ڈالرکی قیمت کم کرنےکی کوشش میں ڈالرغائب کیوں ہوگئے؟

ڈالر کی اڑان کو قابو کرنے کیلئے ریاستی اداروں کی کارروائیوں کے بعد ڈالر کی قیمت کم ہونے کی بجائے مارکیٹ سے ڈالرز ہی غائب ہو گئے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ ملک کے کئی شہروں میں خریداروں کو گھنٹوں انتظار کے بعد بھی مطلوبہ کرنسی نہیں مل رہی جبکہ منی ایکسچینجز پر ڈالر نایاب خزانے کی طرح غائب ہو چکے ہیں اور خریدار خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہیں بعض منی ایکسچینج سینٹرز نے تو کھلے عام “ڈالر دستیاب نہیں ہیں” کے بورڈ آویزاں کر دئیے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نہ صرف کاروباری طبقہ پریشان ہے بلکہ عام شہری بھی چھوٹی بڑی درآمدات یا غیر ملکی تعلیمی فیسوں کے لیے درکار ڈالر حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق مارکیٹس میں ڈالر کی قلت صرف معاشی ناکامی نہیں بلکہ اس نظام کی کمزوری کا کھلا اعتراف ہے، جہاں پالیسی سازوں کی بے بسی اور مارکیٹ مافیا کی مرضی، عوام کی جیب اور ملکی معیشت دونوں پر بھاری پڑ رہی ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈالر کی سمگلنگ روکنے، غیر ضروری درآمدات محدود کرنے اور ایکسچینج کمپنیوں پر کڑی نظر رکھنے سے کرنسی کی قیمت مستحکم ہو جائے گی۔ مگر عملی طور پر یہ اقدامات خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکے بلکہ مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کم ہونے کی بجائے ڈالر کی ہی قلت پیدا ہو گئی۔ بینکوں اور اوپن مارکیٹ کے ریٹ میں موجودہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
تاہم ترجمان سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’ملک میں ڈالر کی کسی قسم کی کوئی قلت ہے نہ ہی کوئی ایسی شکایت موصول ہوئی ہے۔ اگر کسی کو دقت کا سامنا ہے تو وہ اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے۔ مارکیٹ پوری طرح مستحکم ہے اور لین دین پر کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑا۔ حکومت کے پاس ڈالر وافر موجود ہیں۔‘
دوسری جانب کرنسی ڈیلرز کے مطابق بڑی غیر ملکی کرنسیاں بشمول امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں، کچھ کمپنیوں سے چند سو ڈالر مل رہے ہیں، لیکن زیادہ تر ڈیلرز ڈالرز کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ اگرچہ پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان سٹیٹ بنک کی طرح کرنسی کی قلت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے طلب پوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم زیادہ تر ڈیلرز ان سے اتفاق نہیں کرتے، کئی افراد کودعویٰ ہے کہ مسلسل چھاپوں کے بعد ملک میں ڈالرز کی ایک غیر قانونی متوازی مارکیٹ دوبارہ سرگرم ہو گئی ہے جہاں ڈالر ایکسچینج کمپنیز کے نرخوں سے زیادہ پر فروخت ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عام مارکیٹس میں ڈالرز کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ڈالرز کی قلت بارے ایک ایکسچینج کمپنی کے عہدیدار محمد جاوید نے بتایا کہ ’اصل میں پچھلے کچھ عرصے میں سٹیٹ بنک نے مارکیٹ سے بہت ڈالر اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اور درآمد کنندگان نے بھی ڈالر مختلف ریٹس پر اٹھارہے ہیں۔ طلب اوررسد میں فرق آنے سے کچھ شہروں میں ڈالر کی قلت پیدا ہو گئی ہے کیونکہ وہاں ڈیمانڈ زیادہ ہے اور سپلائی کم ہے۔‘
پراپرٹی مافیا پر مریم نواز کا موقف درست ہے یا جسٹس عالیہ کا؟
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ڈالر کی قلت بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں محدود دباؤ کے باوجود سرکاری پالیسی کے تحت سفر کرنے والے عام شہری، بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور دیگر جائز ضروریات پوری کرنے کے لیے کرنسی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ’مارکیٹ میں دباؤ کا اصل سبب وہ لوگ ہیں جو بغیر قانونی اجازت کاروباری مقاصد کے لیے ڈالر خریدنا چاہتے ہیں، اور یہی صورت حال اوپن مارکیٹ میں قلت کا باعث بن رہی ہے۔‘
