اور مؤثر انداز میں آگے بڑھے گی۔
حکومت کا اصرار ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن میں دیر سویر تکنیکی نوعیت کی ہے اور اس کا فیصلہ جلد از جلد کر لیا جائے گا۔
