افغان طالبان کے پاس امریکی اسلحہ پاکستان کیلئے بڑا چیلنج

 

 

 

افغان طالبان کے ہاتھوں میں امریکی ساختہ جدید ہتھیاروں کی موجودگی پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے۔ حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں نے اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے کہ طالبان نہ صرف اپنی گوریلا جنگی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ اب وہ جدید امریکی فوجی سازوسامان کے ساتھ بہتر تربیت یافتہ پاکستان دشمن ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں پر بھی انحصار کر رہے ہیں۔ حالیہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان جنگجوؤں نے نہ صرف امریکی ساختہ ایم-16، ایم-4، ایم-29 لائٹ مشین گنیں استعمال کیں بلکہ روسی ساختہ پیکا ایم-2 اور ایم-240 جیسی ہیوی مشین گنوں، اور آر پی جی-7، اے ٹی-فور راکٹ لانچر سمیت متعدد اینٹی ٹینک میزائلوں سے بھی حملے کئے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے قندھار، خوست، اور اسپن بولدک کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے گرینیڈ لانچرز، نائٹ ویژن آلات، اور لیزر سے لیس رائفلیں بھی استعمال کیں۔  تاہم پاک فضائیہ کی جانب سے منہ توڑ جواب کے بعد افغان طالبان اپنی چوکیاں بھی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کے پاس سابقہ افغان فوج سے قبضے میں لیے گئے ہزاروں ہلکے اور بھاری ہتھیار موجود ہیں، جو امریکا اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے ہاتھ لگے تھے۔

 

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے دوران گوریلا حکمت عملی اپنائی اور مقامی مخبروں کی مدد سے گھات لگا کر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملے کئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی علاقوں میں لسانی و قبائلی روابط طالبان کو نہ صرف معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ نقل و حرکت اور رسد میں بھی مدد دیتے ہیں۔تاہم پاک فضائیہ کی مربوط کارروائیوں نے افغان طالبان کے چھکے چھڑا دئیے اور طالبان کے پاس مؤثر فضائی اور جدید فوجی ڈرون صلاحیت کی عدم موجودگی نے انھیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ مبصرین کے مطابق افغانستان سے حالیہ سرحدی جھڑپوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فضائیہ اور میزائل نظام کے استعمال سے طالبان کو مؤثر جواب دیا۔ جس کی وجہ سے افغان طالبان جنگ بندی کیلئے ترلے کرنے پر مجبور ہو گئے دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے ٹارگٹڈ فضائی کارروائیاں کیں جن کا اصل مقصد طالبان کی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنا نہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنا تھا۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ افغان طالبان کی سب سے بڑی کمزوری ان کی فضائی صلاحیت کی کمی ہے۔ اگرچہ ان کے قبضے میں کچھ امریکی بلیک ہاک، ایم آئی-17، اور ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر موجود ہیں، مگر تکنیکی خرابیوں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کے باعث وہ انہیں جنگ میں استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح طالبان کے پاس جدید فوجی ڈرونز بھی موجود نہیں، اور وہ زیادہ تر کمرشل یا نگرانی کے لیے بنائے گئے چھوٹے ڈرون استعمال کرتے ہیں جو جنگی لحاظ سے غیر مؤثر ہیں۔ ماہرین کے مطابق کچھ عرصہ قبل طالبان حکومت نے بگرام ایئر بیس پر اپنی فوجی پریڈ میں سکڈ میزائل، ہووٹزر توپیں، اور سوویت دور کے راکٹ لانچرز کی نمائش کی تھی تاہم حقیقت یہ ہے ان ہتھیاروں میں سے بیشتر تکنیکی طور پر ناقابلِ استعمال ہیں۔ یہ ہتھیار تین دہائیوں سے افغان پہاڑوں یا گوداموں میں زنگ آلود پڑے ہیں، اور ان کی مرمت یا عملی بحالی ممکن نہیں۔

 

مبصرین کے مطابق پاک افغان حالیہ سرحدی جھڑپوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ پاکستان طالبان کو اپنی سرزمین پر سرگرم ٹی ٹی پی یعنی تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتا ہے، جبکہ طالبان حکومت پاکستانی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوحہ اور استنبول مذاکرات کے باوجود کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق اگر طالبان نے اپنی فوجی تنظیم کو منظم کرنے کی کوشش کی تو خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال پاکستان کی فضائی اور تکنیکی برتری واضح ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کے پاس اگرچہ امریکی ساختہ جدید اسلحہ موجود ہے، مگر وہ اب بھی روایتی گوریلا فورس کی سطح پر ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے پاس منظم فوج، فضائیہ اور جدید جنگی ٹیکنالوجی اسے مدمقابل دشمن ممالک پر واضح برتری فراہم کرتی ہے۔

 

Back to top button