امریکہ، چین اور سعودیہ پاکستان کو جپھیاں کیوں ڈالنے لگے ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین مئی میں ہونے والے جنگی ٹاکرے نے عالمی منظر نامے پر پاکستان کی حیثیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اس جنگ میں کامیابی کے بعد پہلے چین، پھر امریکہ اور اب سعودی عرب نے پاکستان کو جادو کی جپھی ڈال دی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جادو کی یہ جپھیاں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’یک صفحہ پالیسی‘ کا نتیجہ ہیں۔ انڈیا سے لے کر امریکہ تک اہم تبصرہ نگار اس پیش رفت کو جس نظر سے دیکھ رہے ہیں اس نے پاکستان کے موجودہ سیٹ اپ کو بھی کامیابی کی سند عطا کر دی ہے۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ پاکستان اور سعودی کہ مابین ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ گویا کئی برسوں سے میز پر پڑا تھا لیکن خیال سے تصویر اور خواب سے تعبیر بننے میں فقط چند گھنٹے لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر ہونے والے حالیہ حملے نے خلیجی ریاستوں کی سوچ یکسر تبدیل کر دی ہے۔ اسرائیلی حملے نے خطے کی مسلم مملکتوں کے شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے کہ اسرائیل اپنے ’گریٹر منصوبے‘ پر نہ صرف عمل پیرا ہے بلکہ کسی بھی ریاست کو خطے میں سانس لینے اور پنپنے دینے کو تیار نہیں۔ اس پس منظر میں خطے میں سلامتی کو لاحق خطرات اور عدم تحفظ نے مضبوط ترین عرب دنیا کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایسے میں عاصمہ شیرازی سوال کرتی ہیں کہ کیا یہ صورت حال حالیہ پاک سعودی معاہدے کا سبب بنی؟ سوال یہ بھی یے کہ کیا سعودی عرب نے اسرائیل سے تحفظ حاصل کرنے کی خاطر یہ ڈیل طے کی ہے؟ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے کی اہم ترین شق یہ ہے کہ ’ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہو گا‘۔ دونوں ممالک نے اسے ایک سٹریٹیجک معاہدہ بھی قرار دیا ہے۔ تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ حملے کی صورت میں ضرورت پڑنے پر پاکستان کے جوہری ہتھیار ہیں مشترکہ طور پر آزمائے جا سکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہیں۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ہتھیاروں کی سانجھ ہو جائے؟ ہمارے پائلٹ سعودی عرب کو فراہم کردہ امریکی جہاز نہ صرف اُڑائیں بلکہ قطری رفال طیاروں پر مہارت حاصل کرنے کے بعد جدید امریکی طیاروں پر بھی اپنے ہاتھ صاف کر لیں۔ اصلی اور وکھری چاندی تو یہ ہے کہ سعودی عرب سے معاہدے کے بعد اب ہمیں دو تین ہفتوں سے زائد تیل کی بھی ٹینشن نہیں ہو گی جبکہ مستعار لیے گئے ڈالرز کی واپسی کا تقاضا بھی نہیں ہو گا۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اب افغانستان کی طالبان حکومت کا علاج بھی ڈھونڈا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کا ایک فتوی یا حکم کابل کو پاکستان مخالف دہشت گردی میں ملوث تحریک طالبان کی حمایت سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔ یہ سب انہونیاں ہونی میں بدل جائیں، اس کے لیے دعا اور دوا دونوں جاری ہیں۔ بہرحال خطے میں طاقت کے توازن کا معاہدہ اور حرمین شریفین کی حفاظت پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔
یوں تو کہا جا رہا ہے کہ دو یا تین سال قبل اس معاہدے پر کام شروع کیا گیا مگر مُہر ثبت تب ہوئی جب اسرائیل نے قطر میں حماس کی قیادت کو حملے کا نشانہ بنایا اور امریکہ نے پس پردہ اسرائیل کی پُشت کو تھپ تھپایا۔
اس حملے کے فورا بعد اسرائیلی وزیراعظم نیٹن یاہو نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ یہ حملہ امریکہ کو ایڈوانس اطلاع دے کر کیا گیا۔ لیکن یہ حملہ اسرائیل کو بہت مہنگا پڑ گیا ہے۔ دوحہ پر ہونے والے حملے کے ایک ہفتے بعد ہی سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی ابھی تک پاک سعودی دفاعی معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید وہ اعتراض کرنے کی پوزیشن میں رہا بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے قطر کے دفاع کی ذمہ داری امریکہ کے پاس تھی اور وہ اس کے عوض واشنگٹن کو اربوں ڈالرز ادا کرتا تھا۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ غزہ کے مستقبل میں سعودی ارینجمنٹ اور پاکستانی کردار پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ اس مکمل تصویر میں بھی پاک سعودی معاہدے کی نہ تو اہمیت سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی انڈیا اور اسرائیل کے مقابلے صف بندی کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادت کے بڑے ناقد بھی اس معاہدے کو سراہے بغیر نہیں رہ پا رہے۔ ادھر خطے میں ایک نئی پیش رفت پر بھی نگاہیں جمی ہیں۔ صدر ٹرمپ بگرام ائیر بیس کو واپس لینے پر بضد ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے افغانستان کی طالبان حکومت کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ لیکن طالبان قیادت کو اس کے عوض جو رقم آفر کی جا رہی ہے، ذرائع بتا رہے ہیں کہ افغان حکومت اس سے تین گُنا زیادہ قیمت مانگ رہی ہے جس پر ٹرمپ نے ناراضی کا اظہار کر دیا ہے۔
آپریشن کےباوجودبلوچستان میں دہشت گردی بڑھنے کیوں لگی؟
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ صدر ٹرمپ افغانستان میں داعش کی موجودگی پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور اسی لیے انہیں بگرام ایئر بیس واپس لینے کی جلدی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ دراصل چین سے خائف ہے اور اس لیے بگرام ایئر بیس کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا کیا کردار ہو گا۔
عاصمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی امریکہ اور چین کے بعد سعودی عرب سے ’جادو کی جپھی‘ شہباز شریف اور عاصم منیر کی ’یک صفحہ پالیسی‘ کا نتیجہ ہے۔ ماضی کے مقابلے میں یہ نظام بقول خواجہ آصف کے ’ڈیلیور‘ کر رہا ہے مگر اصل محاذ معیشت کا ہے۔ صرف معاشی کامیابیاں اور ان کے اثرات ہی عوام کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے پاکستان طاقتوں کے درمیان ایک باریک رسی پر گامزن ہے تاہم پہلے کی نسبت قدموں میں مضبوطی ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اندرونی طور پر موجودہ سیٹ اپ کی مشکلات کافی کم ہو چکی ہیں۔
