آصف زرداری نے پنجاب کے دورے میں عمران کا رگڑا کیوں نکالا؟

حالیہ دورہ پنجاب کے دوران صدر آصف زرداری کا عمران خان کے خلاف غیرمعمولی جارحانہ لہجہ سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے، اور سوال کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایسا پی ٹی آئی کو ممکنہ ریلیف دلوانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے تو نہیں کیا۔
یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے جنوبی پنجاب کے حالیہ دورے کے دوران جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر مملکت نے مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان رونے دھونے کی بجائے مرد بن کر جیل کاٹیں اور اپنی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کی ہدایات نہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کو صرف دو سال قید کاٹنے کے بعد ہی تھکن محسوس ہو رہی ہے حالانکہ انہوں نے 11 برس قید میں گزارے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض رہنما بغیر قربانی دیے بڑے بڑے دعوے کرتے رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرتے رہے لیکن جب مشکل وقت آیا تو ان کی اصلیت بے نقاب ہو گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر زرداری کا یہ سخت لب و لہجہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا میں عمران خان کی بیماری کی وجہ سے ان کی ممکنہ رہائی کی قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں۔ یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور انہیں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ انکے خلاف توشہ خانہ کیس سمیت دیگر کئی مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ صدر زرداری کی یہ تنقید کسی ممکنہ مفاہمت یا ڈیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ نہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی رعایت دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم کوان کا کہنا تھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم کو کسی بھی صورت جیل سے نہیں نکالا جا سکتا۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیان کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ماضی میں الجھے ہوئے معاملات کے حل کی کوششیں ضرور ہوئیں مگر عمران خان کسی مفاہمت پر آمادہ نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان ٹرین مس کر چکے ہیں۔
ادھر پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق صدر زرداری کا پنجاب کا دورہ محض رسمی سرگرمی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔ بعض حلقے اس دورے کو ممکنہ قبل از وقت عام انتخابات کی تیاری سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر رواں سال کے اختتام یا اگلے سال کے آغاز میں انتخابات ہوتے ہیں تو صدر زرداری اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے لیے سیاسی میدان ہموار کرنا چاہتے ہیں۔
اسکے علاوہ پنجاب جو مسلم لیگ ن کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں پیپلز پارٹی اپنی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آئندہ سیاسی سیٹ اپ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
بعض مبصرین کے نزدیک صدر کا یہ دورہ اتحادی جماعت کو یہ پیغام بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں سے مکمل طور پر مطمئن نہیں۔ پلڈاٹ کے صدر اور معروف تجزیہ کار صدر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ملک میں صدر اور گورنر جیسے آئینی عہدے عملی طور پر غیر سیاسی نہیں رہ سکے، اور اکثر عہدیدار اپنی جماعتی وابستگی کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر کا پنجاب کا دورہ اور حالیہ بیانات موجودہ سیاسی توازن میں اہم اشارے رکھتے ہیں۔ صدر زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا سخت بیان جزوی طور پر تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے ان کی صاحبزادی اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری سے متعلق بیانات کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ بیک وقت صدرِ مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں، اس لیے سیاست کو ان کی شخصیت سے الگ کرنا ممکن نہیں۔
سرحد پار دہشتگردی اب برداشت سے باہرہوچکی ہے،صدرمملکت
سیاسی مبصرین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ صدر زرداری کی عمران خان پر تنقید محض جذباتی بیان نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سیاسی پیغام کا حصہ ہو سکتی ہے۔ ایک طرف اسے تحریک انصاف کی ممکنہ سیاسی پیش رفت یا ریلیف کی کوششوں کے خلاف حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اسے اتحادی سیاست میں دباؤ بڑھانے اور آئندہ انتخابی منظرنامے کی تیاری سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ بیانات کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں یا محض وقتی سیاسی درجۂ حرارت میں اضافے تک محدود رہتے ہیں۔
