نوازشریف کی لمبی خاموشی پرلیگی قیادت کوبھی تشویش

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی طویل سیاسی گوشہ نشینی اور پراسرار خاموشی پر پہلے مخالفین تنقید کر رہے تھے، تاہم اب خود ان کی جماعت کے سینئر رہنما بھی اس حوالے سے آواز اٹھانے لگے ہیں۔ لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائد اور ملک کے سب سے سینیئر سیاستدان ہونے کے ناطے میاں نواز شریف کو خاموشی اختیار کرنے کی بجائے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے بھی اس ضمن میں مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کو جاتی امرا تک محدود رہنے کے بجائے کھل کر سیاسی میدان میں آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ نواز شریف جیسے تجربہ کار سیاستدان آگے بڑھیں اور ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کو کم کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
خیال رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے عمومی تاثر یہی ہے کہ تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف اب عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے جاتی امرا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ 21 اکتوبر 2023 کو پاکستان واپسی کے بعد نواز شریف نے سیاست میں ایک نئی اننگ کا آغاز کیا جو کہ قانونی فتوحات، انتخابی مہمات اور اتحادی سیاست سے بھرپور تھی۔ تاہم، الیکشن 2024 میں تحریک انصاف کی یاسمین راشد کے مقابلے میں متنازع کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے وہ عملی سیاست سے علیحدگی اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی سیاسی معاملات پر معنی خیز خاموشی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان کی سیاست اب صرف جاتی امرا تک محدود ہو چکی ہے؟ مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں میاں نواز شریف کی خاموشی، طرز سیاست اور سیاسی گوشہ نشینی پر طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بیشتر ناقدین انھیں طنز یا تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست میں نواز شریف کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کے بعد اب ان سے یہ سوال کرنا نہیں بنتا کہ وہ خاموش کیوں ہیں۔
تاہم مسلم لیگ ن کے ایک سینیئر رہنما کے مطابق نواز شریف ملکی سیاست میں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں مگر اس میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہیں کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کی بات کررہی ہے مگر اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے بانی عمران خان مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ ’وہ حکومت سے سیاسی مکالمہ شروع ہی نہیں کرنا چاہتے بلکہ اب بھی صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے پر بضد ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اس حوالے سے اپنا کردار تب ادا کریں جب عمران خان کی طرف سے بھی سیاسی مکالمے کے لیے مثبت جواب دیا جائے۔ جب مذاکرات کی پیشکش پر عمران خان کی جانب سے الزامات کی بوچھاڑ کی جائے گی تو مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سامنے کیسے آئیں گے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قریبی سمجھے جانے والے سینیئر تجزیہ کا سلمان غنی کے بقول نواز شریف پی ٹی آئی قیادت سے بات چیت اور مذاکرات کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کسی کی بات نہیں مانیں گے۔ سلمان غنی کے مطابق نواز شریف مثبت مذاکراتی عمل کیلئے لچک دکھانے کو بھی تیار ہیں، وہ پہلے بھی بنی گالہ گئے تھے، اب بھی وہ اپنا سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر اصل مسئلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے رویے کاہے کیونکہ عمران خان اب بھی لیگی قیادت کو چور گردانتے ہیں اور ان سے کسی قسم کے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔
شریف خاندان کے قریب خیال کیے جانے والے معروف تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق، نواز شریف کی واپسی پارٹی کی ضرورت تھی، لیکن ان کی مفاہمتی پالیسی نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں کبھی عمران خان کھڑے تھے۔ بنیادی وجہ یہ بنی کہ الیکشن 2024 سے پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ دوسری جانب شہباز شریف پہلے ہی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے، ایسے میں نواز شریف کی جگہ بنتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ مزید مشکل یہ آن پڑی کہ نواز شریف کا الیکشن رزلٹ بھی متنازع ہو گیا جس کے بعد وہ وزارت عظمی کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔
مریم نواز سے میچ پڑنے کے بعد جسٹس عالیہ کی تبدیلی کا امکان
تاہم سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو یہاں تک تو قبول کرتی ہے کہ وہ ملک میں رہیں، پارٹی کی قیادت کریں، پارٹی کو ہدایات جاری کریں لیکن لیڈنگ رول کے لیے میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول نہیں ہیں۔ اسی لیے 8 فروری کے الیکشن کے بعد شہباز شریف اور مریم نواز کو آگے لایا گیا ہے، ہاؤس آف شریف میں نواز شریف کی جگہ نہیں بن پا رہی، نواز شریف اگر کوئی قائدانہ کردار ادا کرتے بھی ہیں تو انہیں اپنے گھر کے اندر سے مشکلات کا سامنا ہوگا، دوسرا انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماجد نظامی کے بقول موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں میاں نواز شریف کی حیثیت خاندانی بزرگ کی ہے تاہم ملک میں رائج ہائبرڈ نظام میں نواز شریف کے سیاسی افکار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے پاس نہ تو انتظامی طور پر کوئی طاقت ہے، اور نہ ہی ان کے پاس ایسے کوئی اختیارات موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ وہ پاکستانی سیاست میں کوئی کردار ادا کریں تو انہیں کہیں سے کوئی مثبت جواب ملے گا، مسئلہ سیاست میں کردار کا نہیں، مسئلہ ہائبرڈ نظام کا ہے۔‘ جونواز شریف کے سیاسی میدان میں کھل کر کھیلنے کے سخت خلاف ہے۔
ناقدین کے مطابق نواز شریف پاکستانی سیاست میں ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جاتی امرا تک محدود ہونا، ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے انحراف، اور عوامی رابطے کی کمی نے نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا وہ پاکستانی سیاست میں دوبارہ فعال کردار ادا کر پائیں گے یا ان کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔
