جیل والے عمران اور ٹوئیٹر والے عمران کے خیالات میں تضاد کیوں ہے؟

پچھلے ڈیڑھ سال سے اڈیالہ جیل میں بند بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی ٹویٹس اور خود ان کی جیل میں صحافیوں سے براہ راست گفتگو میں مسلسل واضح تضاد کی وجہ سے پارٹی قیادت کنفیوژن کا شکار ہے کہ اس نے کس بات کا یقین کرنا ہے اور کس کا نہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا یے کہ عمران خان کی اصل ترجمانی ان کا ایکس اکاؤنٹ کر رہا ہے، ان کی اہلیہ اور ہمشیرہ کر رہی ہیں یا پارٹی قیادت کر رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان صحافیوں سے جیل میں جو گفتگو کرتے ہیں وہ نرم خو ہوتی ہے جبکہ ان کے ایکس اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹس سخت ترین ہوتی ہیں اور اکثر ان کی ٹون ریاست مخالف ہوتی ہے۔ عمران خان کا بیانیہ چاہے سیاسی ہو، انتخابی یا احتجاجی، یہ بار بار حریف جماعتوں کے لیے دردسر بنتا ہے۔ مگر اب چونکہ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں قید ہیں، اسے عوام تک پہنچانے میں تحریک انصاف کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

2022 میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد درجنوں مقدمات کا سامنا کرنے والے عمران کی اسیری کے دوران ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیانات اور پارٹی قیادت کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاید کہیں رابطے، فہم، مشاورت یا نظریے میں واضح تضاد ہے۔ عمران کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری ہونے والے بیانات میں سخت الفاظ اور موقف اپنایا جاتا ہے جبکہ پارٹی قیادت کے لہجے میں کچھ نرمی دکھائی دیتی ہے۔

جب پی ٹی آئی کا نومبر کے اواخر کے دوران اسلام آباد میں احتجاج ہوا تو اس دوران بھی جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور قائدین کے موقف میں فرق نظر آیا، حتیٰ کہ دھرنے کے مقام، کارکنان کی اموات کی تعداد اور دھرنا اچانک ختم ہونے پر قیادت کی واپسی پر پارٹی میں اختلاف کی اطلاعات سرگرم رہیں۔ ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اڈیالہ میں بند بانی کی اصل ترجمانی کون کرتا ہے، آیا بیرسٹر گوہر کے نرم موقف کو درست مانا جائے یا ایکس اکاؤنٹ پر عمران کے جارحانہ بیانات کو؟

عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے دو دسمبر کی شام ایک بیان میں اسلام آباد مارچ کے دوران کارکنوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات سے متعلق دکھ و افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ’اسلام آباد قتل عام‘ کا نام دیا اور اسے ’جلیانوالہ باغ‘ کے واقعے سے تشبیہ دیتے ہوئے حکمرانوں کو ’موجودہ دور کے جنرل ڈائر‘ قرار دیا۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ’ہلاک ہونے والے کارکنوں کا مقدمہ اقوام متحدہ سمیت تمام فورم پر لے کر جائیں گے۔‘ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’نہ میں پیچھے ہٹوں گا نہ پاکستانی قوم، اگر ہم نے آج ہار مان لی تو پاکستانی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔‘

عمران کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے اور وہ پاکستان میں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے- نو مئی کو بھی ہمارے 25 کارکنان کو شہید کیا گیا اور اس بار بھی پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خون کی ہولی کھیلی گئی اور درجنوں شہریوں کو شہید کیا گیا جو کہ بدترین ڈکٹیٹرشپ میں بھی نہیں کیا گیا۔‘ بیان میں ’سپریم کورٹ سے غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر اس قتل عام کی تحقیقات کروانے اور قتل عام کا حکم دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دینے‘ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

دوسری جانب اگر دو دسمبر کو ہی پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے کی جانے والی بات چیت کا جائزہ لیں تو انھوں نے قدرے نرم الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران نے ’24 نومبر کو اُن کی احتجاج کی کال پر نکلنے والوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ سب ایک اور متحد رہیں آپ کے درمیان لوگ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے مگر آپ سب کو متحد رہنا ہے۔‘ بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی کا اپنے لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ گولی کیوں چلائی گئی اس بارے میں قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی اس بارے میں احتجاج کیا جائے کہ ایسا کیوں ہوا اور جو بھی بات ہو وہ اسمبلی میں ہو۔‘

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا یہی پیغام ہے کہ چاہے ہم سنگجانی تھے یا ڈی چوک تھے احتجاج وہاں ہوتا ہے کہ جہاں اس کا اثر ہوتا ہے۔ جہاں بھی احتجاج ہونا تھا گولی نہیں چلنی چاہیے تھی حاص طور پر تب کے جب ابھی تک سارے لوگ اُس مقام تک پہنچے بھی نہیں تھے۔‘ ڈی چوک میں حالیہ احتجاج میں ہلاکتوں سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک جمہوری پارٹی ہیں اور ہم کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیتے۔ ڈی چوک احتجاج میں ہلاکتوں سے متعلق ہم نے وہی بیان دیا کہ جن کی تفصیل ہمارے پاس موجود تھی، وہاں 12 ہلاکتیں ہوئیں، ہم یہ کہتے ہیں کہ جو کہا جا رہا ہے کہ سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے متعلق ہم نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور تب تک ہمارا بیان یہی رہے گا کہ جب تک ہمارے پاس اس سے متعلق کوئی واضح حقائق سامنے نہیں آتے۔‘

ایسے میں سوال یہ یے کہ عمران کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کون چلاتا ہے اور اسے انکا یہ موقف کیسے ملتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی عمران خان کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیانات کو ان کی سوشل میڈیا چلاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا ٹیم کو عمران کے بیانات ان کی قانونی ٹیم یعنی وکلا سے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔ ’عمران خان گذشتہ 18 ماہ سے جیل میں قید ہیں اور ان سے ملاقات کرنے والی قانونی ٹیم اور وکلا ہی ان کے پیغامات سوشل میڈیا ٹیم کو دیتے ہیں۔‘

ایک سوال پر کہ کیا یہ پیغامات تحریری ہوتے ہیں یا زبانی، زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ چونکہ جیل میں لکھنے کی اجازت نہیں لہذا یہ تمام پیغامات زبانی ہوتے ہیں جو عمران خان سے ملاقات کرنے والے وکلا سوشل ٹیم کو ڈکٹیٹ کرواتے ہیں۔ جب ان سے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی پارٹی بیانات یا موقف اور سیاسی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات میں فرق سے متعلق یوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ پارٹی کے بیانیے، موقف یا بیانات میں کوئی تضاد یا فرق ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان گذشتہ 18 ماہ سے جیل میں قید ہیں اور ان کے بیانات کو زبانی طور پر لکھوانے میں کچھ انیس، بیس کا فرق آ سکتا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پارٹی کے اصولی موقف میں کوئی فرق ہے۔‘

عمران کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیانات میں الفاظ کے سخت چناؤ اور اور صحافیوں سے گفتگو میں نرمی پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی طلعت حسین نے کہا کہ پارٹی قیادت اور عمران کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے جاری بیانات میں کھلا تضاد ہے جو ایک سوچی سمجھی پارٹی پالیسی لائن ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے موقف میں اسطرح کے تضاد ’مبالغہ آرائی کی پالیسی‘ کا معاملہ ہے جو ایک محدود پالیسی لائن کے نتیجے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پارٹی محدود طریقے سے خود کو مناسب ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے تو بیریسٹر گوہر کو سامنے کر دیتی ہے اور جب عوام تک ’جھوٹ پر مبنی پیغام پہنچانا ہوتا ہے تو سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بیانات جاری کر دیے جاتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’قتل عام‘، ’جلیانوالا باغ‘ اور ’جنرل ڈائر‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے اور 12 ہلاکتوں پر بات کرنے میں بہت فرق ہے۔

Back to top button