قائمہ کمیٹیوں نےنئے ٹیکسوں،ریٹیلر سکیم پر تحفظات کااظہارکردیا

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ و محصولات نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے محصولات کے بلند اہداف، نئے ٹیکس اقدامات اور مجوزہ ریٹیلر ٹیکس اسکیم پر مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی زور محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام پر ہے، جبکہ اقتصادی نمو، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے محدود اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ  ایف بی آر ماضی میں بھی محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے، اس کے باوجود مالی سال 2026-27 کے لیے 15.26 کھرب روپے کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ رواں مالی سال میں تقریباً 13 کھرب روپے کی وصولیوں کے بعد اضافی محصولات کا ہدف کس حد تک قابلِ عمل ہوگا۔

اجلاس کے دوران اراکین نے اس امر پر بھی تحفظات ظاہر کیے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے بنیادی اور ساختی اصلاحات کے بجائے نفاذی اقدامات پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق محصولات میں اضافے کے لیے صرف انتظامی اور نفاذی اقدامات دیرپا حل ثابت نہیں ہو سکتے۔

کمیٹی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈپروگرام کے تحت مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ ایک جانب عوام سے مزید ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ترقیاتی اور سرکاری اخراجات محدود کیے جا رہے ہیں، جس سے اقتصادی سرگرمیوں اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

Back to top button