ٹرانسفر ہونے والے تین ججز کو عمرانڈو کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جن تین ججز کا دیگر ہائی کورٹس میں تبادلہ کیا گیا ہے انہیں تحریک انصاف سے وابستگی کی بنیاد پر جوڈیشل حلقوں میں عمرانڈو ججز قرار دیا جاتا تھا۔ یہ لوگ اُن چھ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کو ایک خط میں خفیہ اداروں پر عدالتی امور میں مداخلت کرنے اور ججز پر دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ تین جج حضرات تحریک انصاف سے اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ایسے فیصلے دے رہے تھے جس سے عدلیہ کی ساکھ مجروح ہو رہی تھی۔ یاد رہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کرنے والا فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین عمراندار ججوں کی دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دے دی ہے جس پر تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اس اجلاس کے دو شرکا اور کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر اور علی ظفر نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ججز کی ’مرضی کے بغیر‘ انتظامیہ نے انھیں ’بدنیتی‘ سے دوسری عدالتوں میں ’بطور سزا‘ ٹرانسفر کر دیا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان ججز کے تبادلے حکومت نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر سربراہی تین کے مقابلے میں نو ووٹوں کی اکثریت سے کیے ہیں۔ اس حوالے سے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری نے آئین کے آرٹیکل 175 اے کی شق (22) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے طلب کیا کیونکہ کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی نے کُل ارکان کے ایک تہائی کی دی گئی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ چیف جسٹس نے خود بھی اس ٹرانسفر کی مخالفت کی۔
یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلوں کی منظوری دی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان تبادلوں کی منظوری اکثریتی رائے سے دی گئی۔ یہی جج فروری 2025 میں اُن پانچ ججوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے اُس وقت جسٹس ڈوگر کے ممکنہ تبادلے کی باقاعدہ مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری آئینی طریقۂ کار اور عدالتی روایات کی خلاف ورزی ہو گی۔ اس کے باوجود، جسٹس ڈوگر کو 13 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقرر کر دیا گیا۔
اس کے اگلے روز حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں تمام ججوں کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم پانچ جج، جن میں اب ٹرانسفر کیے جانے والے تینوں جج بھی شامل تھے، نے تقریب میں شرکت نہیں کی اور اس کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سینیئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کے اختیارات نمایاں طور پر کم کر دئیے گئے، جو اس سے قبل اہم فیصلہ سازی کے امور میں مرکزی کردار رکھتے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی، جو پہلے چیف جسٹس، سینیئر ترین جج اور ایک سینیئر جج پر مشتمل تھی، اسے تبدیل کر کے چیف جسٹس ڈوگر اور ان کے دو نامزد ججوں پر مشتمل کر دیا گیا، جس سے عدالت میں فیصلہ سازی کے اختیارات کا توازن نمایاں طور پر بدل گیا۔
اس کے بعد جسٹس ڈوگر نے 8 جولائی 2025 کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھایا، اور ان پانچ سینیئر ججوں کو، جنھوں نے ان کے تبادلے کی مخالفت کی تھی، مختلف اہم کمیٹیوں سے الگ کر دیا گیا۔ گذشتہ سال ستمبر میں ان پانچ ججوں نے سپریم کورٹ میں مشترکہ طور پر متعدد درخواستیں بھی دائر کی تھیں، جن میں بینچوں کی تشکیل، روسٹر، اور مقدمات کی منتقلی جیسے معاملات پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات ہونے والے بابر ستار سنہ 1975 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ انھوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ قانون کی ڈگری کے بعد انھوں نے بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔ 2006 میں ہائی کورٹ اور 2017 میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر انرول ہوئے اور ٹیکس و کارپوریٹ لا میں مہارت رکھتے ہیں۔
اسی طرح جسٹس محسن اختر کیانی فروری 1970 میں اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت اور کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا۔ انہوں نے 1995 میں وکالت شروع کی، 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکیل بنے اور 2014-2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ 2015 میں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے ٹرانسفر ہونے والی خاتون جج جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ سپریم کورٹ کی وکیل بھی رہ چکی ہیں۔ وہ 2004 سے وکالت کر رہی ہیں اور “امتیاز لا” کے نام سے اپنی لا فرم بھی قائم کر چکی ہیں۔ اے لیولز کے بعد انہوں نے امریکن یونیورسٹی دبئی سے بزنس ایڈمنسٹریشن جبکہ بعد ازاں رچمنڈ یونیورسٹی ورجینیا سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 2007 میں ہائی کورٹ اور 2019 میں سپریم کورٹ کی وکیل کے طور پر رجسٹر ہوئیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ بزنس لا کے ایک کورس نے انہیں قانون کے شعبے میں آنے کی ترغیب دی۔
