عمران کے یوتھیے دبئی میں احتجاج کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد وجود میں آنے والے ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہماری سپریم کورٹ کیسی ہونی چاہیے، ہمارے چیف جسٹس کی سلیکشن کیسے ہو اور ججوں کی کل تعداد کیا ہونی چاہیے، ہم یہ بھی طے نہیں کر پا رہے کہ ہمارے آرمی چیف کی مدت ملازمت کیا ہونی چاہیئے؟

اپنے تازہ تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہماری پلاننگ کا تو یہ حال ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت مخالف احتجاج کی کال آ جائے تو ہم اس سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیتے ہیں، ہم تو کنٹینرز لگا کر پورا پورا شہر جام کر دیتے ہیں حالانکہ دنیا کے تمام مہذب ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پولیس کا ادارہ موجود ہے جو لا قانونیت سے نمٹتا ہے اور عوام کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکتا ہے۔

سینیئر اینکر پرسن بتاتے ہیں کہ جولائی 2024 میں بنگلہ دیش میں طالب علموں کی تحریک چلی اور ڈھاکا میں احتجاج شروع ہو گیا، لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، حسینہ واجد کی حکومت نے کریک ڈاؤن کیا لیکن احتجاج میں اضافہ ہو گیا جس کے بعد بنگالیوں نے پوری دنیا میں احتجاج شروع کر دیا، دبئی میں بھی 20جولائی کوچند درجن بنگالی باہر نکلے اور حسینہ واجد کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ دبئی میں ہر قسم کے سیاسی احتجاج پر پابندی ہے لہٰذا پولیس آئی اور اس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا، حکومت نے اس کے بعد سی سی ٹی فوٹیج کے ذریعے 57 لوگوں کی شناخت کی، انھیں گرفتار کیا، عدالتوں میں پیش کیا اور ججز نے ان میں سے 53 لوگوں کو دس دس سال قید کی سزا دی، یہ ایکشن صرف یہاں تک محدود نہ رہا بلکہ دبئی حکومت نے بنگالیوں کو ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا اور نئے لوگوں کے ویزوں پر پابندی لگا دی، اس کا یہ نتیجہ نکلا اس کے بعد کوئی بنگلہ دیشی سڑک پر نہیں آیا، پاکستان تحریک انصاف کے لوگ دو سال سے پوری دنیا میں چھوٹے بڑے مظاہرے کر رہے ہیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ حال ہی میں عمران کے پیارے زلفی بخاری کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کیا، 30 اکتوبر کو لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملہ تک ہو گیا، اقوام متحدہ کے دفاتر اور وائیٹ ہاؤس کے سامنے بھی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں لیکن آپ کو پی ٹی آئی کی طرف سے دبئی میں کسی مظاہرے کی خبر نہیں ملے گی، کیوں؟ اس لیے کہ پاکستانی جانتے ہیں ہم نے اگر مظاہرہ کیا تو حکومت ہمیں پیک کر کے پاکستان بھجوادے گی اور اس کے بعد ہم کبھی دبئی واپس نہیں آ سکیں گے۔ جاوید کہتے ہین کہ میں فطرتاً جمہوری ہوں، میں احتجاج اور مظاہروں کو انسان کا بنیادی حق سمجھتا ہوں، دنیا جہاں میں لوگ ظلم پر آواز اٹھاتے ہیں لیکن میں اس کے ساتھ ساتھ اس حق کے لیے سڑکیں بند کرنا اور دوسرے انسانوں کو اذیت دینا ناقابل معافی جرم سمجھتا ہوں، برطانیہ ہو یا امریکا دنیا میں احتجاج ہوتے ہیں لیکن وہاں لوگ راستے اور سڑکیں بلاک نہیں کر سکتے اگر کوئی یہ غلطی کرے تو پھر ریاست اسے مرونڈا بنا دیتی ہے جب کہ پاکستان میں شہر کے شہر بند کر دیے جاتے ہیں۔

سینیئر اینکر پرسن کہتے ہیں کہ کے پی کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور آٹھ ماہ سے پورا ملک بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، یہ چار مرتبہ اسلام آباد اور ایک بار لاہور بھی بند کرا چکے ہیں، گنڈا پور 9 نومبر کو ایک بار پھر کفن باندھنے کا مظاہرہ کریں گے، ان کی پارٹی 2014 سے یہ حرکت مسلسل کر رہی ہے چناں چہ ملک دس سال سے مظاہروں کی زد میں ہے جس کے نتیجے میں پاکستانیوں کی ایک پوری نسل احتجاجی فطرت کے ساتھ پیدا ہو گئی اور اس نے مظاہروں کو کھیل سمجھ لیا ہے، سوال یہ ہے اس احتجاج سے آج تک پی ٹی آئی کو کیا فائدہ ہوا؟ عمران خان سوا سال سے جیل میں ہیں اور پارٹی تتر بتر ہے اور ملک کی معاشی اور نفسیاتی چولیں ہل چکی ہیں، عوام کا ذہنی سکون بھی ختم ہو گیا ہے، حکومت آئے روز انٹرنیٹ بند کر دیتی ہے یا اس کی سپیڈ کم کر دیتی ہے۔

ٹرمپ کی جیت سے عمران خان کو ریلیف ملنا ممکن کیوں نہیں ہے؟

 جاوید کے بقول سوشل میڈیا پر فائر وال بھی لگ گئی ہے جس سے لوگوں کی سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشی زندگی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، چناںچہ اس احتجاج کا نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوا، لیکن دبئی میں صورت حال بالکل الٹ ہے، وہاں احتجاج کی اجازت نہیں چناں چہ لوگ احتجاج کے بارے میں مکمل لاعلم ہیں، وہاں سڑک اور مارکیٹ کسی دن بند نہیں ہوتی لہٰذا لوگوں کا روزگار مسلسل چلتا رہتا ہے۔

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ایسے میں سوال پھر وہی ہے کیا دبئی شروع دن سے ایسا تھا، جی نہیں، دبئی کو ایسا بننے میں وقت لگا ہے لیکن اس کے حکمرانوں نے کچھ اصول طے کر لیے اور پھر ان پر عمل کیا۔ لہذا اگر ہم نے بھی اپنے پاکستان کو ایک کامیاب ریاست بنانا ہے تو پاکستانیوں کو آئین اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہو گا۔ ہمیں بھی احتجاج کے لیے وہی اصول وضع کرنا ہوں گے جو دبئی جیسے کامیاب ریاستوں نے اپنا رکھے ہیں اور جہاں احتجاج اور کاروبار زندگی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

Back to top button